جہاں دیوی ماں کا گھر ہے۔ گھر کے باہر دیوی کا مندر ہے۔ دابا مذہب میں جھاڑ پھونک کا تصور عام ہے‘ جس میں بزرگوں کی روحوں سے مدد لی جاتی ہے۔ گھر کے وسط میں سارے لوگ جمع ہو کر بزرگوں کی روحوں اور فطرت کی عبادت کرتے ہیں۔ یوں تو موسو معاشرے میں ہر چیز خود عورت سر انجام دیتی ہے لیکن تدفین کی ساری رسومات مرد حضرات کے ہاتھوں انجام پاتی ہیں۔ اس موقع پر گھر والوں اور مہمانوں کے کھانے پینے کے سارے انتظامات مرد کرتے ہیں۔گاؤں کے قریباً تمام گھرانوں سے کم از کم ایک ایک مرد تدفین کے انتظامات میں شرکت کرتا ہے۔ مرنے والوں کی روحوں کے لیے مذہبی پیشواؤں کو بْلایا جاتا ہے۔ موسوؤں کا عقیدہ ہے کہ اگر مرنے والوں کی روحوں کی راہ نمائی کے لیے مذہبی پیشواؤں کو نہ بْلایا تو اْن کی روحیں بے قرار رہیں گی اور وہ دوسرا جنم نہیں لے سکیں گی۔ موسو اپنے مْردوں کو چھوٹے تابوت میں اس انداز میں لٹاتے ہیں‘ جس حالت میں کوئی بچہ رحم مادر میں پرورش پاتا ہے۔اْن کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی ایسی ہی ہے‘ جیسے کسی بچے کا دوبارہ جنم ہْوا ہو۔ تابوت کو جلاتے وقت ایک سجے سجائے گھوڑے کو چتا کے قریب کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ موسوؤں کا عقیدہ ہے کہ مرنے والے کی روح اس گھوڑے پر سوار ہو کر اْن سے جدا ہوتی ہے۔ موسو معاشرے میں کتّے کو بہت زیادہ اہمیت اور عزت دی جاتی ہے۔ چین میں کتّے کا گوشت کھانے کا رجحان پایا جاتا ہے مگر موسو کتّے کا گوشت نہیں کھاتے۔ ان کے ہاں کتّے کو مارنے کی سخت ممانعت ہے اور اس فعل کو بہت بڑا گْناہ سمجھا جاتا ہے۔ کتّا‘ موسو خاندان کا ایک حصّہ ہوتا ہے۔ موسو لوک کہانی کے مطابق ہزاروں سال پہلے کتّے کی طبعی عمر 60 سال اور انسانوں کی 13 سال ہْوا کرتی تھی۔ پھر انسانوں نے کتّے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا کہ اگر کتّے اپنی طبعی عمرکا تبادلہ انسانوں کی طبعی عمر سے کر لیں تو انسان بدلے میں اْن کی بہت تعظیم کرے گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہْوا۔ اس لیے موسوؤں کے نزدیک کتّا معتبر جانور ٹھہرا۔ آج بھی موسو 13 برس کی عمر میں پہنچنے پر اپنے بچوں کا جشن غفوان شباب مناتے ہیں تو سب سے پہلے کتّے کی جوانی کی دْعائیں مانگتے ہیں۔ بنیادی طور پر موسو کسان ہیں‘ اس لیے زیادہ تر موسو زراعت سے وابستہ ہیں۔ روزانہ سات گھنٹے اور سال میں سات ماہ تک کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی زمینوں میں چاول‘ سورج مْکھی‘ سویا بین‘ مکئی‘ آلو‘ کدّو اور مٹر وغیرہ کاشت کرتے ہیں۔ مویشی پالنا بھی ان کی روز مرہ زندگی کا جز لانیفک ہے۔ بیسویں صدی کی شروعات سے موسو گھوڑے‘ بکریاں‘ گائے وغیرہ پالتے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم آج کل وہ سْوّر پالنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ سْوّر‘ موسو معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مہمانوں کی تواضع میں سور کے گوشت کو بہ طور خاص پیش کیا جاتا ہے۔ تدفین کی رسومات میں بھی سور کا گوشت لازمی طور پر کھلایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں آپس کے لین دین اور نقصان کے ازالے کے لیے بھی سور تبادلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ موسو معاشرے میں سور کو بہ طور کرنسی استعمال کرنا عام سی بات ہے اور اسے دولت کی نشانی تصور کیا جاتا ہے۔ سال میں ایک بار موسو مرد میلہ مویشیاں لگاتے ہیں۔



















































