سمندر سے ملنے والے باقیات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ شہر نہ صرف بین الاقوامی تجارتی مرکز تھا بلکہ ممکنہ طور پر ایک مذہبی مرکز بھی رہا ہوگا۔ تحقیق کے مطابق یہ شہر بحیرہ روم اور نیل کے درمیان تجارت کے غرض سے بھی ایک لازمی بندرگاہ کے طور پور اپنی خدمات انجام دیتا رہا ہے۔

گمشدہ شہر سے مختلف مذہبی نمونے بھی ملے ہیں‘ سولہ فٹ کا پتھر سے بنا مجسمہ‘ شہر کے مرکز میں واقع مندر اور سولہ فٹ کے دیوقامت مجسمے کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے چھوٹے مجسمے بھی دریافت کیے گئے ہیں جو اس شہر کے باسیوں کے معبودمعلوم ہوتے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک ان نمونوں کی دریافت کسی خزانے سے کم نہیں تو ان کا اتنا عرصہ محفوظ رہنا بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ چونے کے



















































