ایڈورڈ(I) کی شاہی مہر کی حامل ہاتھ سے لکھی ہوئی 1297ء کی صرف ایک کاپی نجی ہاتھوں میں ہے۔ یہ کاپی پانچ سو سال تک بروڈنل خاندان یعنی ارلز آف کارڈیگن کے پاس رہنے کے بعد1984ء میں پیروٹ فاؤنڈیشن کے پاس فروخت ہوئی اور فاؤنڈیشن نے 18 دسمبر2007ء کو یہ کاپی دو کروڑ تیرہ لاکھ ڈالر میں نیلام کر دی۔ اسے کارلائل گروپ کے ڈیوڈ روبن سٹائن نے خریدا۔ اسی طرح لاطینی زبان میں لکھی ہوئی ساتویں صدی عیسوی کی پاکٹ کوسپیل بک’’سینٹ کتھ برٹ گوسپیل‘‘ اپریل2012ء میں ایک کروڑ پینتالیس لاکھ ڈالر ہیں۔ 1640ء میں برٹش نارتھ امریکا میں پرنٹ ہونے والی پہلی کتاب ’’بے سام بک‘‘ نومبر2013ء میں ایک کروڑ بیالیس لاکھ ڈالرمیں فروخٹ ہوئی۔ 20-1500ء کے دوران کئی آرٹسٹوں کی بنائی ہوئی تصاویر سے مزین فلیمش بک آف آورز ’’روتھس چائلڈ پریئر بک‘‘ جولائی1999ء میں ایک کروڑ چونتیس لاکھ ڈالر میں اور 1175ء کی ’’گوسپیلز آف ہنری دی لائن‘‘ کی اصلی اور اکلوتی کاپی دسمبر 1983ء میں ایک کروڑ سترہ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی۔ مہنگی ترین کتابوں میں آٹھویں ٗ نویں اور دسویں نمبر پر آنے والی کتاب کا نام ’’دی برڈز آف امریکا ‘‘ ہے۔ نیچرلسٹ اور پینٹر جان جیمز اوڈبان کی یہ کتاب 1827ء سے1838ء کے دوران پہلی بار لندن سے شائع ہوئی اور یہ امریکی پرندوں کی وسیع ورائٹی کی السٹریشنز پر مشتمل ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اس کتاب کی صرف119 مکمل کاپیاں باقی بچی ہیں جن میں سے تین بالترتیب دسمبر2010ء میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ ڈالر ٗ2000ء میں اٹھاسی لاکھ ڈالر اور جنوری2012ء میں اناسی لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئیں۔ جدید کتابوں میں ’’آف اے فائر آن دی مون‘‘ نامی کتاب کی 12کاپیاں ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ سو ڈالر فی کاپی کے حساب سے فروخت ہوئیں۔ یہ کتاب ’’لائف‘‘ میگزین میں قسط وار شائع ہوئی اور یہ 1969ء میں چاند پر بھیجے گئے اپالومشن کے بارے میں نورمن میلر کے منفرد نکتہ نظر پر مشتمل اہم ڈاکومنٹری سمجھی جاتی ہے۔ ہاؤسٹین میں مشن کنٹرول اور سپیس سنٹر میں وقت گزارنے اور کیپ کینیڈی فلوریڈا سے اپنی آنکھوں سے سیٹرن Vراکٹ کی اڑان دیکھنے کے بعد میلر نے اس سفر کی روئیداد



















































