یونہی عام خوابوں میں دکھائی دینے والے مناظر واہمات کی صورت میں تب دکھائی دیتے ہیں جب دن اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ یعنی حواس کی روشنی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اندر کی روشنی ابھی نہیں بجھتی۔ یعنی دماغ کی بیداری عمومی سطح پر قائم رہتی ہے اور یوں دماغ میں موجودکمرے کی تصویر سے شبیہیں ابھرتی رہتی ہیں جو بظاہر حواس کی’ ’کھڑکیوں‘‘ کے باہر سے ظاہر ہوتی معلوم ہوتی ہیں۔
ایسی ہی ایک اور مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ ستاروں کی طرح ہمارے خواب بھی ہروقت تاباں رہتے ہیں۔ دن کے وقت عام طور پر ستارے دکھائی نہیں دیتے کیونکہ سورج کی چمک بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ لیکن اگر دن کے وقت سورج گرہن واقع ہو یا اگر غرو ب آفتاب کے فوراً بعد یا طلوع آفتاب سے فوراً پہلے آسمان کو دیکھا جائے ٗ یا اگر ہم کسی رات جب آسمان ابر آلود نہ ہو ٗ وقفے وقفے سے جاگتے رہیں تو ہمیں یہ ستارے خوابوں کی طرح ہمیشہ دکھائی دیں گے۔
دماغی کیفیات سے ہی جڑا ہوا ایک تصور معلومات کے حصول کی مسلسل سرگرمی سے متعلق ہے جو شعوری اور لاشعوری دونوں طرح کے عناصر سے متاثر ہوتی اور خوابوں کے مواد کی فراہمی کا باعث بنتی ہے۔ خواب ایک تجربے کی مانند ہوتاہے جس دوران چند منٹوں کے لیے انسان کو ان معلومات کا معمولی سا شعور ہوتا ہے جن کا بہاؤ دماغ میں جاری رہتاہے۔ بیداری کی حالت میں ظاہر ہونے والے واہمے انہی عناصر پر مبنی ہوتے ہیں جو کسی قدر مختلف طرح کی ذہنی اور اعصابی کیفیات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے تمام انسانی رویے اور تجربات‘ چاہے وہ نار مل ہوں یا ابنارمل‘ واہموں اور التباسات کے اثرات سے تہی نہیں ہوتے۔ ان واہموں کے انسانی ذہنی بیماری سے تعلق پر خاطر خواہ تحقیق ہوئی ہے۔ لیکن ہماری روزمرہ زندگی میں اس کے کردار کو عملاً نظر انداز کیا جاتاہے۔ نارمل ذہنی صحت کے لوگوں کی شخصیت میں واہموں کے کردار کی توضیح سے ہم ان خاص تجربات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہوسکتے ہیں جنہیں ہم روحانی اور ماورائے حواس کہہ کر عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اگر ہم یہ ماننے سے انکار کردیں کہ واہمے انسانی کردار کا حصہ ہیں‘ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنی ذات کے ایک بڑے حصے کو سمجھنے کی راہ خود ہی مسدود کر رہے ہیں‘ ہم میں سے پانچ سے دس فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں اعتماد کے ساتھ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ اگر انہیں ہپناٹائز کر کے کوئی حکم دیا جائے تو وہ اس پر عمل کریں گے۔
بچہ کوئی چونکا دینے والی کہانی گھڑتاہے جیسے تاریک کمرے میں کوئی چڑیل قہقہے لگا رہی ہے ٗ شیر بسترکے نیچے چھپا ہوا ہے۔ یا یہ کہ یہ برتن اس لیے نہیں ٹوٹا کہ وہ گیند اسے لگا جس سے بچہ کھیل رہا تھا بلکہ اسے ایک پرندے نے توڑا تھا جو کھڑکی کے راستے باہر اڑ گیا‘ وغیرہ وغیرہ‘ کیا واقعی بچہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے؟ بے شک والدین اکثر اپنے رویے سے ایسا ہی ظاہر کرتے ہیں کہ بچہ حقیقت اور تخیل میں فرق کرنے کے قابل نہیں ہوا ۔ کچھ بچوں میں مضبوط قوت تخیل ہوتی ہے۔ کچھ اس سے محروم ہوتے ہیں یا ان میں یہ حس کمزور ہوتی ہے۔
کچھ والدین بچوں کی قوت متخیلہ کی قدر اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں کچھ یوں بھی کہیں گے ’’اوہ ہاں! یہ سچ نہیں ہے۔ دراصل تم نے اسے یوں سوچا ہے۔‘‘ کچھ والدین بچے کی ایسی باتوں پربرہم ہوجاتے ہیں ۔ان کے خیال میں بچے کی ایسی باتیں خانگی حالات میں کشیدگی کا باعث بنتی ہیں۔ وہ ان باتوں پر بچے کو ڈانٹتے بھی ہیں اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا نہایت شرم ناک بات ہے۔ کچھ والدین واقعتاًحقیقت اور متخیلہ کے درمیان فرق اور ان کی افادیت سے لاعلم ہوتے ہیں۔ والدین کے ان مختلف قسم کے رویوں کے نتیجے میں کچھ لوگ بہت گہری اور مضبوط قوت کے تخیل کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص حقیقت اور تخیل کے باہمی فرق کو نہیں سمجھ پاتا‘ وہ ذہنی مریض ہے جبکہ ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ان دونوں طرح کے لوگوں کے بین بین ہوتے ہیں۔
ایلینز کی زیادتی کا شکار ہونے والوں کے بیانات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بچپن میں انہیں ایک سے زائد مرتبہ ایلینز کی زیادتی کا شکار ہونا پڑا۔ جبکہ یہ ایلینز کھڑکی کے راستے سے بستر کے نیچے سے یا الماری کے اندر سے کمرے میں داخل ہوئے ۔دنیا بھر میں بچے اسی طرح کی کہانیاں سناتے ہیں جو ان کے مختلف تخیلاتی دوستوں سے متعلق ہوتی ہیں ۔ جیسے پریاں ٗ بھوت ٗ جادوگرنیاں ٗ وغیرہ۔ کیا ہم بچوں کے دوگروہ بناسکتے ہیں۔ ایک تو وہ جو تخیلاتی چیزوں کو تصور کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اوردوسرے وہ جو واقعتا غیر زمینی مخلوقات کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا اس سے زیادہ معقول بات یہ نہیں ہوگی کہ ہم سوچیں دونوں گروہ ایک جیسی اشیاء کو دیکھ یافرض کررہے ہوتے ہیں؟



















































