شیشے کے پیچھے روسی ساخت کی اے کے۔47 جیسی بندوقیں، گولہ بارود، گرینیڈ، اور مختلف قسم کی وہ بارودی سرنگیں ہیں جن کی وجہ سے بہت سے افغان معذور ہو گئے تھے۔ اس میں رکھی گئی پینٹنگز میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح افغانوں نے سویت یونین کی فوجی طاقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وہاں جانے کے لیے آپ کو میوزیم کے ’ہال آف فیم‘ سے گزرنا پڑتا ہے جس میں دونوں طرف سرکردہ مجاہدین کمانڈروں کے پورٹریٹس لگے ہوئے ہیں۔

یہ 1980 کی دہائی کے افغان ہیرو ہیں جو اپنے ملک پر غیر ملکی قبضہ ختم کرنے کے لیے ایک ’مقدس جنگ‘ لڑ رہے تھے۔ میوزیم میں ہرات کے سابق گورنر اور با اثر جنگجو سردار اسماعیل خان کا پورٹریٹ نمایاں طور پر لگایا گیا ہے۔
عمارت کے اوپر والے حصے میں ’سٹل لائف‘ پینٹنگز میں جنگ کے خوفناک مناظر دکھائے گئے ہیں۔ آوازوں اور تصاویر سے میوزیم میں جنگ کی اندوہناکی کو زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فرش پر خون میں لت پت لاشیں پڑیں ہیں، روشنی چمکتی ہے اور آپ کو گولیاں چلنے کی آوازیں آتی ہیں، بم چلتے ہیں اور چیخیں سنائی دیتی ہیں۔




















































