جی ہاں۔۔۔ یہ بات پڑھ کر حیران ہونا بنتا بھی ہے ‘ کہ آج کے زمانے میں کسی ایسی جگہ کا تصورمحال ہے جہاں خاندانی وراثت کا حقدار صرف عورت کو تسلیم کیا جاتا ہو‘کھیتوں میں کام کرنے سے لے کر اْمور خانہ داری تک عورت کی حکم رانی ہولیکن شوہر کو بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں !
کھیتوں میں کام کرنے سے لے کر اْمور خانہ داری تک خواتین مردوں پر دست رس رکھتی ہوں‘ جب کہ مرد بے چارے صرف گھر کے چھوٹے موٹے کام نمٹانے تک محدود کر دیے گئے ہوں۔ چین میں ایک ایسا قبیلہ موجود ہے‘ جہاں عورت ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مردوں پر عملاً حکم رانی کرتی ہے۔ یہ موسو لوگ ہیں جو تبت کے علاقے سے متصل چین کے صوبے یونان اور سچوان میں صدیوں سے سکونت پذیر ہیں۔ چین کے شمال مغرب میں واقع لوگو جھیل کے کنارے آباد اس قبیلے کے افراد کی تعداد 40 ہزار کے قریب ہے۔ موسو قبیلے کی شہرت کی ایک وجہ اس کا شادی کا رواج ہے۔ موسو باقاعدگی سے روایتی انداز میں شادی نہیں کرتے۔ موسو عورت بیاہ کر اپنے سسرال نہیں جاتی‘ بل کہ شوہر کو رات گزارنے کے لیے اپنی بیوی کے میکے آنا پڑتا ہے۔ اس آمد کو خفیہ رکھا جاتا ہے‘ اس لیے شوہر کی آمد رات کے اندھیرے میں ہوتی ہے جو صبح ہوتے ہی گھر سے چلا جاتا ہے۔ اس بنا پر ایسی شادیوں کو ’واکنگ میرجز‘‘ کہا جاتا ہے۔ موسو لوگوں کے درمیان کوئی عہد و پیمان نہیں ہوتے جب تک مرد و عورت کے درمیان پیار رہتا ہے وہ ایک ساتھ شب گزاری کرتے ہیں۔ اس طرح کی شادی میں لڑکی کے گھر والوں کا رضامند ہونا بھی ضروری ہے۔ موسو عورت ایک وقت میں ایک ہی ساتھی رکھتی ہے تا ہم وہ جب چاہے اپنا ساتھی تبدیل کر سکتی ہے لیکن زیادہ تر موسو عورتیں لمبے عرصے تک ایک ہی مرد رکھتی ہے۔ ان عورتوں میں ایسی بھی ہیں‘ جنہوں نے ساری زندگی ایک ہی شخص کے ساتھ گزار دی ہے۔ ماہرین بشریات موسو معاشرے کو ’سلسلہ وار یک زوجی‘ (ایک وقت میں صرف ایک بیوی رکھنے کا تصور) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہتا ہے



















































