امریکا کے سیاہ فاموں کو حقوق اسی بہادر خاتون کے باعث ملےاس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی قوت کے اظہار کے لئے دھرنا دینامؤثر حکمت عملی ہے مگر اب دھرنے اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ یہ اس لئے بھی غیر مقبول ہو چکے ہیں کہ ان سے رائے عامہ میں کوئی تبدیلی آہی نہیں سکتی۔ ان دھرنوں سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں پھر جب خواص دھرنوں پر بیٹھتے ہیں تو عوام ان دھرنوں کے کلچر کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دھرنے میں طاقت نہیں ہوتی لگن اگرسچی ہو اور مقصد اگر دل کی گہرائیوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف احتجاج ہو صرف شہرت کا حصول یا میڈیا کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ نہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ دھرنے کے ذریعے غیر ممکن کو ممکن نہ بنایا جا سکے۔
روزاپارکس وہ لڑکی جس نے تنہا دھرنا دے کر اس دور کی دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد سپرپاور یعنی امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اس نے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں ایک ایسی تاریخ رقم کی جس پر عقل آج تک حیران ہے۔
یہ اس دورکی کہانی ہے جب انسانی حقوق کے احترام کے لحاظ سے امریکا کا شمار دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتا تھا جلد کی رنگت سے اس بات کا فیصلہ کیا جاتا تھا کہ یہ شخص کسی عزت اور احترام کے لائق ہے یا سیاہ فام ہونے کے باعث اس قابل بھی نہیں کہ اسے گوری رنگت کے حامل لوگوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں۔ ہاں یہ وہ دور تھا جب جلد کی رنگ کے باعث امریکا میں سیاہ فام انسانوں سے زیادہ اہمیت گوروں کے کتوں کو دی جاتی تھی سمجھا یہ جاتا تھا کہ کالوں کا کام صرف گوروں کی خدمت کرنا ہے اور وہ اسی لئے پیدا ہوئے ہیں اور انہیں اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہئے۔ ایسے امتیازی قوانین وضع کئے گئے جن کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ نفرتوں کے نسل درنسل تسلسل کو قانونی تحفظ اور دوام بخشا جا سکے۔ ان امتیازی قوانین میں سے منٹگمری میں منظور ہونے والا ایک شہری قانون تھا جو1900ء میں منظور ہوا تھا۔ اس شہری قانون میں پبلک مقامات پر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نسلی بنیاد پر جداگانہ سلوک کو قانونی تحفظ دیاگیا اور کسی کالے کا کسی گورے کے ساتھ بیٹھنے پر اصرار کرنا ایسا جرم قرار دیاگیا جس پر قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔روزاپارکس اس بدنام زمانہ سیاہ قانون کے منظور ہونے کے تین سال کے بعد یعنی 4فروری1913ء کو امریکی ریاست البامہ میں پیدا ہوئی تھی نسلی اعتبار سے اگرچہ اس کے آباؤ اجداد میں سے ایک سکاٹش آئرش تھے مگر اس کی پردادیوں میں سے ایک بنیادی طورپر ایک مقامی امریکی گھرانے میں غلام تھی۔ لہٰذا روزا پارکس سمیت آنے والی تمام نسلیں حقارت کے قانون کا شکار تھیں جن میں سے ایک بسوں کا سفر بھی تھا منٹگمری کے کالے قانون کے تحت ہر بس کی کم از کم اگلی چار قطار کی دس نشستیں گوروں کے لئے مخصوص تھیں یعنی اگر خالی بھی ہوں تو اس پر کسی کالے کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی لیکن اگر وہ دس نشستیں پر ہو جاتیں تو بس ڈرائیور کو اختیار تھا کہ وہ گورے لوگوں کی مخصوص نشستوں میں اضافہ کردے یعنی ان مخصوص نشستوں کے بالکل پیچھے کی نشستوں کو گورے سیکشن میں شامل کردے۔ اول تو وقت کے ساتھ ساتھ کالے خود ہی وہ سیٹیں خالی کر دیتے تھے ورنہ ڈرائیور کو کہنا پڑتا تھا کہ یہ سیٹیں خالی کردو۔ اگر کوئی ڈرائیور کی سنی ان سنی کردے تو ڈرائیور گورے سیکشن کی حدود کی نشاندہی کرنیو الی تختی کو پچھلی نشستوں پر منتقل کر دیتا تھا۔جو اس بات کا اعلان تھا کہ اب قانون بھی حرکت میں آ چکاہے۔ کوئی کالا قانون کی خلاف ورزی نہ کرے اب کالوں کو سیٹ خالی کر دینی چاہئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر عقبی نشستوں کے پاس جگہ ہے تو وہا ں جا کر کھڑے ہو جائیں ورنہ اتر کر دوسری بس کا انتظار کریں۔
یکم دسمبر1955ء کو42سالہ روزاپارکس بس میں سفر کررہی تھی ٗ وہ گورے سیکشن کے عقب میں کالوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ گورے صاحبان کی تعداد بڑھنے پر ڈرائیور نے گورے سیکشن کی تختی منتقل کی اور روزاپارکس اور اس کے ساتھ بیٹھے تین دیگر کالوں کو سیٹیں خالی کرنے کا حکم دیا ‘ان تینوں کالوں نے تو سیٹ چھوڑ دی مگرروز روز کی توہین سے روزاپارکس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اس نے سیٹ خالی کرنے سے انکار کر دیا جب میں ٹکٹ خرید کر کالوں کے سیکشن میں بیٹھی ہوں تو اپنی سیٹ کیوں خالی کروں؟ میں اسی سیٹ پر دھرنا دوں گی روز ا نے کہا۔۔۔ کب تک؟ ڈرائیور نے پوچھا؟ جب تک پولیس مجھے گرفتار کر کے جیل نہ بھیج دے میں اپنا دھرنا جاری رکھوں گی ۔اسے کئی کالوں نے بھی اس بے وقوفی سے باز رکھنے کی کوشش کی کچھ نے اپنی سیٹ بھی دینا چاہی مگر روزاپارکس مصرتھی کہ بس بہت ہو گئی روز روز کی بے عزتی اب یہ فیصلہ ہو ہی جانا چاہئے کہ صرف رنگت کی بنیاد پر ہر وقت اور ہر جگہ کالوں کی اتنی توہین کیوں کی جاتی ہے۔ روزاپارکس نے بس میں اس نشست پر ایک محدود وقت یعنی اپنی منزل تک دھرنا دینے کا اعلان کر کے قانون کی حاکمیت کو چیلنج کر دیا۔ چنانچہ پولیس بلوائی گئی جس نے اسے پولیس سٹیشن لے جا کر پہلے تمام انگلیوں کے نشانات لے کر اور اس کے گلے میں ملزم نمبر7053 کی تختی ڈال کر اس کاابتدائی مجرمانہ ریکارڈ تیار کیااور اگلے دن اسے عدالت میں پیش کر دیا جہاں اسے جرمانے کی سزا دی گئی۔ روزاپارکس کی اس جرات نے پسے ہوئے مظلوم لوگوں کو ایک نیا حوصلہ دیا وہ جوپہلے دل میں سوچتے تھے پھرمل کے سوچنے لگے کہ یہ تو ہین آخر کیوں؟ یہ توہین آخر کب تک ؟ کمیونٹی نے مل کرفیصلہ کیا کہ اتنی تذلیل سے بہتر ہے کہ5دسمبر1955ء کو جس دن روزپارکس کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا کوئی بھی کالامنٹگمری کی کسی بس میں سفر نہیں کرے گا ٗ ہینڈ بل تقسیم ہوئے اور بائیکاٹ سو فیصد کامیاب رہا۔ بزرگوں اور بچوں کو ٹیکسی والوں نے بس کے کرائے پر منزل پر پہنچایا اور نوجوانوں نے بیس بیس میل تک پیدل سفر کیا مگر بس کا بائیکاٹ کیا اس کامیاب بائیکاٹ کی روشنی میں آئندہ حکمت عملی پرغور کرنے کیلئے منٹگمری ایمرومنٹ ایسوسی ایشن بنائی گئی۔ اس تحریک کے پرجوش عہدیداروں میں ایک غیر معروف اور مٹنگمری میں نووارد نوجوان بھی شامل تھا جسے آج دنیا مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کے نام سے جانتی ہے ایسوسی ایشن نے دو بڑے فیصلے کئے پہلا تو یہ کہ امتیازی سلوک کے خلاف بسوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا ایک طرف تو منٹگمری میں بسوں کا بائیکاٹ381دن تک جاری رہا تو دوسری طرف روزا کی مدعیت میں اس قانون کے خلاف مقدمہ دائر کر دیاگیا۔ بالآخر جدوجہد رنگ لائی اور نومبر1956ء کو امریکی سپریم کورٹ نے امتیازی قانون کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا۔ یہ روزاپارکس کی بہت بڑی کامیابی تھی جس کے لئے اس نے بہت قربانی دی تھی۔ منٹگمری میں اس کیلئے اور اس کے شوہر کے لئے ملازمت کا حصول مشکل ہو گیا تھا کیونکہ لیڈروں کو عزت تو مل سکتی ہے مگر معمولی ملازمت نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ روزاپارکس کو امریکا میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی اولین لیڈر تسلیم کرلیاگیا۔ وہ بس جس میں روزاپارکس نے دھرنا دیا تھا تاریخی ورثہ قرار پائی جسے دیکھنے اوراس سیٹ پر بیٹھنے کیلئے جس پرروزاپارکس نے دھرنادیا تھا کنڈر گارڈن کے بچوں سے لے کر صدر امریکا تک آنے لگ گئے روزاپارکس کو ایک گورے امریکی صدر کلنٹن کے ہاتھوں سے امریکاکا تمغہ آزادی ملا اور24اکتوبر2005ء کو جب 92سال کی عمر میں روزاپارکس کا انتقال ہوا تو اس کی میت کاآخری دیدار کرنے کے لئے لوگ دو دن تک آتے رہے۔ آج روزاپارکس کو اس دنیا سے گئے کئی برس بیت چکے مگر روزاپارکس کے ا قوال کو انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے لئے مشعل راہ سمجھتی ہیں ۔
روزاپارکس کسی عورت کا نام نہیں بلکہ انسانی حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کے جذبے کا نام ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگ جب ناانصافی اور زیادتی کا شکار ہوتے ہیں تو یقیناًہم پر جھنجھلاہٹ طاری ہوتی ہے مگر خاموشی ہی میں مصلحت سمجھتے ہیں اپنے اندر موجود روزاپارکس کو تھپک تھپک کر سلا دیتے ہیں مگر یاد رکھیے اپنے حقوق پر سمجھوتا کرنا اور ظالم کے ظلم پر خاموش رہنا دراصل ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔
امریکا میں انسانی حقوق‘ جدوجہد کی اولین لیڈر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































