دولت کی ہوس انسان کی فطرت ہے‘ ہرکوئی امیر ہونا چاہتا ہے‘ ہم میں سے ہر ایک اچھے گھر میں رہنا چاہتا ہے لیکن دنیا کی دولت کا ایک بڑا حصہ چند سو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔امریکی جریدہ’’فوربز‘‘ ہرسال دنیا کے 10 اور 100 امراء کی فہرست جاری کرتا ہے‘ ہر بار ان کی دولت کے اعدادو شمار بیان کیے جاتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون سے ارب پتی نے ایک سال میں کتنی دولت کمائی اور کتنی خرچ کی؟۔ سنہ2014ء کی رپورٹ میں جریدے نے ارب پتیوں کی کل تعداد 1645 بتائی ہے۔ ان ڈیڑھ ہزار ارب پتیوں میں دو تہائی امراء ایسے ہیں جو اپنی محنت شاقہ سے دولت کے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ان میں سے بیشتر کی ابتدائی زندگیوں پر نظر ڈالی جائے تو وہ دنیا بھر کے فقیر ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ قسمت کی دیوی ان پر کچھ ایسی مہربان ہوئی کہ اب لوگ ان سے چند سیکنڈز کی ملاقات کی خواہش بھی پوری نہیں کر پاتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ ان دو تہائی خود ساختہ ارب پتی لوگوں میں 172 خواتین بھی شامل ہیں۔ایسے امراء جنہیں دولت وراثت میں ملی ان کی تعداد انگلیوں پرگنی جاسکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موروثی دولت مند وقت کے ساتھ کم ہوتے جبکہ اپنی مدد آپ کے تحت دو لت و امارت کا مقام بنانے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اگلے پچاس سال میں مورثی امراء رؤسا قصہ پارینہ ہوجائیں اور ان کی جگہ ’’سیلف میڈ‘‘ امراء لے لیں۔
جریدہ فوربز کی ایک تازہ رپورٹ میں دنیا کے امراء کے نشہ دولت کے بارے میں تھوڑا مختلف زاویے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا کے درجہ اول کے 10 امراء کی جنت نظیر رہائش گاہوں کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ان تفصیلات میں بتایا گیا کہ ہر ارب اور کھرب پتی کے پاس ویسے تودنیا کے مختلف ملکوں میں جا بجا جائیدادیں پھیلی ہوئی ہیں لیکن بات صرف کاروباری وسعت تک محدود نہیں بلکہ ان کی جنت نظیر قیام گاہوں کی ہے جن پر خرچ ہونے والی دولت سے لاکھوں خاندانوں کے لیے پوش علاقوں میں متوسط درجے کے مکانات تعمیر کیے جاسکتے ہیں‘ ہزاروں اسکول‘ اسپتال اور لاکھوں فلاحی ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چند درجن امراء کے پاس دنیا کے مختلف ملکوں میں کم سے کم 25 ہزار رہائش گاہیں موجود ہیں، جنہیں وہ اپنی عیاشیوں کے لیے وقتاً فوقتاً استعمال کرتے ہیں۔ان میں سے پہلے دس امراء کی صرف 10 کوٹھیوں کی قیمت جمع کی جائے تو اس سے 23 ہزار بہترین اور جدید سہولیات سے آراستہ گھر تعمیر کیے جاسکتے ہیں‘ان میں ہر مکان معمولی نہیں بلکہ اس میں دو ڈائنگ ہال اور تین بیڈ روم‘ واش روم‘ بڑا کچن اور صحن شامل ہوں گے۔ ان گھروں میں اگر فی کس پانچ افراد کا کنبہ رکھا جائے تو دس امراء کی کوٹھیوں سے ایک لاکھ 15 ہزار افراد کا ایک شہر آباد کیا جا سکتا ہے اور یہ گھر دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں بھی ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر تک باآسانی دستیاب ہوسکتا ہے۔ارب پتیوں کے عالی شان محلات کی قیمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کے ارب پتی مکیش امبانی کابمبئی میں محل ایک ارب ڈالر سے زیادہ قیمتی بتایا جاتا ہے۔ یہ مکیش کا واحد محل نہیں بلکہ بھارت کے بارہ بڑے شہروں میں اس کی پر تعیش رہائش گاہیں موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت کروڑوں ڈالر سے زیادہ ہے۔ فوربز جریدے نے مکیش امبانی کو 2014ء کا بھارت کا امیر ترین شخص قرار دیا ہے‘ جس پر بہت سے دوسرے امراء کو اعتراض بھی ہوا تاہم ہمارے نزدیک فی الوقت یہ موضوع محل نظر نہیں۔ مکیش کی موجود دولت 23 ارب 900 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔



















































