بغاوت کر دی جو دس سال سے اپنے وطن‘ خاندان اور قبیلہ سے دور تھے ۔ ایک قدم بھی اٹھانے کے روادار نہ ہوئے۔ سکندر بادل نخواستہ واپسی پر رضا مند ہوا۔ خشکی کے راستے دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے ایران سے بابل جا پہنچا تو شدید بخار میں مبتلا ہو گیا اور اگلے تین دن کے اندر اس میں چلنے کی سکت باقی نہ رہی ۔ اس کی علالت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس کے جرنیل عیادت کیلئے آئے تو ملاقات سے معذرت کر لی۔ کچھ دن صبر کے گھونٹ پئے اور پھر بے اختیار ہو کر جوق در جوق اس کی خواب گاہ میں داخل ہو گئے۔
ان کا آقا‘ ان کا دیوتا‘ ان کا مربی‘ان کا حکمران ‘ مقدونیہ کا بادشاہ‘ فاتح عالم جس کے ایک اشارہ آبرو پر انسان سجدہ ریز ہو جاتے تھے‘بے بسی و بیچارگی کے عالم میں بے رحم موت کے آگے سرنگوں ہو چلا تھا۔ اس کی یہ کیفیت اس سے قبل کبھی نہ دیکھی گئی۔ تندوتیز آندھیوں میں چٹان کی طرح مضبوط سکندران کے سامنے بے بسی و بے چارگی میں بستر مرگ پر پڑا اپنے جرنیلوں کے سلام کا جواب دینے سے بھی قاصر تھا۔ اس کی پتلیوں نے حرکت کی ‘ جرنیلوں نے اس کو آخری سلام پیش کر دیا۔
سکندر تین سو تئیس قبل مسیح میں بابل کے شہر میں واقع بخت نصر کے محل میں سفاک موت سے ہار گیا۔ اس وقت اس کی عمر بتیس سال اورآٹھ ماہ تھی۔ سکندر نے داراکی دختر’’استاتیرہ‘‘ سے بھی شادی کی تھی اور اسکے بعد جلد ہی ایک چھوٹی ریاست کے حکمران اوگزرٹس کی بیٹی رخسانہ کو بھی اپنے حرم میں لے آیا جس سے اسکے فوت ہونے کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا لیکن تین سو دس قبل مسیح میں دونوں ماں بیٹے کو قتل کر دیا گیا۔ کہتے ہیں سکندر سے کسی نے پوچھا ’’چھوٹی عمر میں دنیا کیسے مفتوح کر لی‘‘؟۔اس نے کہا ۔۔۔! ’’دشمنوں کو مجبور کیا کہ میرے ساتھ دوستی کر لیں اور دوستوں کو یہ جسارت نہ دی کہ میرے ساتھ دشمنی مول لیں۔‘‘دارا کی ہلاکت کے صرف چار سال بعد سکندر بھی موت کے آ ہنی شکنجے میں آگیا۔ دونوں کی عظیم الشان ریاستیں ان کی موت کے بعد ایک ساتھ منہدم ہو گئیں۔ سکندر نے وصیت کی تھی کہ میرے دونوں ہاتھ تابوت سے باہر نکال دئیے جائیں تا کہ دنیا والے دیکھ سکیں کہ فاتح خالی ہاتھ جا رہا ہے ۔



















































