جو سونا ڈاکٹر ابراہام جیبوں میں بھر کر غار سے باہر لانے میں کامیاب ہوسکا‘ اس کی مالیت چھ ہزار ڈالر سے زیادہ تھی لیکن اس رقم نے ڈاکٹر ابراہام میں اس خزانے تک پھر سے پہنچنے کی خواہش بیدار کی جو دس سال بعد والٹر کی کتاب شائع ہونے کے بعد ممکن ہوسکی۔ اس نے فرانس میں جا کر والٹر کو تلاش کیا اور اس سے وہ نقشہ حاصل کیاجس کی مدد سے اس نے غار کے اندر جانے کا منصوبہ بنایا۔ اگلا مرحلہ ایسے افراد کا جتھہ تیار کرنا تھا جو مسلح ہو اور اس کے ساتھ غار میں داخل ہو کر سونا حاصل کرنے میں اس میں مدد کرسکے لیکن وہ جتھہ قابل اعتبار بھی ہونا چاہئے کہ سونا حاصل کرنے کے بعد وہ اسے ڈاکٹر کے حوالے بھی کردے اور صرف اپنے حصے پر ہی نظر رکھے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے دو بھائیوں اور ملازموں کو اپنے ساتھ ملایا اور 1886ء کے دسمبر میں سخت سردی کے موسم میں ہر طرح سے تیار ہو کر وہ سب لوگ غار میں داخل ہوگئے۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ انہیں کسی طرح کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا جس کا ذکر والٹر نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔ تاہم وہ ہرطرح سے چوکس تھے لیکن ایک اور عجیب بات بھی ہوئی کہ غار میں نقشے کے مطابق کوئی راستہ نہیں تھا۔ یاتو والٹر نے ڈاکٹر ابراہام کو غلط نقشہ دیا تھا یا پھر اپاچی ریڈانڈینز نے نہایت چالاکی سے کام لیتے ہوئے غار میں موجود راستوں کے جال کی ترتیب تبدیل کرلی تھی۔ اس غار میں وہ راستوں میں بھٹک جانے کی وجہ سے رات بھر وہاں رکے۔ تمام رات انہوں نے جاگ کر گزاری لیکن صبح ہونے کے قریب وہ سوگئے بس یہی ان سے سب سے بڑی غلطی ہوئی جس کی انہیں بہت بھاری قیمت چکانی پڑی۔ صبح ان میں سے صرف ایک ہی فرد جو ڈاکٹر ابراہام کا چھوٹا بھائی تھا‘ زندہ بچا۔ اس نے یہ ہولناک منظر دیکھا کہ اس کے سبھی ساتھیوں کے گلے کٹے ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹر ابراہام ان میں موجود نہیں تھا۔ وہ خوف کے عالم میں واپسی کے راستے کی طرف بھاگا اور دیر تک راستوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے بعد آخر غار سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس شخص کا نام آئزک تھورنے تھا۔ وہ ایریزونا سے فرار ہوکر سیدھا کیلی فورنیا پہنچا جہاں وہ اگلے کئی سال تک خوف کے مارے خاموش رہا۔ 1899ء میں جب وہ کینسر کی وجہ سے بستر مرگ پر تھا اس نے اخبارات کے صحافیوں کو اپنے گھر مدعو کیا اور انہیں تیرا سال پہلے ایریزونا میں پیش آنے والے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کئے۔ یہ سارا واقعہ امریکا کے معروف روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں تفصیل کے ساتھ چھپا اور یوں ایک بار پھر سے ایریزونا کے سونے کے خزانے والا معاملہ میڈیا میں خوب زور و شور سے زیر بحث آیا۔ اس کے بعد نہ کبھی ڈاکٹر ابراہام کی گم شدگی کے بارے میں ہی کسی کو کچھ علم ہوسکا اور نہ صرف اس نقشے کا ہی کوئی سراغ ملا جو ڈاکٹر ابراہام کے پاس تھا اور جو اس نے پیرس میں والٹر سے حاصل کیا تھا۔



















































