منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

اربوں روپے کی کتاب

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

لکھناشروع کی جو اگست1969ء سے جنوری 1970ء کے دوران تین طویل قسطوں میں ’’اے فائر آن دی مون‘‘ ٗ ’’سائیکالوجی آف آسٹروناٹس‘‘ اور ’’اے ڈریم آف کی فیوچرز فیس‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب اس لئے مہنگی نہیں ہے کہ اس میں چاندپر جانے کی کہانی رقم ہے بلکہ یہ اس لئے مہنگی ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے علاوہ آپ اس کے ساتھ چاند کو چھو بھی سکتے ہیں۔ 2009ء میں40 ویں سالگرہ چاند کی تسخیر کے سال کی مناسبت سے اس کتاب کی 1969 میں کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔ ان میں سے 12 کاپیوں کے ساتھ شہابیوں کے ٹکڑے فراہم کئے گئے جو چاند سے زمین پر پہنچے ہیں۔ عام کتاب کی قیمت1000امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ چاند کے ٹکڑے کے ساتھ اس کی قیمت بھی آسمان پر پہنچ گئی۔ کتاب کی ہر کاپی پرمشن مون کے ہیروبز ایلڈرن کے دستخط ہیں اور اس کے ساتھ چاند پر کھڑے ہو کر لی گئی ان کی یادگار فریم شدہ تصویر بھی ہے جس میں ان کے وائزر میں آرمسٹرانگ کا عکس نظر آ رہا ہے۔ کتاب کی کل 1969کاپیوں میں سے 1957 کاپیاں آن لائن فروخت کے لئے دستیاب ہوئیں۔ جبکہ حتمی 12 کاپیوں کے لئے پبلشر نے ایک ویٹنگ لسٹ تیار کی۔ ماہرین نے12کاپیوں کے ساتھ فراہم کئے جانے والے چاند کے ٹکڑوں کی پیشہ وارانہ انداز میں جانچ پڑتال بھی کی ۔ واضح رہے کہ ایک ہزار میں سے صرف ایک شہابیہ چاند سے زمین کی سطح پر پہنچتا ہے۔ یہ ٹکڑے چاند سے ایسٹرائیڈزیاکومٹس ٹکرانے کے نتیجے میں5 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نکلتے ہیں اور زمین کے دائرہ کشش میں آنے سے پہلے ہزاروں لاکھوں سالوں تک سپیس میں منڈلا سکتے ہیں۔ انٹارکٹکا اور صحارا جیسے علاقوں سے حاصل کئے گئے ایسے شہابیوں کی تصدیق ان کی معدنی ترکیب یامنرل کمپوزیشن کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ جانچ میں یہ بھی دیکھاگیا کہ ان میں اور ناسا کے جمع کردہ نمونوں میں کیا فرق ہے۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کتاب ہی اصل تبدیلی کی وجہ ہے اور ہمیں اس سے دوستی رکھنا پڑے گی اور یورپ اور امریکا کی ترقی اسی کتاب دوستی میں پوشیدہ ہے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…