ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

سکندر اعظم : فاتح عالم کی زندگی کے چند دلچسپ باب

datetime 16  دسمبر‬‮  2015 |

ہر کسی کو باعزت زندگی گزارنے کا پیدائشی حق حاصل ہے۔‘‘ سکندر کو بہترین قیادت اور فن تقریر کے گُر سے بھی روشناس کروایا۔ اس نے استاد کے سنہری اصولوں کو کبھی فراموش نہ کیا۔ مقدونیہ کی گردونواح میں چھوٹی بڑی ریاستوں میں بغاوتیں پھوٹ پڑیں۔ سکندر نے ان بغاوتوں کو سرد کرنے کیلئے چڑھائی کر دی۔ ان کی املاک کو تباہ و برباد کر کے انہیں نذر آتش کر دیا۔ کچھ مدت بعد مقدونیہ کے بحربیکراں میں سکون پیدا ہوا تو یونان کے وسیع اتحاد کی طرف متوجہ ہوا۔ سکندر جو فاتح عالم کی تربیت سے روشناس ہوا تھا۔ اپنے مقاصد عظیم کو پانے کیلئے کمر بستہ ہوا۔ اپنی ماں کو ایک جرنیل کی زیر نگرانی سلطنت کے امور تفویض کئے اور خود پانچ ہزار گھڑ سوار اور تیس ہزار پیدل کے ساتھ دنیا کو فتح کرنے چل پڑا۔البتہ استاد ارسطو نے ہمرکاب ہونے سے اجتناب کیا ۔ انسانوں کا خون ارزاں نہیں تھا کہ مفکر اسے ندی نالوں کے پانی کی طرح بہتے ہوئے دیکھتا۔سکندر نے روانگی سے بیشتر اہل مقدونیہ کو دعوت عام دی ۔
ایک درویش صفت فلسفی دیو جانس کلبی کے علاوہ سب حاضر ہوئے ۔ سکندر خوشی کی تقریب کو دوبالا کرنا چاہتا تھا ۔ وہ فلسفی کے پاس پہنچ گیا جو سردی میں دھوپ سینک رہا تھا ۔ سکندر گویا ہوا۔ ’’میں آپ کی خدمت کر نا چاہتا ہوں۔‘‘ درویش فلسفی فی البدیہ بولا! ’الیگزینڈر ذرا دھوپ چھوڑدو۔ ‘سکندر ایک لمحہ کے اندر مضطرب ہوا۔ بادشاہ کوفقیر ملنے سے انکار کر دے تو بادشاہ دوکوڑی کا نہیں رہتا۔ خواہ وہ فقیر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ یہی حال سکندر کا ہوا مگر یہ حقیقت اس پر منکشف ہوئی۔ کلبی جیسے درویشیوں کو سلطنت‘ حکمرانی اور طاقت مرغوب نہیں کر سکتی۔اس کی کٹیا سے واپس ہو گیا۔ کلبی جو پہلے راہب تھا پھر فلسفی ہوا ۔ ایک جلتا چراغ اس کے ہاتھ پہ رہتا تھا۔ کسی بھی شخص کے پاس جا کر سر گوشی میں گویا ہوتا ۔ ’’مجھے انسان کی تلاش ہے۔ سورج کی روشنی میں نظر نہیں آتا۔ شاید چراغ کی لو میں نظر آجائے۔‘‘ کہتے ہیں۔۔۔کلبی دال کھا رہا تھا کہ کسی درباری نے لقمہ دیا! ’’اگر بادشاہ کی تعریف کرتے تو دال نہ کھاتے‘‘۔ اس نے برجستہ جواب دیا۔’’ اگر تم دال کھا لیتے تو کسی بادشاہ کی کاسہ لیسی نہ کرتے۔ ‘‘
جب سکندر اپنی افواج کے ساتھ درہ دانیال پہنچا تو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…