ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

کم نیند کا الزام ٹیکنالوجی یا جدید طور طریقوں کو دینا غلط

datetime 16  اکتوبر‬‮  2015 |

ہم شاید دیر تک ٹیلی وژن دیکھنے، انٹرنیٹ سرفنگ، نصف شب کے ہلکے پھیلکے کھانوں، اچھی کتابوں، نا مکمل کام یا جدید زندگی کی دیگر مشکلات کو اپنی نیند کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے الگ تھلگ مقامات پر رہنے والے اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی گزارنے والے افریقی اور جنوبی امریکی معاشروں میں بھی لوگوں کو نیند کے مسائل کا اسی قدر سامنا ہے جتنا باقی ہم سب کو۔سائنسدانوں نے بولیویا، تنزانیہ اور نمیبیا میں رہنے والے 94 افراد کے معمولات کا ایک اسٹڈی کے سلسلے میں 1,165 دنوں تک مشاہدہ کیا۔ اس اسٹڈی میں شکار کر کے کھانے والے اور قدیم طرز زندگی کے حامل ان افراد کے سونے جاگنے سے متعلق معلومات اکٹھی کی گئیں۔
بجلی اور جدید زندگی کی دیگر سہولیات اور مصروفیات کے بغیر زندگی گزارنے والے ان افراد کی نیند کا اوسط دوران چھ گھنٹے اور 25 منٹ روزانہ تھا۔ یہ دورانیہ صنعتی معاشروں میں نیند کے اوسط کے نچلے حصے کے قریب ہے۔
UCLA کے نفسیات کے پروفیسر جیروم سیگل کے مطابق، ’’سب سے بڑا نتیجہ یہ نہیں ہے کہ وہ سوتے کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اب تک کے یقین کے برعکس وہ ہم سے زیادہ نہیں سوتے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ موجودہ دور کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ دیر سوتے تھے اور یہ کہ جدید زندگی نے سونے کا وقت کم کر دیا ہے۔ لیکن نئے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ محض ایک خیال ہے۔یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے اینتھروپولوجسٹ یا ماہر بشریات گاندھی یتیش کے مطابق ریسرچ سے معلوم ہوا کہ آٹھ گھنٹے کی نیند جسے طویل عرصے نیند کا آئیڈیل دورانیہ سمجھا جاتا ہے، اس دورانیہ سے کہیں زیادہ ہے جو اصل میں حاصل کیا جا سکتا ہے: ’’اس کے نتائج نارمل نیند سے متعلق بہت سے روایتی خیالات کو چیلنج کرتے ہیں۔‘‘33عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ موجودہ دور کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ دیر سوتے تھے اور یہ کہ جدید زندگی نے سونے کا وقت کم کر دیا ہے
بولیویا، نمیبیا اور تنزانیہ کے جن باشندوں کا مشاہدہ کیا گیا ان میں سے کچھ شکار کے ذریعے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں جبکہ بعض شکار کے علاوہ اپنی خوراک کے لیے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں کا لائف اسٹائل قدیم انسانی معاشروں جیسا ہے۔
ان لوگوں کے پاس بجلی یا اس سے جلنے والی روشنیاں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سورج ڈوبتے ہی سونے کے لیے نہیں جاتے بلکہ یہ سورج ڈوبنے کے تین گھنٹے بعد تک جاگتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے قبل جاگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دوپہر میں نیند بھی بہت ہی کم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی نیند کا دورانیہ موسم کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، مثلاﹰ گرمیوں میں یہ سات گھنٹے جبکہ سردیوں میں چھ گھنٹے ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج تحقیقی جریدے کرنٹ بائیالوجی میں شائع ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…