جس پہاڑ میں یہ غار موجود تھا‘ وہ سپین کے ایک رئیس ڈون میگوئل پیرالٹا نے خریدا۔ اس نے اپاچی ریڈانڈینز کی فوج کو شکست دینے کے لیے ایک مسلح ٹولہ تیار کیا اور غار پر حملہ کردیالیکن غار کے اندر جا کر انہیں علم ہوا کہ یہ اتنی پیچیدہ ہے کہ اس میں جا کر انسان گم ہوجاتا ہے اور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپاچی قبیلے کے لوگ حملہ آوروں کو مار دیتے ہیں۔ ڈون میگوئیل بہت مشکل سے اپنی جان بچا کر نکلا۔ اس کے مسلح ٹولے میں سے کوئی کبھی غار سے باہر نہیں نکل سکا۔ ڈون میگوئل کی خزانے کی مہم کی تفصیل امریکہ کے معروف میگزین ’دی وولچرز‘ میں چھپی تو اس خزانے کی شہرت امریکا اور اس سے باہر یورپ بھر میں پھیل گئی لیکن کسی مہم جو کو پھر بھی اس غار کا رخ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
1871ء میں ڈون میگوئیل کے پوتے والٹر میگوئیل نے اپنے دو جرمن دوستوں کے ساتھ مل کر اس غار میں داخل ہونے اور خزانے تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا۔ اصل میں اس کے ہاتھ ایسی شے لگی تھی جس نے اس کی کامیابی کو غار میں داخل ہونے والے سابقہ مہم جوؤں کی نسبت زیادہ یقینی بنا دیا تھا۔ یہ شے ایک نقشہ تھا جو اس کے داد ا نے غار میں اپنی ناکام مہم جوئی کے نتیجے میں تیار کیا تھا۔ یہ حتمی نقشہ نہیں تھااور نہ ہی اس میں واضح راستوں کی نشاندہی کی گئی تھی کیونکہ یہ نقشہ یادداشت کی بنا پر تیار کیا گیا تھا اور ایک ایسے شخص نے تیار کیا تھا جسے نقشہ جات کی تیاری کے بارے میں کچھ معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی اس نقشے کو کبھی اس فن کے کسی ماہر کو دکھایا گیا تھا لیکن اس نقشے سے غار کی اندرونی ساخت اور مختلف راستوں کے بارے میں خام انداز میں قبل ازوقت علم ہوسکتا تھا اور یہی سہولت ایسی تھی جو اس سے پہلے غار میں داخل ہونے والے مہم جوؤں کو حاصل نہیں تھی۔



















































