آپ اپنی بہن یا بیٹی کی شادی کے لیے پریشان ہیں اور کوئی آپ کو ایک ایسے رشتے کے بارے میں بتائے جو ہر اعتبار سے موزوں اورہم پلہ ہو تویقیناً آپ بہت خوش ہوں گے لیکن بات چیت کے دوران میں اگر آپ کو علم ہوجائے کہ لڑکا جواری ہے تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ بلاشبہ آپ کی خوشیوں پر اوس پڑجائے گی۔ آپ اگر اس سوسائٹی کے ایک نارمل شخص ہیں تو فوراً اس رشتہ سے انکار کردیں گے۔ خواہ اس کے بعد اپنی بچی کو مزید کچھ عرصے کے لیے گھر میں بٹھا کر رکھنا پڑے۔
آپ ایسا کیوں کریں گے؟ اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے۔ جواء ہمارے ہاں ایک مذہبی گناہ بلکہ اس سے بڑھ کر ایک شدید درجے کی معاشرتی برائی ہے۔ اس کے ایک مذہبی اور سماجی عیب ہونے پر معاشرے میں دو آراء نہیں پائی جاتیں۔ مگر جوئے کے حوالے سے مجھے ایک دلچسپ تجربہ اس وقت ہوا جب میں اٹلانٹک سٹی گیاجو امریکا میں لاس ویگاس کے بعد جوئے کا دوسرا بڑا اڈا ہے۔یہاں بنائے گئے جوئے خانے ہمارے روایتی تصور سے بالکل مختلف ہیں۔ جوئے خانے کے نام سے ہمارے ذہن میں بدمعاشوں کا ایک ایسا اڈہ آتا ہے جہاں جوئے کی باطنی خباثت وہاں کے تنگ و تاریک ماحول سے پوری طرح عیاں ہوتی ہے۔ مگر امریکا کے یہ جوئے خانے حسن تعمیر‘ رنگ و روشنی اور آرائش و زیبائش میں بادشاہوں کے عالیشان محلات کو بھی پیچھے چھوڑدیتے ہیں۔ میرے جیسے لوگ جواء کھیلنے نہیں صرف ان جوئے خانوں کودیکھنے کے لیے دوردور سے کشاں کشاں چلے آتے ہیں۔ وہاں کے ظاہر ی ماحول کی بنا پر جوئے سے وابستہ نفرت اور برائی کا ہر تاثر ذہن سے نکل جاتا ہے اور جب تک مذہبی حوالوں سے جوئے کی برائی ذہن میں تازہ نہ کی جائے‘ اس کی شناخت کا کوئی تاثر دل و دماغ پر نہیں بیٹھتا۔



















































