اس مثال سے ظاہر ہے کہ اگر طریقہ کار بدل دیا جائے تو جوئے کو باآسانی معاشرتی طور پر قابل قبول بنایا جاسکتا ہے۔ رہا مذہب کا سوال تو مذہبی اعتبار سے معیوب اور بھی بہت سی چیزیں سوسائٹی میں چل ہی رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے کے بہت سے ذہین کاروباری لوگ اس راز سے واقف ہیں۔ ان کے طریقہ واردات کو بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ جوئے کے اصل فلسفے کو بیان کردیا جائے۔ جوئے میں صرف قسمت کی بنیاد پر بہت سے لوگ رقم لگاتے ہیں۔ جن کی قسمت یاوری کرتی ہے انہیں اپنے حصے سے کہیں زیادہ رقم مل جاتی ہے جبکہ باقی لوگوں کی رقم ڈوب جاتی ہے۔
اب وہ کاروباری لوگ جنہیں میڈیا کے ذریعے سے عوام کے بہت بڑے گروہ تک رسائی حاصل ہے‘ میڈیا اور کمیونی کیشن کی جدید سہولیات کا فائدہ اٹھا کر انعام کے نام پر عوام الناس کو جوئے میں شریک کرلیتے ہیں۔ اس عمل میں راتوں رات امیر بن جانے کے خواہشمند کسی ایسے سوال کا جواب‘ ٹیلیفون کے ذریعے دیتے ہیں جس میں پانسہ پھینکنے سے زیادہ محنت اور صلاحیت درکار نہیں ہوتی۔ مثلاً پاکستان کے کتنے صوبے ہیں؟ یہ فون کال عام نرخ سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ یہ گویا اس ’جواری‘ کی لگائی ہوئی رقم ہوتی ہے جو ’جوئے خانے‘ والے وصول کرتے ہیں۔ میڈیا کی وسیع تشہیر کی بنا پر لاکھوں ’جواریوں‘ کی لگائی ہوئی اس رقم میں سے کچھ حصہ انعام کے نام پر بذریعہ قرعہ اندازی جیتنے والے چند ’جواریوں‘ میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ جبکہ بقیہ رقم ’جوئے خانے‘ والوں کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ رقم کم ہونے کی بنا پر ہارنے والوں کو بھی دکھ نہیں ہوتا اور وہ ہر دم نیا پانسہ پھینکنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس امید پر کہ کبھی نہ کبھی تو قسمت ان پر مہربان ہوگی۔
یہ ہے دورِ جدید کا ہمارا جواء جس میں انعامی مقابلے کے نام پر خالق اور مخلوق دونوں کو تکنیکی طور پر مطمئن کرنے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ مگر ہر صاحب بصیرت جانتا ہے کہ نئی بوتل میں یہ وہی پرانی شراب ہے۔ نام بدل دینے سے جوئے کی روح ختم نہیں ہوئی لیکن آخرت فراموشی اور دنیا پرستی کے اس دور میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ایسی باتیں سوچے۔ اللہ کا ہر حکم ہمارے فائدے کے لیے ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرکے ہم آخرت ہی نہیں بلکہ اپنی دنیا کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ کاش یہ بات لوگ اس وقت کے آنے سے پہلے سمجھ لیں جب سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔پاکستان میں جواری اکثر جوئے میں اپنے بیوی ‘بچوں اور والدین کو بھی ہار دیتے ہیں ‘اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی گروی رکھ دیتے ہیں۔ اگر کوئی جیت بھی جائے تو یہ لت اسے نشے کی طرح لگ جاتی ہے اور وہ کنگال ہونے تک اس لت میں گرفتار رہتا ہے۔



















































