
پرنس الولید کے بارے میں کم معلومات رکھنے والے ایک طویل عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ صرف خاندانی دولت کی بنیاد پر ان کا شمار دنیا کے سب سے دولت مند افراد میں ہوتا ہے‘ انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ دولت پرنس نے خود کمائی ہے‘ اس میں شک نہیں کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ دولت مند ہیں لیکن پھر بھی بھلا خاندانی دولت اور امارت کی بنیاد پر کوئی کتنا امیر بن سکتا ہے۔ سعودی عرب میں ویسے بھی شہزادوں کی تعداد پانچ ہزار ہے‘ ان میں سے بعض صرف شاہی وظیفے پر گزارا کرتے ہیں۔ پرنس الولید نے 1989ء تک اپنی دولت کے ابتدائی ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی عرب میں ہی مختلف کاروبار کرتے ہوئے کمائے لیکن پھر وہ 1990ء میں خاصے دھماکا خیز انداز میں بین الاقوامی کاروبار کے میدان میں کود پڑے اور جلد ہی انہوں نے عالمی شہرت رکھنے والے سرمایہ داروں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اپنے تجربات کی بناء پر جلد ہی کاروبار کے سلسلہ میں تین بنیادی نکتے سمجھ لئے۔ سرمایہ کاری کے سلسلہ میں ایک خاص قسم کی ذہانت تو قدرتی طور پر ان میں موجود تھی ہی لیکن اپنی جدوجہد کے دوران انہوں نے یہ بھی سیکھا کہ دولت کمانے کا سب سے اچھا طریقہ بینک ہیں۔ سب سے زیادہ تیز رفتاری سے دولت ٹھیکوں کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی تھی اور سب سے زیادہ دولت کمانے کا ذریعہ وہ کام تھے جو آپ مقتدر حلقوں کے قریب رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ ان کی اپنی کاروباری زندگی انہی تین اصولوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ انہوں نے ابتداء میں ٹھیکیداری سے پیسہ کمایا‘ پھر تعمیرات کے کام میں ہاتھ ڈالا ‘اس کے بعد انہوں نے چھوٹے چھوٹے بینکوں کو ایک دوسرے میں ضم میں کرنا شروع کیا‘ اس راستے پر چلتے ہوئے وہ سٹی بینک تک پہنچ گئے‘ اس وقت سٹی بینک بحران کا شکار تھا جب انہوں نے اس کے چھ سو ملین ڈالر کے شیئرز خرید کر اسے سنبھالا دیا۔دنیا کے کئی بڑے سرمایہ داروں نے ان کی سرمایہ کاری کو حماقت سمجھا تھا لیکن ان کی یہ ’’حماقت‘‘ آگے چل کر ان کیلئے بے پناہ کامیابی ثابت ہوئی۔



















































