جب تک مرد اور عورت میں سے کوئی ایک اس رشتے کو ختم کرنا نہ چاہے۔یہ فیصلہ بھی زیادہ تر عورت ہی کرتی ہے کہ اس رشتے کو کب تک برقرار رکھنا ہے۔ ایسی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں پر ماں کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ اولاد تمام عمر ماں کے ساتھ رہتی ہے۔ تاہم باپ اپنے بچوں سے مل سکتا ہے۔ موسو معاشرے میں چوں کہ عورت کی حکم رانی ہے‘ اس لیے لڑکے کی نسبت لڑکی کی پیدایش پر زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہے۔ بچے ہمیشہ ماں کے خاندان سے پہنچانے جاتے ہیں لیکن بچے کے باپ کا نام جاننا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی عورت کو اپنے بچے کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو موسو معاشرے میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش پر بچے کا باپ‘ اپنے والدین اور بہنوں کے ساتھ تحفے تحائف لے کر خوشیاں منانے اپنے سْسرال آتا ہے۔ بچے کی سال گرہ میں بھی باپ شرکت کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے بچے اور اْس کی ماں کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہ نہیں سکتا۔ نیا سال شروع ہونے پر بچے اپنے باپ اور ددھیال کو تعظیم دینے اْس کے گھر جاتے ہیں۔ موسو قبیلے میں لڑکا اور لڑکی کے لیے 13 سال کی عمر سِن بلوغت شمار کی جاتی ہے۔ اس موقع پر ایک تقریب آمد شباب کا اہتمام کیا جاتا ہے‘ جس میں تمام موسو بچے ایک جیسا لباس پہنتے ہیں۔ تقریب میں لڑکیاں اپنے اسکرٹ اور لڑکے اپنے پاجامے پیش کرتے ہیں۔ چناں چہ اس تقریب کو ’اسکرٹ تقریب‘ (لڑکی کے لیے) اور ’پاجامہ تقریب‘ (لڑکے کے لیے) بھی کہا جاتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر لڑکی کو ایک الگ کمرا (پھولوں والا کمرا) الاٹ کیا جاتا ہے جہاں وہ ’واکنگ میریج‘ کے لیے اپنے ساتھی کا انتخاب کرتی ہے۔ 13 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جو بچے مر جاتے ہیں‘ اْن ک تدفین کے موقع پر روایتی مذہبی رسومات ادا نہیں کی جاتیں۔ موسو لوگ بڑے خاندان کی شکل میں ایک ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں روایتی شادی کی عدم موجودگی کے باوجود خاندانی نظام بہت مضبوط ہے۔ گھر کی بزرگ عورت گھرکی سربراہ کہلاتی ہے‘ جسے مطلق العنان اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اہل خانہ کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ وہ گھر والوں کی ذمے داریوں کا تعین کرتی ہے اور پیسوں کا حساب کتاب رکھتی ہے۔ جب بزرگ خاتون محسوس کرتی ہے کہ وہ اب انتظام سنبھالنے کے قابل نہیں رہی تو وہ اپنی جگہ گھر کی دوسری عورت کو دے کر گھر کی تمام چابیاں اْس کے حوالے کر دیتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اْس نے اپنے تمام اختیارات اور وراثتی حقوق اْسے سونپ دیے ہیں۔ موسو بڑے مذہبی لوگ ہیں۔ یہ ’دابا ‘ مذہب کے ماننے والے ہیں، اس مذہب پر تبتی بدھ مت کا زیادہ اثر ہے۔ ان کی کوئی مذہبی کتاب نہیں ہے۔ مذہبی تعلیم نسل در نسل زبانی منتقل ہوتی ہے۔ دابا مذہب دو چیزوں کے گرد گھومتا ہے۔ بزرگوں کی روحیں اور دیوی ماں۔ لوگو جھیل کے پاس سب سے بلند شیزی پہاڑ ’دیوی کا پہاڑ‘ کے نام سے مشہور ہے‘



















































