ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیاکے مہنگے ترین اورشاندارگھر

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |


امریکی ارب پتی’’ لاری السن‘‘ کی کل دولت51ارب 400 ملین ڈالر ہے۔امریکی ہونے کے باوجود اس نے برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی‘ برازیل‘سویڈن اور کئی دوسرے ملکوں میں سیکڑوں رہائش گاہیں بنا رکھی ہیں۔ ان میں مہنگی ترین رہائش گاہ لندن کے پوش علاقے ’’کنگسٹن‘‘ میں ہے۔ اس محل کی قیمت 200 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔اسکے بعد روسی ارب پتی’’رومان ابرا مو فو ٹیچ ‘ ‘ کے پاس اپنی کمائی کے9 ارب 400 ملین ڈالر ہیں۔ رومان نے بھی تین سال قبل لندن میں کنگسٹن کے مقام پر140 ملین ڈالر مالیت سے ایک گراں قیمت کوٹھی خرید کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رومان نے کوٹھی خریدنے کے بعد تین برسوں کے دوران اس میں صرف چند ہفتے ہی گزارے ہیں۔ اس کے روس ‘ یورپی اور کئی عرب ملکوں میں بھی گراں قیمت محلات موجود ہیں۔
عالمی ارب پتیوں کی مہنگی رہائش گاہوں میں ہنس مکھ امریکی ارب پتی کین گریفین کے ریاست فلوریڈا میں’’بالم بیٹچ‘‘ کے مقام پر محل کا نواں نمبر ہے۔گریفین کی کل دولت پانچ ارب 200 ملین ڈالر ہے جس میں اس کے محل کی 130 ملین ڈالر کی قیمت بھی شامل ہے۔
دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کا الگ سے تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ دنیا کے دیگر امراء کے برعکس رہائش اور اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرنے والا ارب پتی واقع ہوا ہے۔ مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس کی کل دولت 77 ارب50 کروڑ ڈالر ہے لیکن اس نے اپنی رہائش گاہ پر کل دولت کا صرف ایک فی صد خرچ کیا ہے‘ اس کے باوجود بل گیٹس کے امریکا میں ایک محل کی قیمت 77 ملین 500 ڈالر ہے۔
مضمون کے شروع میں موروثی اور سیلف میڈ امراء کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بھارتی اخبار’’دی ہندو‘‘ میں سیلف میڈ اور موروثی صاحب ثروت لوگوں کے مزاج ‘ رویوں اور دولت کے صرف کیے جانے سے متعلق ایک تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موروثی مالدار لوگ سیلف میڈ امراء سے زیادہ کنجوس واقع ہوتے ہیں۔ اس امرکا اندازہ اس رپورٹ سے بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ بھارت کے مکیش امبانی‘ لکشمی متل اور لبنانی نژاد بیوہ لیلیٰ صفریٰ موروثی دولت مند ہیں۔ انہوں نے اپنی کوٹھیوں اور محلات پر کروڑوں ڈالر خرچ کر رکھے ہیں‘ ان کے مقابلے میں دنیا کے امیر ترین بل گیٹس جیسے سیلف میڈ امراء ہیں جو اپنی کل آمدنی کا محض ایک فی صد اپنی رہائشی ضروریات پر صرف کرتے ہیں۔ موروثی امراء میں خیرات کا جذبہ نہ ہونے کے برابر جبکہ سیلف میڈ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ موروثی امراء کے پاس دولت اپنی محنت شاقہ کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ والدین کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہوتا ہے‘ یہ لوگ اس گمان میں مبتلا ہوتے ہیں اگر یہ دولت ان کے ہاتھ سے نکل گئی تو یہ فٹ پاتھ پر آ جائیں گے جبکہ سیلف میڈ امراء کی سخاوت کی وجہ وہ جانتے ہیں اگر دس ڈالر ہاتھ سے نکل بھی گئے تو وہ بیس ڈالر اور کما لیں گے۔ ان لوگوں کو اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے۔ درج بالا حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ طے کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ دنیا کی دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے‘ اگر یہ دولت‘ یہ جائیداد دنیا کے غریبوں تک پہنچ جائے تو یقین کریں کرہ ارض پر ایک شخص بھی غریب نہ رہے مگر دولت کی یہ ہوس انسان کی فطرت میں ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…