اس میں افغانوں کو جرات مند اور بہادر اور قابض فوج کو سنگدل اور شکست یافتہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
میوزیم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل کی نسلوں کے لیے جنگ کی ہولناکی کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ملک کے درد ناک ماضی سے کچھ سیکھ سکیں۔ لیکن شاید افغانستان میں آپ کو جنگ کی ہولناکی کو سمجھنے کے لیے میوزیم جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ملک اپنے آپ سے اور غیر ملکی فوجوں سے کئی دہائیوں سے جنگ کر رہا ہے۔

اس کے اثرات ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ اور اکثر افغان کسی نہ کسی طریقے سے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔اب جب افغانستان کے متعلق مغرب کی دلچسپی ایک مرتبہ پھر کم ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے یہاں کے باسی ملک کی سلامتی اور استحکام کے متعلق ایک مرتبہ پھر حقیقی طور پر فکر مند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جہاد میوزیم کے اسسٹنٹ شیخ عبداللہ کہتے ہیں کہ ’افغانوں کے دلوں میں جنگ کا درد ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی دوبارہ ملک کو تباہ ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘



















































