ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر بلیک ہولز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی بڑا ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر ایک بڑے دھماکے سے پھٹتا ہے۔ اس دھماکے کو ‘‘سپر نووا’’ کہا جاتا ہے۔ اس سپر نووا کے نتیجے میں ستارے کا بڑا حصہ خلا میں بکھر جاتا ہے۔ باقی رہ جانے والا حصہ بالکل ٹھنڈا ہوتا ہے جہاں فیوژن کا عمل نہیں ہو سکتا۔اس ٹھنڈے حصے میں کشش کی قوت بڑھتی جاتی ہے‘ جس کے نتیجے میں اس کا حجم کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور کثافت بڑھنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب ستارے کا حجم گھٹتے گھٹتے صفر ہو جاتا ہے اور کثافت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہاں سے روشنی کا اخراج بھی ممکن نہیں رہتا۔ اپنی زندگی کے اختتام پر جب کوئی ستارہ ایسی حالت کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو بلیک ہول کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس حالت میں وہ ستارہ ایسے پراسرار سوراخ کی مانند ہوتا ہے جس کی کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
بلیک ہولز کی جسامت بہت کم ہوتی ہے‘ مثال کے طور پر سورج کے برابر کمیت رکھنے والے بلیک ہول کا نصف قطر صرف تین کلو میٹر ہوگا۔ تاہم کائنات میں انتہائی بڑے بلیک ہولز بھی پائے جاتے ہیں جن کی کمیت 100 ارب ستاروں کے برابر ہو سکتی ہے۔ یہ چھوٹے بلیک ہولز کے مشابہ ہی ہوتے ہیں تاہم ان میں بہت زیادہ مقدار میں مادے کی موجودگی کی وجہ سے ان کی جسامت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ نیز ان میں مادے کی مقدار کی زیادتی کی وجہ سے کشش بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے بڑے بڑے بلیک ہولز مختلف کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جاتے ہیں۔ ماہرین فلکیات نے کئی برسوں کی تحقیق کے بعد ہماری کہکشاں کے مرکز میں بھی ایسا ہی ایک بلیک ہول دریافت کیا ہے۔
تاہم کائنات کے اس عجیب ترین مظہر کے بارے میں کھوج مسلسل جاری ہے۔ نئی تحقیق اور نظریات کے مطابق بلیک ہولز اندازے سے بھی زیادہ عجیب ہیں۔



















































