ہم شاید دیر تک ٹیلی وژن دیکھنے، انٹرنیٹ سرفنگ، نصف شب کے ہلکے پھیلکے کھانوں، اچھی کتابوں، نا مکمل کام یا جدید زندگی کی دیگر مشکلات کو اپنی نیند کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے الگ تھلگ مقامات پر رہنے والے اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی گزارنے والے افریقی اور جنوبی امریکی معاشروں میں بھی لوگوں کو نیند کے مسائل کا اسی قدر سامنا ہے جتنا باقی ہم سب کو۔سائنسدانوں نے بولیویا، تنزانیہ اور نمیبیا میں رہنے والے 94 افراد کے معمولات کا ایک اسٹڈی کے سلسلے میں 1,165 دنوں تک مشاہدہ کیا۔ اس اسٹڈی میں شکار کر کے کھانے والے اور قدیم طرز زندگی کے حامل ان افراد کے سونے جاگنے سے متعلق معلومات اکٹھی کی گئیں۔
بجلی اور جدید زندگی کی دیگر سہولیات اور مصروفیات کے بغیر زندگی گزارنے والے ان افراد کی نیند کا اوسط دوران چھ گھنٹے اور 25 منٹ روزانہ تھا۔ یہ دورانیہ صنعتی معاشروں میں نیند کے اوسط کے نچلے حصے کے قریب ہے۔
UCLA کے نفسیات کے پروفیسر جیروم سیگل کے مطابق، ’’سب سے بڑا نتیجہ یہ نہیں ہے کہ وہ سوتے کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اب تک کے یقین کے برعکس وہ ہم سے زیادہ نہیں سوتے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ موجودہ دور کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ دیر سوتے تھے اور یہ کہ جدید زندگی نے سونے کا وقت کم کر دیا ہے۔ لیکن نئے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ محض ایک خیال ہے۔یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے اینتھروپولوجسٹ یا ماہر بشریات گاندھی یتیش کے مطابق ریسرچ سے معلوم ہوا کہ آٹھ گھنٹے کی نیند جسے طویل عرصے نیند کا آئیڈیل دورانیہ سمجھا جاتا ہے، اس دورانیہ سے کہیں زیادہ ہے جو اصل میں حاصل کیا جا سکتا ہے: ’’اس کے نتائج نارمل نیند سے متعلق بہت سے روایتی خیالات کو چیلنج کرتے ہیں۔‘‘
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ موجودہ دور کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ دیر سوتے تھے اور یہ کہ جدید زندگی نے سونے کا وقت کم کر دیا ہے
بولیویا، نمیبیا اور تنزانیہ کے جن باشندوں کا مشاہدہ کیا گیا ان میں سے کچھ شکار کے ذریعے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں جبکہ بعض شکار کے علاوہ اپنی خوراک کے لیے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں کا لائف اسٹائل قدیم انسانی معاشروں جیسا ہے۔
ان لوگوں کے پاس بجلی یا اس سے جلنے والی روشنیاں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سورج ڈوبتے ہی سونے کے لیے نہیں جاتے بلکہ یہ سورج ڈوبنے کے تین گھنٹے بعد تک جاگتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے قبل جاگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دوپہر میں نیند بھی بہت ہی کم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی نیند کا دورانیہ موسم کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، مثلاﹰ گرمیوں میں یہ سات گھنٹے جبکہ سردیوں میں چھ گھنٹے ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج تحقیقی جریدے کرنٹ بائیالوجی میں شائع ہوئے ہیں۔
کم نیند کا الزام ٹیکنالوجی یا جدید طور طریقوں کو دینا غلط
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































