دْور دراز کے علاقوں سے لوگ بسوں‘ گھوڑوں یا پیدل سفر کرتے ہوئے میلے میں پہنچتے ہیں۔ اس میلے میں وہ اپنے مویشی فروخت کر کے اپنے گھریلو اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔ موسو مقامی طور پر گندم کی شراب ’سولیما‘ بنانے میں شہرت رکھتے ہیں۔ جس کا شمار تیز شرابوں میں ہوتا ہے۔ اس شراب کو عام دنوں کے علاوہ مذہبی تیوہاروں اور میلوں کے مواقع پر نوش کیا جاتا ہے۔ اس سے مہمانوں کی تواضح بھی کی جاتی ہے۔ موسو معاشرے میں بارٹر سسٹم رائج ہے۔ یعنی اجناس کے بدلے اجناس کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن بیرونی دنیا کے ساتھ مقامی کرنسی میں لین دین ہوتا ہے۔ تعلیم اور سفر کے اخراجات بھی کرنسی میں ادا کیے جاتے ہیں۔ موسوؤں کی کچھ برادریوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے لیکن زیادہ تر گاؤں ابھی اس نعمت سے محروم ہیں۔ موسو عورتیں ہر قسم کے کام کرنا جانتی ہیں۔ کھیتوں میں ہل چلانے ‘ بیج بونے اور فصل کاٹنے سے لے کر گھر کا چولہا ہانڈی کرنے اور مویشی پالنے کے کاموں میں وہ مردوں کی محتاج نہیں ہیں۔ ماضی میں جب موسو کا دیگر اقوام سے بالکل میل جول نہ تھا اور وہ الگ تھلگ رہنا پسند کرتے تھے ‘اْس وقت موسو عورتوں کو ہر چیز خود بنانی پڑتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ سوت سے دھاگا بناکر کپڑا تک تیار کر لیا کرتی تھیں لیکن آج جب باہری دنیا کے لوگ موسوؤں کے علاقے کے قریب آباد ہو چکے ہیں تو ان کے ساتھ تجارتی روابط بڑھنے سے موسو عورتوں کے کاموں میں بہت سی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک موسو مردوں کے پاس کوئی ذمے داری نہیں ہوتی‘ اس لیے قبیلے میں ان کا کردار محدود سے محدود ہوتا چلا گیا۔ ان کے پاس چوں کہ کوئی کام نہیں ہوتا‘ اس لیے وہ سار دن آرام کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم ایسا بھی نہیں کہ موسو مرد کچھ بھی نہیں کرتے۔ وہ مچھلیاں پکڑنے اور مویشوں کی خرید و فروخت اور دیکھ بھال کا کام کرتے ہیں۔ مویشی ذبح کرنے کا کام مردوں تک محدود ہے، عورتیں اس کام میں دل چسپی نہیں لیتیں۔ گوشت کو ہَوا دار جگہ پر خشک کر کے اْسے لمبے عرصے تک قابلِ استعمال بنانے کے فن میں بھی موسو یکتا ہے۔ یہ ہنر سردیوں میں بڑا کار آمد ثابات ہوتا ہے‘ جب ہر طرف برف باری کے باعث زرعی سرگرمیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں موسو لوگ ساری سردی گوشت کھا کر گزارتے ہیں۔ موسو ثقافت اور اْن کی مخصوص طرزِ زندگی کو تبدیل کرنے کے لیے ماضی میں بہت سے حکم رانوں نے کوششیں کیں لیکن وہ موسوؤں کی ثقافت کو تبدیل نہ کر سکے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے منگ دورِ حکومت میں موسو علاقوں میں دیگر لوگوں کو لا کر بسایا گیا لیکن انھوں نے غیر اقوام کے رسم و رواج کا کوئی اثر نہ لیا۔ اگرچہ موسو لوگوں نے تبتی بدھ مت کے اثرات قبول کیے‘ لیکن وہ بھی اس حد تک کہ اس سے اْن کے مذہب کے بنیادی عقائد پر اثر نہ پڑے۔ ماؤزے تْنگ کی انقلابی اصلاحات بھی موسو معاشرے میں کوئی انقلابی تبدیلی نہ لاسکیں۔ دیگر اقوام کے ساتھ تجارت کے دوران بھی ان کا رویہ ہمیشہ محتاط رہا۔ تاہم فی زمانہ موسو معاشرہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ انفرا سٹرکچر‘ لوگوں کی آمد و رفت اور روزگار کے نئے ذرایع سے موسو معاشرے میں تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ موسو مرد قریبی شہروں میں جا کر نوکریاں کرنے لگے ہیں، جس کے باعث وہ عورت کے مقابلے میں زیادہ خود کفیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹیلی وژن کی بہ دولت زندگی گزارنے کے طور طریقے بھی بدل رہے ہیں‘ جس سے ان لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ نوجوان موسواؤں نے گھریلو ذمے داریاں سنبھالنا شروع کر دی ہیں‘ جس سے ان کی سماجی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس بناء پر موسو معاشرے میں وراثتی جھگڑوں کے شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ موسو قبیلہ لوگو جھیل کے کنارے آباد ہے۔ یہ علاقہ اپنی خوب صورتی کے باعث لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ چناں چہ اس علاقے میں سیاحوں کی آمد و رفت بڑھ گئی ہے۔ موسوؤں کی ’واکنگ میرج‘ کی آڑ میں عصمت فروشی کو یہاں قانونی درجہ حاصل ہے۔ یہ نیا کاروبار موسو ثقافت کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ وہ وجوہات ہیں‘ جن کے باعث خدشہ ہے کہ موسو ثقافت زیادہ عرصہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی اور مادر سری نظام کے یہ آخری آثار بھی دنیا سے مٹ جائیں گے۔
چین کا قبیلہ موسو‘جن کی ہر بات اور کام نرالہ ہے۔۔۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































