ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

محنت کے بل پر دنیا کا امیر ترین شہزادہ۔۔۔

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

593832421_c39c81655c1
پرنس الولید کے بارے میں کم معلومات رکھنے والے ایک طویل عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ صرف خاندانی دولت کی بنیاد پر ان کا شمار دنیا کے سب سے دولت مند افراد میں ہوتا ہے‘ انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ دولت پرنس نے خود کمائی ہے‘ اس میں شک نہیں کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ دولت مند ہیں لیکن پھر بھی بھلا خاندانی دولت اور امارت کی بنیاد پر کوئی کتنا امیر بن سکتا ہے۔ سعودی عرب میں ویسے بھی شہزادوں کی تعداد پانچ ہزار ہے‘ ان میں سے بعض صرف شاہی وظیفے پر گزارا کرتے ہیں۔ پرنس الولید نے 1989ء تک اپنی دولت کے ابتدائی ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی عرب میں ہی مختلف کاروبار کرتے ہوئے کمائے لیکن پھر وہ 1990ء میں خاصے دھماکا خیز انداز میں بین الاقوامی کاروبار کے میدان میں کود پڑے اور جلد ہی انہوں نے عالمی شہرت رکھنے والے سرمایہ داروں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اپنے تجربات کی بناء پر جلد ہی کاروبار کے سلسلہ میں تین بنیادی نکتے سمجھ لئے۔ سرمایہ کاری کے سلسلہ میں ایک خاص قسم کی ذہانت تو قدرتی طور پر ان میں موجود تھی ہی لیکن اپنی جدوجہد کے دوران انہوں نے یہ بھی سیکھا کہ دولت کمانے کا سب سے اچھا طریقہ بینک ہیں۔ سب سے زیادہ تیز رفتاری سے دولت ٹھیکوں کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی تھی اور سب سے زیادہ دولت کمانے کا ذریعہ وہ کام تھے جو آپ مقتدر حلقوں کے قریب رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ ان کی اپنی کاروباری زندگی انہی تین اصولوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ انہوں نے ابتداء میں ٹھیکیداری سے پیسہ کمایا‘ پھر تعمیرات کے کام میں ہاتھ ڈالا ‘اس کے بعد انہوں نے چھوٹے چھوٹے بینکوں کو ایک دوسرے میں ضم میں کرنا شروع کیا‘ اس راستے پر چلتے ہوئے وہ سٹی بینک تک پہنچ گئے‘ اس وقت سٹی بینک بحران کا شکار تھا جب انہوں نے اس کے چھ سو ملین ڈالر کے شیئرز خرید کر اسے سنبھالا دیا۔دنیا کے کئی بڑے سرمایہ داروں نے ان کی سرمایہ کاری کو حماقت سمجھا تھا لیکن ان کی یہ ’’حماقت‘‘ آگے چل کر ان کیلئے بے پناہ کامیابی ثابت ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…