مضمحل بادشاہ فرار سے انکاری ہو گیا۔ بسوس آپے سے باہر ہوا تو خنجر کے پے در پے وار کر کے دارا کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا ۔ سکندر جائے مقتل پر پہنچا تو شہنشاہ فارس کی لا59ش بے یارومدد گار بیل گاڑی میں پڑی تھی۔ سکندر نے اپنی سفید چادر اتار کر دارا کے اوپر ڈال دی ۔ تمام شاہی رسومات کے ہمراہ دارا کو دفنایا گیا جس میں اس کی والدہ‘ بیٹیوں اور بیویوں نے شرکت کی ۔ فارس 327قبل مسیح میں مفتوح ہوا تو وسیع البنیاد کیانی سلطنت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
فارس کی فتح کے تھوڑے عرصے بعد سکندر پر انتہائی پریشان کن وقت آیا۔ جب اس کا بچپن کا ساتھی اور رضائی بھائی کلائٹس جو انتہائی نامساعد حالات میں سکندر پر اٹھنے والی برچھیوں اور برسنے والے تیروں کے سامنے ڈھال بن جاتا تھا۔ ایک سرمئی شام بہت پی گیا۔ نشے میں دھت سکندر کے سامنے آ گیا جو دیوتازیوس کیلئے جانوروں کی قربانی دے رہا تھا۔کلائٹس نے جام زور سے زمین پر پٹخ دیا اور غصے میں بولا ۔ ’’تمہاری قربانیاں انسانوں کے بہائے خون کا معاوضہ نہیں بن سکتیں۔دیوتا تم سے خوش نہیں ہو سکتے۔تم اورتمہاری سپاہ خون آشام بھیڑئیے ہو۔‘‘انسان سچ سننے کا روادار نہیں ہوتا ۔ سامنے والا حکمران ہو تو سچائی کو اپنی رسوائی سمجھتا ہے ۔ سکندر اس جذباتی لمحہ پر قابو نہ پا سکا اور فاتح دوستی کے امتحان میں مفتوح ہو گیا۔ قریب کھڑے سپاہی کی برچھی پر ہاتھ ڈالا اور اگلے لمحہ کلائٹس کے سینہ سے خون کا فوارہ بلند ہوا تو تڑپتے ہوئے دم توڑ دیا۔ اس کے بعد سکندر نڈھال ہو گیا۔ بچپن سے جوانی تک کی رفاقتیں و معرکے ستانے لگے ۔ پہلی بار اپنی اذیتوں کا شکار ہوا۔ ہزاروں لاشوں کے درمیان جس نے سسکاری نہ بھری تھی آج اسکی آنکھیں پانی چھوڑ رہی تھیں۔ اس منظر سے پورا لشکر بھی سوگوار ہو گیا۔ اسے کھانے پینے کا ہوش نہ رہا۔ تین دن بعد اس کے دو جرنیل ایرسٹانڈراور انگزازطس اس کے خیمے میں داخل ہوئے تو سکندر لاغر ہو چکا تھا۔ اس کی مسلسل روتی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔ انہوں نے اسے تسلی و تشفی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔! ’’کلائٹس کی موت اس کے ارادے سے نہیں بلکہ دیوتاؤں کی مرضی سے انجام پذیر ہوئی ہے کیونکہ دیوتا جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں اور دیوتا کسی کے خواہش کے احترام میں اپنے ارادوں کو نہیں بدلتے۔‘‘سکندرکو بمشکل خیمے سے باہر کھلی فضا میں لے آئے۔اب سکندر مشرق کی طرف متوجہ ہوا تو کوہ ہندوکش کو عبور کر کے پاکستان کے علاقے سوات سے ٹیکسلا آیاجس کے حکمران راجہ امبھی نے سکندر سے مقابلہ کے بجائے اس کا شاندار استقبال کیا اور خاطر تواضع کی لیکن صرف چار سال بعد اس خطہ کے نئے حکمران چندر گپت موریا نے سکندر کی سپاہ کو شکست دے کر انہیں ٹیکسلا سے نکال دیا۔
ٹیکسلا کو زیرِ نگیں کرنے کے بعد سکندر جہلم کی طرف روانہ ہوا تو اس کے حکمران راجہ پورس سے مڈبھیڑ ہو گئی لیکن راجا کی افواج اپنے ہی ہاتھیوں کی بھگدڑ سے شکست کھا گئی ۔ پورس گرفتار ہو کر سکندر کے سامنے لایا گیا۔ تو اس نے برملا کہا! ’’تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔‘‘ پورس کا پر اعتماد جو اب آیا! ’’وہی سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں‘‘۔ سکندر اس جواب سے انتہائی مسرور ہوا۔’’’پورس کا جہلم واپس لوٹا دیا‘‘۔ اس کی اگلی منزل ہندوستان تھی تو فوجوں نے



















































