سکندرِ اعظم اپنے استاد ارسطو کی تعریف میں رطب اللسان ہے ۔ ’’ارسطو زندہ رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہو جائیں گے مگر ہزاروں سکندر مل کر ایک ارسطو کو جنم نہیں دے سکتے۔‘‘ وہ مزید کہتا تھا۔۔۔! ’’میر اباپ وہ بزرگ ہے جو مجھے آسمان سے زمین پر لایا مگر میرا استاد وہ عظیم بزرگ ہے جو مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔‘‘
سکندر کا باپ فیلقوس مقدونیہ کا بادشاہ اور اس کی ماں اولمپیا س مقدونیہ کی ملکہ حسن و جمال کا انمول عجوبہ تھی۔ اس کا خواب تھا کہ اس کا فرزند فاتح عالم کا تاج اپنے سر سجا لے ۔ اپنے خواب کی تعبیر کو پانے کیلئے سکندر کے اساتذہ کو تلقین کی کہ علم و فلسفہ کے علاوہ اسے تمام حربی ہنر و کمالات کے جواہر سے بھی روشناس کروائیں ۔ اس نہج پر اس کی تربیت استوار ہوئی ۔ محل کے پر سکون ماحول میں اس وقت اضطراب پیدا ہو ا جب بادشاہ فیلقوس نے دوسری شادی رچالی۔ ملکہ اولمپیاس سوکن کو برداشت نہ کر سکی اور محل چھوڑ کر شہر کے باہر رہائش پذیر ہو گئی۔ البتہ ذی ہوش ملکہ نے سکندر کو محل میں سکونت پذیر ہونے کی ہدایت کی اور خود شاہی سیاست پر نظر رکھی۔ سکندر کی اپنی سوتیلی ماں اور اس کے عزیز و اقارب کے ساتھ ٹھن گئی۔ بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔ بادشاہ نے بیٹے کو زبردست ڈانٹ پلادی ۔ اوریہ کہ محل کے ایک محافظ ’’پاسنیاس‘‘ کی بادشاہ کے نئے سسر سے جھڑپ ہو گئی‘ اسے در پردہ ملکہ کی حمایت حاصل تھی‘ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ بادشاہ کوخنجر کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ شاہی محل میں مامور دیگر محافظوں نے قاتل کا کام بھی تمام کر دیا‘ بادشاہ خاک نشین ہوا تو اس کی عمر سینتالیس برس تھی۔ بازی پلٹ گئی ۔ سکندر تخت نشین ہو گیا ۔ اس وقت بیس سال کا تھا۔ محل میں سوتیلی ماں کے رشتہ داروں کو تہ تیغ کر دیا۔ سکندر نوجوان تھا اور حکمرانی کے تجربات سے نابلد۔ اس کی جہاں دیدہ ماں نے ارسطو جیسے استاد کو محل طلب کر لیا۔ اب سکندر تھا اور اس کا استاد ۔ ارسطو نے اسے سبق دیا۔۔۔’’ہر انسان خدا کا بندہ ہے اور



















































