کیا تھا۔ ہیرا سیلون کا نام بھی اسی سے ماخوذ ہے‘ جنگ نیل سمیت کئی جنگیں بھی خلیج ابو قیر پر ہی لڑی گئیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ہیراسیلون کے تمام راز آشکار کرنے کیلئے مزید دو سو برس مسلسل عرق ریزی کرنا ہو گی۔ اس گمشدہ مصری شہر کی تباہی کی وجوہات تو ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سمندر کی سطح میں اچانک بے تحاشہ اضافہ شہر کے خاتمے کا سبب بنا یا پھر ریت اور مٹی سے بنی اس سرزمین پر زلزلے کے نتیجے میں بڑی بڑی عمارات تباہ و برباد ہو کر سمندر میں جا ملیں۔ اس شہر کی باقیات آج بھی زیر سمندر دیدہ عبرت نگاہ بنی ہوئی ہیں۔



















































