ہم میں سے اکثر کو یاد ہوگا کہ بچپن میں وہ اکثر بظاہر حقیقی مگر اصلاً تخیلاتی بلاؤں سے ڈرتے تھے جو انہیں رات کو یا تاریک جگہوں پر دکھائی دیتی تھیں۔ بچوں کے اندھیرے میں ڈرجانے کی وجہ شاید یہ ہو کہ تاریخ میں کبھی انسانی بچے اکیلے نہیں سوئے۔ یورپ میں یہ رواج عام ہو چکا ہے کہ والدین بچے کو اس کے کمرے میں لٹا کر شب بخیر کہہ کر چلے جاتے ہیں۔ انہیں اکثر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ان کے بچے پریشان کیوں رہتے ہیں؟ ہولناک بلاؤں کو تخیل میں آباد کرنے کی بچوں کے پاس بہت سی معقول وجوہات ہیں ۔ ایسی دنیا میں جو شیروں اور بلاؤں سے بھری ہو ٗ ایک کمزور بچے میں اپنے محافظین یعنی والدین سے زیادہ دو ر جانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ جو بچے بلاؤں سے خوف زدہ نہیں ہوتے ان میں اپنے خاندان کو چھوڑ کر جانے کا رجحان کم ہوتا ہے۔ اگر ہم بچپن میں ہولناک بلاؤں کو فرض کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ جوان ہونے پر بھی ہم میں سے کچھ لوگوں میں یہ اہلیت باقی رہے؟ یہی ہولناک بلائیں اور واہمے پیدا کرنے کی اہلیت۔
ایلینز کا شکار ہونے والوں میں سے اکثر کو یہ تجربہ نیند کے دوران ہوا یا بیدار ہونے پر یاطویل راستے پر کارچلاتے ہوئے۔ جب اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ ڈرائیور نیم خوابی کا شکار ہوجائے۔ یہ بات بھی عجیب ہے کہ شکار ہونے والا توخوف سے چیخ رہا ہے لیکن برابر کی سیٹ پر اسکی بیوی سکون سے سور ہی ہے۔ کیا واقعی یہ کسی خواب جیسا تجربہ نہیں ہے کہ ہم چیخ رہے ہیں اور کسی کو ہماری چیخیں سنائی نہیں دیتی ہیں۔کیا ان کہانیوں کا تعلق ہماری نیند سے تو نہیں ہے۔ نیند میں دکھائی دینے والا خواب؟
علم نفسیات میں ایک اور اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کا ایلینز کی زیادتیوں سے زیادہ ہماری ذہنی کیفیات سے تعلق بنتا ہے۔ خوابی فالج ٗ یعنی نیند کی حالت میں ظاہر ہونے والے فالج کی کیفیت ۔ ہم میں سے بہت سوں کو اس کا تجربہ ہوا ہوگا۔ اکثر ایسا نیم خوابی کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ یہ کیفیت چند ایک منٹ کے یا کبھی طویل دورانیے پر محیط ہوتی ہے۔ اس بیچ آپ بالکل بیدار مگر ساکت ہوتے ہیں۔ آپ کو چھاتی پر بوجھ محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اس پر چڑھا بیٹھا یا لیٹا ہوا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ سانس پھول جاتا ہے۔ آپ کو آوازیں سنائی دے سکتی ہیں یا ہوسکتا ہے کہ آپ کو انسان ٗشیطان ٗ بھوت ٗ جانور یا پرندے وغیرہ دکھائی دیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تجربے کے اثرات کسی حقیقی تجربے جیسے ہی گہرے اور شدید ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کاخیال ہے کہ ایلینز کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد کے تجربات کا تعلق اسی خوابی فالج کی کیفیت سے ہے۔ کچھ افراد تخیل پسند بھی ہوتے ہیں کہ حقیقت سے زیادہ خیالات کی دنیامیں رہنا پسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھوٹ بھی بولتے ہیں۔
کینیڈا کے ماہر عصبیات ’’وائلڈر پین فیلڈ‘‘ کی تحقیقات کی بناء پر ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے خاص حصوں میں پیدا ہونے والی برقیاتی لہروں کی وجہ سے واہمے پیدا ہوتے ہیں۔ جو لوگ مرگی کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں پیشانی کے عقبی حصے میں واقع دماغ کے ایک حصے میں مسلسل پیدا ہونے والے برقیاتی جھٹکوں کا عارضہ لاحق ہوتا ہے‘ انہیں ایسے واہموں کا تجربہ ہوتاہے جو بالکل حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے عجیب مخلوقات کو دیکھنا ٗ ہوا میں تیرنا ٗ جنسی تجربات اور وقت کے گم ہوجانے کا احساس ہونا وغیرہ۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی معاملے کی بہت سمجھ آچکی ہو او ریہ کہ اسے عام کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ جسم کے کسی ایک حصے کا جھٹکوں کی زد میں آجانا صرف مرگی کے مریضوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عام ذہنی صحت کے لوگ بھی اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ سو ایک خیال یہ ہے کہ ایسے واہمے جو قدرتی طورپر یا کسی خاص کیمیکل یا کسی تجربے کے باعث پیدا ہوتے ہیں ‘ہوسکتا ہے اڑن طشتریوں کے حوالے سے بیان کئے جانے والے قصوں کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوں۔



















































