خصوصی تحریر:جاوید چوہدری
یونان کے بادشاہوں نے شاعروں ٗ ادیبوں ٗ دانشوروں اور فلسفیوں کے لئے ایک خوبصورت بستی آباد کی ٗ یہ پہاڑوں کے دامن میں دریا کے کنارے ایک دلفریب اور پرامن بستی تھی ٗ بستی میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے پر آسائش مکان تھے اور ان مکانوں میں اس دور کے تمام بڑے فلسفی ٗ دانشور اور شاعر رہتے تھے ٗ اس ساری بستی کا نان نفقہ بادشاہ وقت کی ذمہ داری ہوتی تھی ٗ بادشاہ نے شاعروں کے نان نفقے کیلئے بستی سے پانچ میل دور باغ لگوادئیے ٗ کھیت اور فارم ہاؤسز بنوادیئے اور پورے یونان سے غلام اکٹھے کرکے ان باغوں اور ان کھیتوں میں آباد کر دئیے ٗ یہ غلام دانشوروں کی بستی کے لئے پھل ٗ پھول ٗ سبزیاں اور اناج اگاتے تھے ٗ یہ ان کے لئے جانور پالتے تھے اور ان دانشوروں کے لئے دودھ ،دہی اور شہد کا بندوبست کرتے تھے ،دانشوروں کی بستی اور غلاموں کے گھروں کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا ٗ یہ پہاڑ کھیت کھلیانوں ٗ غلاموں اور جانوروں کے شور کو دانشوروں سے دور رکھتا تھا ٗ اس بستی کے قوانین بھی انوکھے تھے، اس بستی میں صرف خوبصورت غلام اور کنیزیں داخل ہوسکتی تھیں ۔اس بستی میں کوئی بیرونی شخص جوتا پہن کر داخل نہیں ہو سکتا تھا ٗ کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو کر اس بستی کے قریب سے نہیں گزر سکتا تھا اور اس بستی میں کوئی فوجی اور کوئی تاجر داخل نہیں ہو سکتا تھا ٗ یہ امن ٗ دانش اور فکر کی بستی تھی اور اس بستی میں اپنے وقت کے پانچ ہزار فلسفی ٗ شاعر اور دانشور رہتے تھے ٗ حکومت نے ان دانشوروں کو معاش ٗ سیاست اور اندیشوں سے آزاد کررکھا تھا ٗ ان لوگوں کا صرف ایک ہی کام ہوتاتھامطالعہ ٗ غور و فکر اور شعر کہنا ٗاس بستی کے بارے میں یونان کے تمام بادشاہوں نے آپس میں یہ سمجھوتہ کررکھاتھا وہ اپنی جنگوں میں اس بستی اور اس بستی کے باسیوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔
اس بستی کا نام ’’ایلیا‘‘ تھا، یہ بستی سن ایک میں زلزلے کے ہاتھوں برباد ہو گئی لیکن اس کے آثار آج بھی اولمپیا شہر کے قریب موجود ہیں ٗ پاکستان کے معروف شاعر ’’جان ایلیا‘‘ نے اپنا تخلص ’’ایلیا ‘‘اسی بستی سے مستعار لیاتھا ۔یونان کے بادشاہوں نے ایلیا نام کی یہ بستی کیوں بسائی؟ یہ سوال آج کے دور میں سوال نہیں رہا ٗ انسان کی دس ہزار سالہ تاریخ نے طویل غور و فکر کے بعد ثابت کردیا ،وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ خصوصی صلاحیتوں سے نوازتا ہے،خدا جنہیں غور و فکر اور تخلیق کی قدرت بخشتا ہے ٗ وہ لوگ عام روزمرہ کے کام نہیں کر سکتے ٗ وہ دفترنہیں جا سکتے ٗ وہ دکانوں پر نہیں بیٹھ سکتے ،وہ فیکٹریاں نہیں لگاسکتے، وہ پلاٹوں کی خرید و فروخت نہیں کر سکتے ٗ وہ معاش کی فکروں میں مبتلا نہیں رہ سکتے اور وہ بچے نہیں پال سکتے ٗ تاریخ نے ثابت کردیا ذہنی طور پر بالغ اور ذرخیز لوگوں کو یکسوئی اور معاشی فراغت درکار ہوتی ہے‘ یہ لوگ خوبصورت ماحول اور مسائل سے آزاد زندگی چاہتے ہیں چنانچہ اس وقت کے بادشاہوں نے یونان کو ارسطو ٗ سقراط ٗ بقراط ٗ فیثا غورث ٗ دیوجانس کلبی اور ہومر جیسے تخلیق کار دینے کیلئے ’’ایلیا‘‘ نام کی بستی آباد کر دی لہٰذا اس کا یہ نتیجہ نکلا آج ہم جدید علوم کے جس بھی شعبے کی جڑیں تلاش کرتے ہیں توہم یونان کے دروازے پر آ نکلتے ہیں‘ہمیں اس علم کی بنیادیں یونان کے کھنڈروں میں ملتی ہیں۔ تاریخ نے ثابت کردیادنیا کو شاعروں ٗ ادیبوں ٗ فلسفیوں ٗ مصوروں اور سائنس دانوں سے محبت کا گریونان نے سکھایا لہٰذا روم کی تہذیب ہو ٗ ایران کی تاریخ ہو ٗ بابل اور نینواکے باغات ہوں ٗ فرعون کا دربار ہو یا قرطبہ کا تخت ہو ہر دور کے سمجھدار بادشاہوں اور مہذب معاشروں نے اپنے شاعروں ٗ اپنے ادیبوں ٗ اپنے فلسفیوں اور اپنے مصوروں کی اسی جذبے کے ساتھ خدمت کی ٗ قرطبہ میں شراب پر پابندی تھی لیکن شاعروں اور ادیبوں پر حد نافذ نہیں ہوتی تھی ٗ عبدالرحمان الداخل نے قرطبہ کے یہودیوں کو شہر سے بے دخل کر دیا تھالیکن جب دو یہودی فلسفی شہر چھوڑنے لگے تو وہ ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور جب تک ان فلسفیوں نے اپنا سامان نہ کھول دیا وہ اسی طرح ہاتھ باندھے کھڑا رہا، امیر تیمور جب کسی شہر پر حملہ کرتا تھا تو وہ اس شہر کے تمام عالموں ٗ شاعروں ٗ ادیبوں ٗ دانشوروں اور فلسفیوں کو امان دے دیتا تھا، وہ شہر فتح کرنے کے بعد ان تمام لوگوں کو اپنے آبائی شہر ’’سبز‘‘منتقل کر دیتا تھا اور اس کے بعد پوری زندگی ان کو وظیفہ دیتا تھا، شاعر اور ادیب پروری کا یہ سلسلہ ہندوستان میں بھی جاری رہا ٗ مغل بادشاہ اپنے وقت کے نامورشاعروں ٗ ادیبوں اور فلسفیوں کو وظیفے دیا کرتے تھے ٗ 1857ء میں جب مغل سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اس وقت بھی بہادر شاہ ظفر مرزا اسد اللہ غالب ٗ ابراہیم ذوق اور سرسید احمد کو وظیفے دیتا تھا ٗ شاعر پروری کی یہ روایت نوابوں کے درباروں میں بھی موجود تھی ٗ رام پور کے نواب غالب کو 200 روپے ماہانہ وظیفہ دیتے تھے جبکہ نواب آف بھوپال ہرمہینے علامہ اقبال کو رقم بھجواتے تھے، میر تقی میر لکھنؤ کے دربار سے وابستہ تھے ، میر انیس نے اپنی کتاب نوابین کی معاونت سے تخلیق کی تھی اور انگریز ہندوستان کے تخلیق کاروں کو شمس العلماء اور سر کے خطاب دے کر فکر معاش سے آزاد کر دیاکرتے تھے۔
امریکہ یونان کے بعد دوسرا ملک ہے جس نے شاعروں ٗ ادیبوں اور فلسفیوں کی خدمت کو سٹیٹ پالیسی بنا یا ٗ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ پی ایچ ڈی، سب سے زیادہ ادیب ، شاعر، دانشوراور مصورامریکہ میں ہیں اوران تمام لوگوں کا شمار خوشحال لوگوں میں ہوتا ہے ٗ امریکہ دنیا بھر کے باصلاحیت لوگوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف دیتا ہے ،وہ انہیں فیملی سمیت امریکہ بلاتا ہے، جب یہ لوگ تعلیم مکمل کر لیتے ہیں تو امریکہ ان لوگوں کو بھاری مشاہیر پرنوکری دیتا ہے ٗ اس نے تھنک ٹینک کے نام سے ایک ایسا سسٹم بنا رکھا ہے جو اپنے وقت کے تمام اعلیٰ دماغوں کو ریسرچ ٗ مقالے ٗ پالیسی اور لیکچر کی آڑ میں بہت اچھا معاوضہ دیتے ہیں ٗ ان لوگوں کی ادب پروری کا یہ عالم ہے یہ سکھوں کی تاریخ پر کتاب لکھنے کے لئے خوشونت سنگھ کو پانچ سال تک گھر بٹھا کر تنخواہ دیتے رہتے ہیں اوریہ لوگ قرآن مجید اور اسلامی تاریخ پر ریسرچ کرنے کے لئے مسلمانوں کووظائف دیتے ہیں ٗ ان لوگوں کی ادب پروری صرف حکومت تک محدود نہیں، ان لوگوں نے اسے ایک معاشرتی عادت بنا دیاہے ٗ آج امریکہ میں جب کوئی کتاب شائع ہوتی ہے تو امریکہ کے لاکھوں شہری قطاروں میں لگ کر یہ کتاب خریدتے ہیں۔ لوگ ہرسال نوبل ٗ پلٹزر اور بُکرایوارڈز کی شکل میں ادیبوں اور شاعروں کو اربوں روپے دیتے ہیں ٗ یہ سب کیوں ہے؟ یہ ادب ٗ فلسفے اور تحقیق کوزندہ رکھنے کا بہانہ ہے ٗ یہ لوگ جانتے ہیں اگرانہوں نے ادیب شاعر اور تخلیق کار کو معاش کی فکر سے آزاد نہ کیا تو معاشرہ تخلیقی جوہراور فکری کلچر سے محروم ہو جائے گا لیکن جب ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے اس ملک میں جتنا محروم دانشور ہے اتنا محروم شاید ہی کسی شعبے کا کو ئی کارکن ہو، اس ملک کا ادیب ، شاعر اور دانشور تمام عمر زندگی کی چکی میں پستا اورضرورتوں کی ہانڈی میں ابلتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی کتابیں ، اس کی ساری عمر کی تخلیقات اس کے کفن تک کے پیسے پورے نہیں کرتیں، میں نے ایک باراس ملک کے آخری بڑے تخلیق کار احمد ندیم قاسمی صاحب سے پوچھا تھا پاکستان نے آج تک عالمی سطح کا کوئی شاعر ، کوئی ادیب پیدا کیوں نہیں کیا تو انہوں نے مسکراکر جواب دیا کیونکہ ہمارا شاعر پوری زندگی چولہے اور رکابی سے آزاد نہیں ہوتا ٗان کی بات میرے دل میں کھب گئی‘ ہم کتنے بدنصیب لوگ ہیں ہمارے ملک میں بھکاری تک خوشحال ہوتے ہیں لیکن ادیب ٗ شاعر ٗ فلسفی اور تخلیق کاروہ نسل ہوتی ہے جو اپنی جائز ضرورتوں تک کو ترستی رہتی ہے، معاشرہ ان کے ساتھ جذام کے مریضوں جیسا سلوک کرتاہے۔میں نے سوچاالمیہ دیکھئے اس ملک میں احمد ندیم قاسمی جیسی ہستی90 سال کی عمر میں بھی فکر معاش سے آزاد نہ ہو سکی‘ انہیں ادب کی 70 سال تک خدمت کے بعد بھی چیک کا انتظاررہتا تھا ٗ وہ آخری وقت تک نوکری کے دکھ میں مبتلا تھے اورانہیں مضمون لکھنے کا معاوضہ پانچ سو روپے ملتا تھا ٗ یہ بات ثابت کرتی ہے، ہم لوگ یونان کے باسیوں سے پانچ ہزار سال پیچھے ہیں۔ یونان کے لوگ ہم سے کہیں سولائزڈ اور مہذب تھے۔
ایلیا ,یونان کے بادشاہوں نے شاعروں ادیبوں ‘دانشوروں اور فلسفیوں کےلئے ایک الگ کیوں بسائی گئی؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































