فلسفے کا حا صل ہاتھ:اس ہاتھ کے نام کی اخترا ع یو نانیوں کی ہے۔ جب یو نانیوں نے ہاتھ کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو انھوں نے دیکھا کہ ہر وہ شخص جس کے ہاتھ کی ساخت اس طرح کی تھی وہ ذہنی طور پر فلسفے کی طرف بڑا مائل تھا۔ فلسفے کا حامل ہاتھ لمبا ‘ ہڈیاں ابھری ہو ئی اور انگلیوں کے جوڑ گرہ دار ہو تے ہیں ۔ اس ہا تھ والے لو گ بڑے محنتی ہو تے ہیں ۔ یہ لو گ مطالعہ کے بڑے شوقین اورادب میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ لوگ تنہائی پسند بھی ہو تے ہیں شاید اسی وجہ سے مذہبی طبیعت کے ہو تے ہیں ۔جدید زمانے میں بھی اس قسم کے لوگ فوراً پہچانے جاتے ہیں ۔ موجو دہ زمانے میں جبکہ روپیہ اتنی اہمیت اختیار کر چکا ہے ان لو گوں پر اس کا کوئی ا ثر نہیں پڑا یعنی کہ یہ لو گ روپیہ پیسے کی طرف زیادہ را غب نہیں ہو تے۔ ایسے ہاتھ پر خطِ ذہن عموماًڈھلوان نما ہو تا ہے مگر بہت سے ہاتھوں میں یہ سیدھا بھی پایا گیا ہے۔ اس صورت میں ایسا شخص اپنی محنتی طبیعت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے مگر عام طور پر ایسے لوگ ان لو گو ں کی نسبت کم روپیہ اکٹھا کر سکتے ہیں جن کے ہاتھ کی شکل مربع نما ہو تی ہے۔انگلیوں کے جو ڑوں کا گرہ دار ہو نا اس بات کی علامت ہے کہ یہ لو گ اپنے کام یا مطالعے میں بڑے محتاط ہو تے ہیں‘ انہیں اپنے خیالات پر قابو رکھنا آ تا ہے اور اسی لیے یہ کسی کام یا کسی نکتہ پر پوری توجہ سے سوچ سکتے ہیں۔ فلسفے کا حامل ہاتھ ذہن انسانی کی ترقی کی معراج سمجھا جا تا ہے۔
فنکارانہ ہاتھ:فنکارانہ ہاتھ دیکھنے میں بڑا با رعب ہو تا ہے ۔ اس کی انگلیوں کی ساخت بڑ ی خو بصورت ہوتی ہے۔ اس کا نام صرف ہاتھ کی خوبصورت ساخت کی وجہ سے نہیں رکھا گیابلکہ ان خوبیوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے جن کا یہ اظہار کرتا ہے۔ اس ہاتھ کے مالک کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ مصور ہی ہو ۔



















































