ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

اربوں روپے کی کتاب

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

لکھناشروع کی جو اگست1969ء سے جنوری 1970ء کے دوران تین طویل قسطوں میں ’’اے فائر آن دی مون‘‘ ٗ ’’سائیکالوجی آف آسٹروناٹس‘‘ اور ’’اے ڈریم آف کی فیوچرز فیس‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب اس لئے مہنگی نہیں ہے کہ اس میں چاندپر جانے کی کہانی رقم ہے بلکہ یہ اس لئے مہنگی ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے علاوہ آپ اس کے ساتھ چاند کو چھو بھی سکتے ہیں۔ 2009ء میں40 ویں سالگرہ چاند کی تسخیر کے سال کی مناسبت سے اس کتاب کی 1969 میں کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔ ان میں سے 12 کاپیوں کے ساتھ شہابیوں کے ٹکڑے فراہم کئے گئے جو چاند سے زمین پر پہنچے ہیں۔ عام کتاب کی قیمت1000امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ چاند کے ٹکڑے کے ساتھ اس کی قیمت بھی آسمان پر پہنچ گئی۔ کتاب کی ہر کاپی پرمشن مون کے ہیروبز ایلڈرن کے دستخط ہیں اور اس کے ساتھ چاند پر کھڑے ہو کر لی گئی ان کی یادگار فریم شدہ تصویر بھی ہے جس میں ان کے وائزر میں آرمسٹرانگ کا عکس نظر آ رہا ہے۔ کتاب کی کل 1969کاپیوں میں سے 1957 کاپیاں آن لائن فروخت کے لئے دستیاب ہوئیں۔ جبکہ حتمی 12 کاپیوں کے لئے پبلشر نے ایک ویٹنگ لسٹ تیار کی۔ ماہرین نے12کاپیوں کے ساتھ فراہم کئے جانے والے چاند کے ٹکڑوں کی پیشہ وارانہ انداز میں جانچ پڑتال بھی کی ۔ واضح رہے کہ ایک ہزار میں سے صرف ایک شہابیہ چاند سے زمین کی سطح پر پہنچتا ہے۔ یہ ٹکڑے چاند سے ایسٹرائیڈزیاکومٹس ٹکرانے کے نتیجے میں5 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نکلتے ہیں اور زمین کے دائرہ کشش میں آنے سے پہلے ہزاروں لاکھوں سالوں تک سپیس میں منڈلا سکتے ہیں۔ انٹارکٹکا اور صحارا جیسے علاقوں سے حاصل کئے گئے ایسے شہابیوں کی تصدیق ان کی معدنی ترکیب یامنرل کمپوزیشن کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ جانچ میں یہ بھی دیکھاگیا کہ ان میں اور ناسا کے جمع کردہ نمونوں میں کیا فرق ہے۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کتاب ہی اصل تبدیلی کی وجہ ہے اور ہمیں اس سے دوستی رکھنا پڑے گی اور یورپ اور امریکا کی ترقی اسی کتاب دوستی میں پوشیدہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…