یہ غلام بیس برس تک اس فرعونی ظلم و ستم کو برداشت کرتے رہے اور ان بیس برسوں میں کتنے ہی مزدور بچپن سے جوانی‘جوانی سے بڑھاپے اور زندگی سے موت کی منازل طے کرگئے‘ ان فراعین مصر نے لافانی بننے اور اپنی ممی یا لاش کو ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھنے کیلئے قاہرہ کے قریب صحراؤں میں بلند و بالا اہرام تعمیر کروائے۔ اپنی خوبصورتی اور کاریگری کی وجہ سے ان اہرام مصر کو عجائبات عالم میں پہلا درجہ حاصل ہے ‘اہرام مصر فراعنہ کے تہہ خانوں میں فرعون کی نعشیں اور ان کا قیمتی سازو سامان دفن ہے۔ خوفو‘مینکارا‘اور خافرہ کے اہرام دنیا کے مشہور ترین اہرام ہیں۔ کوفو کا اہرام 13ایکڑ رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔ ابتداء میں اسکی بلندی 482فٹ اور 450فٹ کے درمیان تھی اس کی چوڑائی قریباً 755 مربع فٹ ہے اور اس کی تعمیر میں اڑھائی ٹن وزنی 2300000چوکور پتھر کے ٹکڑے استعمال کئے گئے ان پتھروں کی جسامت 40کعب فٹ ہے۔ اہرام مصر کی بنیاد چوکور مگر پہلو تکونے ہیں۔ یہ تکونیں اوپر جا کر ایک نقطہ پر مل جاتی ہیں۔ آج تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اس زمانے میں جب اتنی ترقی نہ تھی۔ اور مشینوں اور کرینوں کا بھی استعمال نہ تھا تو کاریگروں اور مزدوروں نے کون سا طریقہ استعمال کرکے پتھروں کو اتنی بلندی تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان اہرام مصر کی تعمیرآج تک انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے۔
2800ق م میں تعمیر ہونے والے قدیم عجائبات عالم میں سے یہ واحد تعمیرہے۔ جس کے نشان ابھی تک موجود ہیں۔ اہرام مصر کی منفرد طرز تعمیر اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح مصرکا رخ کرتے ہیں اور اہرام مصر کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں
‘الغرض دنیا کے اس منفرد خوبصورت اور قدیم ترین عجوبے نے آج بھی پوری دنیا کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے اور ہزاروں صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی بڑے کروفراور شان شوکت کے ساتھ قاہرہ کے قریب صحراؤں میں ایستادہ ہیں۔ کبھی زندگی موقع دے تو اس عجوبے کو اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھیں کیونکہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا؟



















































