بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اربوں روپے کی کتاب

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

لکھناشروع کی جو اگست1969ء سے جنوری 1970ء کے دوران تین طویل قسطوں میں ’’اے فائر آن دی مون‘‘ ٗ ’’سائیکالوجی آف آسٹروناٹس‘‘ اور ’’اے ڈریم آف کی فیوچرز فیس‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب اس لئے مہنگی نہیں ہے کہ اس میں چاندپر جانے کی کہانی رقم ہے بلکہ یہ اس لئے مہنگی ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے علاوہ آپ اس کے ساتھ چاند کو چھو بھی سکتے ہیں۔ 2009ء میں40 ویں سالگرہ چاند کی تسخیر کے سال کی مناسبت سے اس کتاب کی 1969 میں کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔ ان میں سے 12 کاپیوں کے ساتھ شہابیوں کے ٹکڑے فراہم کئے گئے جو چاند سے زمین پر پہنچے ہیں۔ عام کتاب کی قیمت1000امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ چاند کے ٹکڑے کے ساتھ اس کی قیمت بھی آسمان پر پہنچ گئی۔ کتاب کی ہر کاپی پرمشن مون کے ہیروبز ایلڈرن کے دستخط ہیں اور اس کے ساتھ چاند پر کھڑے ہو کر لی گئی ان کی یادگار فریم شدہ تصویر بھی ہے جس میں ان کے وائزر میں آرمسٹرانگ کا عکس نظر آ رہا ہے۔ کتاب کی کل 1969کاپیوں میں سے 1957 کاپیاں آن لائن فروخت کے لئے دستیاب ہوئیں۔ جبکہ حتمی 12 کاپیوں کے لئے پبلشر نے ایک ویٹنگ لسٹ تیار کی۔ ماہرین نے12کاپیوں کے ساتھ فراہم کئے جانے والے چاند کے ٹکڑوں کی پیشہ وارانہ انداز میں جانچ پڑتال بھی کی ۔ واضح رہے کہ ایک ہزار میں سے صرف ایک شہابیہ چاند سے زمین کی سطح پر پہنچتا ہے۔ یہ ٹکڑے چاند سے ایسٹرائیڈزیاکومٹس ٹکرانے کے نتیجے میں5 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نکلتے ہیں اور زمین کے دائرہ کشش میں آنے سے پہلے ہزاروں لاکھوں سالوں تک سپیس میں منڈلا سکتے ہیں۔ انٹارکٹکا اور صحارا جیسے علاقوں سے حاصل کئے گئے ایسے شہابیوں کی تصدیق ان کی معدنی ترکیب یامنرل کمپوزیشن کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ جانچ میں یہ بھی دیکھاگیا کہ ان میں اور ناسا کے جمع کردہ نمونوں میں کیا فرق ہے۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کتاب ہی اصل تبدیلی کی وجہ ہے اور ہمیں اس سے دوستی رکھنا پڑے گی اور یورپ اور امریکا کی ترقی اسی کتاب دوستی میں پوشیدہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…