ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

سکندر اعظم : فاتح عالم کی زندگی کے چند دلچسپ باب

datetime 16  دسمبر‬‮  2015 |

بغاوت کر دی جو دس سال سے اپنے وطن‘ خاندان اور قبیلہ سے دور تھے ۔ ایک قدم بھی اٹھانے کے روادار نہ ہوئے۔ سکندر بادل نخواستہ واپسی پر رضا مند ہوا۔ خشکی کے راستے دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے ایران سے بابل جا پہنچا تو شدید بخار میں مبتلا ہو گیا اور اگلے تین دن کے اندر اس میں چلنے کی سکت باقی نہ رہی ۔ اس کی علالت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس کے جرنیل عیادت کیلئے آئے تو ملاقات سے معذرت کر لی۔ کچھ دن صبر کے گھونٹ پئے اور پھر بے اختیار ہو کر جوق در جوق اس کی خواب گاہ میں داخل ہو گئے۔
ان کا آقا‘ ان کا دیوتا‘ ان کا مربی‘ان کا حکمران ‘ مقدونیہ کا بادشاہ‘ فاتح عالم جس کے ایک اشارہ آبرو پر انسان سجدہ ریز ہو جاتے تھے‘بے بسی و بیچارگی کے عالم میں بے رحم موت کے آگے سرنگوں ہو چلا تھا۔ اس کی یہ کیفیت اس سے قبل کبھی نہ دیکھی گئی۔ تندوتیز آندھیوں میں چٹان کی طرح مضبوط سکندران کے سامنے بے بسی و بے چارگی میں بستر مرگ پر پڑا اپنے جرنیلوں کے سلام کا جواب دینے سے بھی قاصر تھا۔ اس کی پتلیوں نے حرکت کی ‘ جرنیلوں نے اس کو آخری سلام پیش کر دیا۔

سکندر تین سو تئیس قبل مسیح میں بابل کے شہر میں واقع بخت نصر کے محل میں سفاک موت سے ہار گیا۔ اس وقت اس کی عمر بتیس سال اورآٹھ ماہ تھی۔ سکندر نے داراکی دختر’’استاتیرہ‘‘ سے بھی شادی کی تھی اور اسکے بعد جلد ہی ایک چھوٹی ریاست کے حکمران اوگزرٹس کی بیٹی رخسانہ کو بھی اپنے حرم میں لے آیا جس سے اسکے فوت ہونے کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا لیکن تین سو دس قبل مسیح میں دونوں ماں بیٹے کو قتل کر دیا گیا۔ کہتے ہیں سکندر سے کسی نے پوچھا ’’چھوٹی عمر میں دنیا کیسے مفتوح کر لی‘‘؟۔اس نے کہا ۔۔۔! ’’دشمنوں کو مجبور کیا کہ میرے ساتھ دوستی کر لیں اور دوستوں کو یہ جسارت نہ دی کہ میرے ساتھ دشمنی مول لیں۔‘‘دارا کی ہلاکت کے صرف چار سال بعد سکندر بھی موت کے آ ہنی شکنجے میں آگیا۔ دونوں کی عظیم الشان ریاستیں ان کی موت کے بعد ایک ساتھ منہدم ہو گئیں۔ سکندر نے وصیت کی تھی کہ میرے دونوں ہاتھ تابوت سے باہر نکال دئیے جائیں تا کہ دنیا والے دیکھ سکیں کہ فاتح خالی ہاتھ جا رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…