علامہ ابن جوزی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے‘ وہ اپنی عمر کا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے تھے‘وہ قلم کے تراشے سنبھال کر رکھتے تھے چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان تراشوں سے پانی گرم کر کے ان کو غسل دیا گیا۔ ابن جوزی اپنے روزنامچہ صید الخاطر میں ان لوگوں پر کف افسوس ملتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کھیل ‘ تماشے میں لگے رہتے ہیں‘ اس دنیا کی کھوج کرو اور اپنی زندگی کا مقصد جاننے کی ہر لمحہ کو شش کرو۔خود کو جاننے میں مدد گار کتاب ہے‘ کتاب ہماری زندگی اور ہم کتابی علم سے لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتے ہیں۔ علامہ رفیق حسن اس قدر غریب تھے کہ کتاب خریدنے کی اوقات نہ تھی‘ اس مسئلے کاحل انہوں نے کتابوں کی ایک بڑی دوکان پر چوکیداری شروع کر کے حل کیا اور وہ چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ سے انیس گھنٹے مطالعہ کیا کرتے تھے‘ اگر اس دور میں علامہ رفیق حسن حیات ہوتے تواس دنیا کی مہنگی ترین کتاب کی قیمت سن کر ضرور پریشان ہو جاتے۔



















































