1872ء میں یہ تینوں دوست اسلحہ سے لیس ہو کر غار میں داخل ہوئے۔ وہاں انہیں جو کچھ پیش آیا‘ اسے والٹر میگوئیل نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب ’Gold of Arizona‘ میں بیان کیا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ان تینوں کو کسی بھی موقع پر کوئی اپاچی ریڈانڈین دکھائی نہیں دیا۔ شاید وہ غار میں رہنے کی وجہ سے بہت شرمیلے ہوگئے تھے اور انسانوں کے سامنے آنے سے کتراتے تھے یا پھر یہ بھی ان کے عقیدے کا ایک حصہ تھا کہ اس شخص کے سامنے نہیں آنا ہے جو ان کے دیوتاؤں کی بے حرمتی کی نیت سے آیا ہو لیکن ان تینوں پر ہر طرف سے تیر مسلسل برستے رہے اور انہیں اپنے آس پاس مختلف راستوں میں ریڈانڈینز کی نقل و حرکت کا احساس ہوتا رہا۔ ان تیروں کی بوچھاڑ سے والٹر کے دونوں ساتھی گھائل ہوئے لیکن انہوں نے اپنا سفر موقوف نہیں کیا اور ایک دوسرے کی مدد سے ایسے مقام تک پہنچ گئے جہاں انہیں لگا کہ اس سے آگے سارے کا سارا پہاڑ سونے ہی کا بنا ہوا تھا کیونکہ انہیں آگے سونے کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وہاں ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا پتھر سونے ہی کا بنا ہوا تھا۔ وہ اپنے ساتھ تھیلے لے گئے تھے جن میں انہوں نے وہ پتھر بھر لیے اور واپسی کے لیے بھاگے لیکن جوں جوں وہ غار کے دھانے کے قریب پہنچے تیروں کی بوچھاڑ میں بھی اضافہ ہوا اور وہ بمشکل ایک تھیلا ہی غار سے باہر تک لا پائے ۔ جونہی وہ غار سے باہر نکلے، تیروں کی بوچھاڑ ایک دم سے موقوف ہوگئی۔جیساکہ انہوں نے پہلے سے طے کررکھا تھا انہوں نے وہ سونا آپس میں برابر تقسیم کرلیا۔ اس واقعے کے بعد والٹر میگوئل نے وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا اور فرانس میں جا کر بس گیا۔ جتنا سونا وہ اپنے ساتھ لے آیا تھا وہ اگر چہ بہت کم تھا لیکن اس کی مدد سے اس نے وہاں نئے سرے سے ایک ٹھاٹھ کی زندگی شروع کی اور فارغ وقت میں اپنی مہم سے متعلق مضامین لکھ کر اخبار میں چھپواتا رہا جو بعدازاں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔
تاہم اس خزانے سے فیض یاب ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر ابراہام تھورنے بھی شامل تھا جو 1875ء میں ایریزونا کے مضافات میں تعینات تھا اور اسے اپاچی ریڈانڈینز کے چند افراد کا علاج کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ ایک موقع پر جب اس قبیلے کا سردار اتنا بیمار ہوگیا کہ جڑی بوٹیوں سے کئے جانے والے تمام علاج بے اثر ثابت ہوئے اور اس کے زندہ رہنے کی امید باقی نہ رہی تو انہوں نے ڈاکٹر ابراہام سے رجوع کیا تاکہ اگر کوئی امکان اس سردار کو بچانے کا ہو سکے تو ڈاکٹر ابراہام کے ذریعے اسے سامنے لایا جائے۔ ڈاکٹر ابراہام نے فوراً ہی مرض کو تشخیص کرلیا۔ مریض کو ایک زہریلے کیڑے نے کاٹا تھا اور اس سے اس کے جوڑوں اور اعصاب میں اینٹھن پیدا ہوئی تھی جس سے اس کی موت یقینی معلوم ہوتی تھی۔ ڈاکٹر ابراہام نے اسے زہر رفع کرنے والے انجکشن لگائے اور خون میں زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے دوائیں دیں۔ مریض چند ہی دنو ں میں مرض کی سنگین کیفیت سے باہر نکل آیا۔ اس احسان کا بدلہ اپاچی قبیلے کو لوگوں نے ڈاکٹر ابراہام کو یوں دیا کہ اسے غار میں آنے کی دعوت دی اور اسے سونے کے ذخائر کے سامنے لاکر کہا کہ جتنا سونا وہ یہاں سے لے جا سکتا ہے‘ لے جائے۔



















































