امریکی ارب پتی’’ لاری السن‘‘ کی کل دولت51ارب 400 ملین ڈالر ہے۔امریکی ہونے کے باوجود اس نے برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی‘ برازیل‘سویڈن اور کئی دوسرے ملکوں میں سیکڑوں رہائش گاہیں بنا رکھی ہیں۔ ان میں مہنگی ترین رہائش گاہ لندن کے پوش علاقے ’’کنگسٹن‘‘ میں ہے۔ اس محل کی قیمت 200 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔اسکے بعد روسی ارب پتی’’رومان ابرا مو فو ٹیچ ‘ ‘ کے پاس اپنی کمائی کے9 ارب 400 ملین ڈالر ہیں۔ رومان نے بھی تین سال قبل لندن میں کنگسٹن کے مقام پر140 ملین ڈالر مالیت سے ایک گراں قیمت کوٹھی خرید کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رومان نے کوٹھی خریدنے کے بعد تین برسوں کے دوران اس میں صرف چند ہفتے ہی گزارے ہیں۔ اس کے روس ‘ یورپی اور کئی عرب ملکوں میں بھی گراں قیمت محلات موجود ہیں۔
عالمی ارب پتیوں کی مہنگی رہائش گاہوں میں ہنس مکھ امریکی ارب پتی کین گریفین کے ریاست فلوریڈا میں’’بالم بیٹچ‘‘ کے مقام پر محل کا نواں نمبر ہے۔گریفین کی کل دولت پانچ ارب 200 ملین ڈالر ہے جس میں اس کے محل کی 130 ملین ڈالر کی قیمت بھی شامل ہے۔
دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کا الگ سے تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ دنیا کے دیگر امراء کے برعکس رہائش اور اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرنے والا ارب پتی واقع ہوا ہے۔ مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس کی کل دولت 77 ارب50 کروڑ ڈالر ہے لیکن اس نے اپنی رہائش گاہ پر کل دولت کا صرف ایک فی صد خرچ کیا ہے‘ اس کے باوجود بل گیٹس کے امریکا میں ایک محل کی قیمت 77 ملین 500 ڈالر ہے۔
مضمون کے شروع میں موروثی اور سیلف میڈ امراء کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بھارتی اخبار’’دی ہندو‘‘ میں سیلف میڈ اور موروثی صاحب ثروت لوگوں کے مزاج ‘ رویوں اور دولت کے صرف کیے جانے سے متعلق ایک تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موروثی مالدار لوگ سیلف میڈ امراء سے زیادہ کنجوس واقع ہوتے ہیں۔ اس امرکا اندازہ اس رپورٹ سے بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ بھارت کے مکیش امبانی‘ لکشمی متل اور لبنانی نژاد بیوہ لیلیٰ صفریٰ موروثی دولت مند ہیں۔ انہوں نے اپنی کوٹھیوں اور محلات پر کروڑوں ڈالر خرچ کر رکھے ہیں‘ ان کے مقابلے میں دنیا کے امیر ترین بل گیٹس جیسے سیلف میڈ امراء ہیں جو اپنی کل آمدنی کا محض ایک فی صد اپنی رہائشی ضروریات پر صرف کرتے ہیں۔ موروثی امراء میں خیرات کا جذبہ نہ ہونے کے برابر جبکہ سیلف میڈ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ موروثی امراء کے پاس دولت اپنی محنت شاقہ کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ والدین کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہوتا ہے‘ یہ لوگ اس گمان میں مبتلا ہوتے ہیں اگر یہ دولت ان کے ہاتھ سے نکل گئی تو یہ فٹ پاتھ پر آ جائیں گے جبکہ سیلف میڈ امراء کی سخاوت کی وجہ وہ جانتے ہیں اگر دس ڈالر ہاتھ سے نکل بھی گئے تو وہ بیس ڈالر اور کما لیں گے۔ ان لوگوں کو اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے۔ درج بالا حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ طے کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ دنیا کی دولت کا ایک بڑا حصہ چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے‘ اگر یہ دولت‘ یہ جائیداد دنیا کے غریبوں تک پہنچ جائے تو یقین کریں کرہ ارض پر ایک شخص بھی غریب نہ رہے مگر دولت کی یہ ہوس انسان کی فطرت میں ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔
دنیاکے مہنگے ترین اورشاندارگھر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































