
خطرات مول لینا اور جواء کھیلنے کے انداز میں نہایت چالاکی سے سرمایہ کاری کرنا بھی ان کا ایک انداز ہے لیکن کبھی وہ بے صبری اور جلد بازی میں سودا نہیں کرتے‘ اس کیلئے طویل انتظار کرتے ہیں۔ ایک بار انہوں نے ریاض میں بڑے قطعہ اراضی خریدنے کا ارادہ کیا‘ اس کے مالک نے جب دیکھا کہ پرنس جیسا سرمایہ کار اور ایک بڑی کاروباری شخصیت اس کی زمین میں دلچسپی لے رہی ہے تو اس نے خاصی ہوشربا قیمت مانگ لی۔ پرنس خاموشی سے واپس آ گئے اور انہوں نے پلٹ کر اس آدمی سے کوئی بات نہیں کی۔ کچھ دنوں بعد 1990ء میں عراق نے کویت پر حملہ کر دیا‘ پوری عرب دنیا میں ہیجان پھیل گیا‘ زیادہ تر عرب ممالک کے سربراہوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ صرف کویت تک محدود نہیں رہے گی۔ بات بہت آگے تک جائے گی۔ پرنس الولید جس کے پاس زمین خریدنے گئے تھے اس کا مالک بھی گھبرا گیا اور بھاگتا ہوا پرنس کے پاس پہنچا‘ اس نے پہلے اپنی زمین کی جو قیمت مانگی تھی اب وہ اس کی ایک تہائی رقم لینے پر تیار تھا۔ اسے شائد یہ تیسرا حصہ قیمت ملنے کی امید بھی نہیں رہی تھی کیونکہ عرب دنیا کے بیشتر ممالک میں زمین اور جائیداد کی خرید و فروخت رک گئی تھی۔ پرنس نے مالک سے یہ زمین خرید لی‘ جلد ہی جنگ بندہو گئی‘ امریکا کی مداخلت پر عراق کو کویت پر قبضہ چھوڑنا پڑ گیا اور حالات معمول پر آ گئے اور پرنس کی زمین قیمت میں اضافے کے بعد کئی گنا مہنگی ہو گئی۔ چار سال بعد پرنس نے یہی زمین فروخت کی تو اسے ملین ڈالر کا منافع ہوا۔ یہ ہے پرنس الولید اور ان کا کاروباری انداز۔ اور یہ ہے وہ سیلف میڈ شہزادہ جس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر مقام بنایا اور دنیا آج
مزید پڑھیے:مصیبتوں میں گھرے لاچار بے گھر آدمی کو اپنا کھویا ہوا بینک اکاؤنٹ مل گیا،دنیا بدل گئی
اسے امیر ترین آدمی سمجھتی ہے۔




















































