اب ذرا ایک انٹرسٹنگ پارٹ، 16 جولائی 1946 کو کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں کاروائی کی گئی جس میں 91 افراد قتل ہوئے جس میں 28 برطانوی، 41 عرب، 17 یہودی اور 5 دوسرے افراد شامل تھے۔ یہ حملہ مناخم بگین کی سربراہی میں ہوا تھا جسے بعد میں برطانیہ کا دہشت گرد نمبر ون کہا گیا، بعد میں اسی دہشتگرد نمبر ایک کو امن کا نوبل انعام ملا اور یہی دہشت گرد نمبر ایک اسرائیل کا وزیرِ اعظم بھی بنا۔ حیرت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مسلمان تھا؟
ہٹلر نے 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا، فلسطینی مسلمانوں نے ان کو پناہ دی جس کا صلہ یہ ملا کہ یہودیوں نے فلسطینیوں کو ان کی اپنی سر زمین سے نکال باہر کیا اور اب جب وہی فلسطینی اپنا ہی گھر واپس مانگتے ہیں تو وہ دہشت گرد اور شدت پسند ہیں۔
سپین میں، جہاں اللہ اکبر کا نعرہ مار کر حملہ کرنے والوں کو مسلمان کہا جا رہا ہے وہیں ای ٹی اے نامی ایک دہشت گرد تنظیم نے دہشت گردی کے 36 حملے کئے وہ مسلمان نہیں تھے۔ افریقہ میں مشہور دہشت گرد تنظیم جس کا نام لارڈز آف سیلویشن آرمی ہے جو نو عمر بچوں کو دہشت گرد کاروائیوں کے لئے استعمال کرتی ہے اور وہ سب عیسائی ہیں۔
آج مسلمانوں پر خود کش حملوں کا نام آتا ہے جبکہ سری لنکا کے تامل ٹائگرز نے اس کا رواج عام کیا اور انہوں نے چھوٹے بچوں کو خود کش حملوں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔
۔1984 میں بھارتی سکیورٹی فورسس نے سکھوں کے گولڈن ٹیمپل میں کارروائی کی جس میں 100 سے زائد افراد کو قتل کیا گیا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کا قتل ہوا، یہاں ایک طرف ہندو تھے اور ایک طرف سکھ، بھارت میں سکھوں کی تنظیم بھندروالہ ان کاروائیوں میں مشہور ہے۔ صرف بھارت میں یْو ایل ایف اے نامی تنظیم اتنی مشہور ہے کہ اس نے 1990ء سے 2006ء تک کامیابی سے 749 حملے کئے لیکن میڈیا بھارت کے خلاف ہونے والی کشمیری کاروائیوں کے بارے
میں چیختا ہے جبکہ یہ بھول جاتا ہے کہ خود بھارتی حکومت کے مطابق اس کے 600 اضلاع میں سے 150 میں مائیوئیسم کی تنظیمیں کام کرتی ہیں۔



















































