1890ء سے پہلے تک اس خزانے کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور تھیں لیکن کسی کو اس خزانے کے اصل مقام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ عام طور پر ایریزونا ہی کا نام لیا جاتا تھا لیکن ایریزونا تو بہت وسیع علاقہ ہے جس میں لاتعداد پہاڑ اور کھلے میدان ہیں۔ 1890ء ہی میں ایریزونا کے ریڈ انڈینز مہم جوؤں ہی نے اس غار کا سراغ لگایا۔ تب سے اب تک اس غار میں جانے والوں کی تعداد سینکڑوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں سے کم ہی زندہ لوٹے اور صرف انہی کو واپس آنا نصیب ہوا جن کو اس خزانے میں سے کچھ حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔
اس غار کی حفاظت کی ذمہ داری اپاچی ریڈ انڈینز کے قبیلے نے سنبھالی ہوئی ہے۔ ان کے لیے یہ غار ایک مقدس جگہ ہے جس کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس میں ان کے دیوتا رہتے ہیں اور اس میں داخل ہونا اصل میں دیوتاؤں کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔اپاچی ریڈ انڈینز کے قبیلے ہمیشہ ان خرانوں کی حفاظت کے لیے وہاں مامور رہتے تاکہ اپنے دیوتاؤں کے اثاثے کو لالچی لوگوں سے بچا سکیں۔ یہ قبیلے غار کے اندر ہی رہتے اور خزانے کے ہرطرف سخت ناکہ لگائے رکھتے ہیں۔ اس ناکے کو توڑنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا کیونکہ اپاچی ریڈ انڈینز کو غار کے سبھی راستوں کا علم تھا اور انہوں نے خزانے کی حفاظت کا ایسا نظام تیار کررکھا تھا جس میں سے اپنے لیے بچاؤکی صورت پیدا کرنا ممکن نہیں تھا ۔
اس علاقے میں انگریز مہم جوؤں کے آنے سے بہت پہلے ہسپانوی مسیحی راہب پہنچے جنہیں مقامی لوگوں نے اس غار کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے بھی اس غار کی حرمت کی پاس داری کی اور اس میں داخل ہونے کی غلطی نہیں کی لیکن ایسی پاسداری انگریز فوجوں اور مہم جوؤں کے لیے ممکن نہیں تھی کیونکہ ان غار کے آس پاس سونے کی بہت باریک قلمیں عام مل جاتی تھیں اور اس بات میں کسی کو شک نہیں تھا کہ سونے کا منبع غار کے اندر ہی کہیں موجود ہے۔
اولین مہم جوؤں کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے اس غار کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ بعدازاں ہسپانوی فوجوں نے جب اس علاقے کو فتح کیا تو ہسپانوی حکومت نے اس کے مختلف حصے بیچ دیئے۔



















































