ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

سونے کے گم شدہ خرانے

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

1890ء سے پہلے تک اس خزانے کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور تھیں لیکن کسی کو اس خزانے کے اصل مقام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ عام طور پر ایریزونا ہی کا نام لیا جاتا تھا لیکن ایریزونا تو بہت وسیع علاقہ ہے جس میں لاتعداد پہاڑ اور کھلے میدان ہیں۔ 1890ء ہی میں ایریزونا کے ریڈ انڈینز مہم جوؤں ہی نے اس غار کا سراغ لگایا۔ تب سے اب تک اس غار میں جانے والوں کی تعداد سینکڑوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں سے کم ہی زندہ لوٹے اور صرف انہی کو واپس آنا نصیب ہوا جن کو اس خزانے میں سے کچھ حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔
اس غار کی حفاظت کی ذمہ داری اپاچی ریڈ انڈینز کے قبیلے نے سنبھالی ہوئی ہے۔ ان کے لیے یہ غار ایک مقدس جگہ ہے جس کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس میں ان کے دیوتا رہتے ہیں اور اس میں داخل ہونا اصل میں دیوتاؤں کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔اپاچی ریڈ انڈینز کے قبیلے ہمیشہ ان خرانوں کی حفاظت کے لیے وہاں مامور رہتے تاکہ اپنے دیوتاؤں کے اثاثے کو لالچی لوگوں سے بچا سکیں۔ یہ قبیلے غار کے اندر ہی رہتے اور خزانے کے ہرطرف سخت ناکہ لگائے رکھتے ہیں۔ اس ناکے کو توڑنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا کیونکہ اپاچی ریڈ انڈینز کو غار کے سبھی راستوں کا علم تھا اور انہوں نے خزانے کی حفاظت کا ایسا نظام تیار کررکھا تھا جس میں سے اپنے لیے بچاؤکی صورت پیدا کرنا ممکن نہیں تھا ۔
اس علاقے میں انگریز مہم جوؤں کے آنے سے بہت پہلے ہسپانوی مسیحی راہب پہنچے جنہیں مقامی لوگوں نے اس غار کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے بھی اس غار کی حرمت کی پاس داری کی اور اس میں داخل ہونے کی غلطی نہیں کی لیکن ایسی پاسداری انگریز فوجوں اور مہم جوؤں کے لیے ممکن نہیں تھی کیونکہ ان غار کے آس پاس سونے کی بہت باریک قلمیں عام مل جاتی تھیں اور اس بات میں کسی کو شک نہیں تھا کہ سونے کا منبع غار کے اندر ہی کہیں موجود ہے۔
اولین مہم جوؤں کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے اس غار کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ بعدازاں ہسپانوی فوجوں نے جب اس علاقے کو فتح کیا تو ہسپانوی حکومت نے اس کے مختلف حصے بیچ دیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…