ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

زلزلے کیوں آتے ہیں ؟

datetime 26  اکتوبر‬‮  2015 |

پاکستان میں پیرکے روزآنے والے زلزلے کے نتیجے میں شدید تباہی آئی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹرسکیل پرا س کی شدت 8.1ریکارڈکی گئی جس کی وجہ سے سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبرپختونخوامیں آئی جبکہ ملک کے دیگرحصوں میں بھی زلزلے سے نقصان پہنچااس سے قبل 2005میں پاکستان میں پہلے بھی ایک زلزلہ آیاتھاجس کی ریکٹرسکیل پرشدت تو7.8تھی لیکن اس زلزلے کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اس کے بعد زلزلے کے نقصانات کوکم کرنے کے لئے عالمی سطح سے امداد بھی ملی اوراقدامات بھی کئے گئے تاہم پیرکے روزآنے والے زلزلے نے پھرتباہی مچادی نسلِ انسانی کی ابتدا سے ہی زلزلے کو ایک ایسی آفت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے جس سے بچائو کی تمام تر تدابیر رائیگاں رہی ہیں۔سائنس دان بھی کوئی ایسا طریقۂ کار دریافت نہیں کرسکے جس کے ذریعے یہ پیش گوئی کی جاسکے کہ کب کوئی زلزلہ آئے گا؟ زلزلے کو صرف ایک قدرتی آفت ہی تصور نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے بہت سے توہمات بھی وابستہ ہیں، جیسا کہ کچھ ثقافتوں میں یہ یقین پایا جاتا ہے کہ بُری ارواح نے زمین پر دستک دی ہے اور ایسی ہی بہت سی روایات زبان زدعام رہی ہے لیکن ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سائنسی تحقیقات کی رو سے زمین پر اس وقت ’’لرزہ‘‘ طاری ہوتا ہے جب زیر زمین ارضی پلیٹس اپنے مقام سے سرکتی ہیں۔ یہ ایک ایسی تباہی ہے جس میں ایک لمحہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور شہروں کے شہر تباہ ہوسکتے ہیں۔ ایک زلزلے کے بعد بہت سارے آفٹر شاکس آتے ہیں جن کی شدت قدرے کم ہوتی ہے اور اکثر اوقات یہ بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ آفٹر شاکس چند روز سے لے کر کئی برسوں تک جاری رہ سکتے ہیں لیکن اس کا انحصار زلزلہ کی شدت پر ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایسی بہت سی قدرتی آفات نے تباہی مچائی ہے جن کو زلزلے کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے، جیسا کہ 2004ء میں سونامی کی لہروں نے ہندوستان، تھائی لینڈ اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساحلی علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیایا 2005ء میں پاکستان میں آنے والا زلزلہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنا۔ 1930ء کی دہائی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے باعث جب اس کا غلاف چٹختا ہے تو زلزلہ آتا ہے۔ کچھ دوسرے ماہرین نے یہ استدلال پیش کیا کہ زمین کے اندرونی حصے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے جس کے باعث بے پناہ حرارت پیدا ہوتی ہے اور زمین میں بھونچال پیدا ہوتا ہے۔بہرحال ان تمام تر نظریات سے قطع نظر اب سائنس دان اس امر پر متفق ہوگئے ہیں کہ زمین کی بالائی پرت اندرونی طور پر مختلف پلیٹوں میں منقسم ہے۔ جب زمین کے اندرونی کُرے میں موجود پگھلے ہوئے مادّے جنہیں علمِ ارضیات کی زبان میں میگما Magma کہتے ہیں، میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے تو یہ پلیٹیں ایک دوسرے کی جانب سرکتی ہیںیا پھر ان کا درمیانی فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ زلزلہ یا آتش فشانی عمل زیادہ تر ان علاقوں میں رونما ہوتا ہے، جو ان پلیٹوں کیقرب میں واقع ہیں۔ ارضی پلیٹوں کی حالت میں فوری تبدیلی سے سطح میں دراڑیں یا فالٹ Fault نمایاں ہوتے ہیں جن میں پیدا ہونے والے ارتعاش سے زلزلہ آتا ہے۔ زیرِزمین جو مقام میگما کے دبائو کا نشانہ بنتا ہے، اسے زیر مرکز یا Hypocenterکہتے ہیں اور اس کا بالائی مقام یا زلزلے کا مرکز Epicentre کہلاتا ہے۔زلزلوں سے پیدا ہونے والی تباہی کا براہِ راست تعلق اس کی ریکٹر سکیل پر شدت، فالٹ یا دراڑوں کی نوعیت، زمین کی ساخت اور تعمیرات کے معیار پر ہے۔ اگر زلزلہ سمندر کی تہہ میں آئے تو ا س سے تند و تیز لہریں پیدا ہوتی ہیں جو ساحلی علاقوں میں زبردست تباہی مچاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر زلزلے زیر سمندر ہی آتے ہیں۔ دنیا میں تین فالٹ لائنز ہیں جہاں پر عموماً زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ اولین فالٹ لائن ہندوستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے افغانستان، ایران اور پھر ترکی سے گزرتی ہوئی براعظم یورپ میں یوگوسلاویہ سے فرانس تک جاتی ہے۔دوسری فالٹ لائن براعظم شمالی امریکا کی مغربی ریاست الاسکا کے پہاڑی سلسلے سے شروع ہوکر جنوب کی طرف میکسیکو سے گزر کر لاطینی امریکہ کے ممالک کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو سے چلّی تک پھیلی ہوئی ہے۔تیسری فالٹ لائن جاپان سے شروع ہوکر تائیوان ، فلپائن، برونائی، ملائیشیاء اور انڈونیشیا تک جاتی ہے۔جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں ذکر ہوا کہ کوئی سائنس دان یہ پیش گوئی نہیںکرسکتا کہ کب کوئی زلزلہ آئے گا، چناں چہ یہ ممکن نہیں کہ کسی زلزلہ سے چند گھنٹوں یا ایام قبل لوگ ممکنہ طور پر متاثرہ علاقے سے ہجرت کرجائیں۔ چناں چہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ہی زلزلوں سے ہونے والے نقصانات پر قابو پایا جاسکتا ہے، جیسا کہ جاپان میں زلزلے آنا معمول ہے لیکن اہل جاپان نے تعمیرات کرتے ہوئے اس پہلو کو پیشِ نظر رکھا ہے کہ ریکٹر سکیل پر شدید ترین زلزلہ سے بھی کم سے کم جانی و مالی نقصان ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…