ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایلینز سے ملاقات والے واقعات جو ہوش اڑا دینے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |

ہوسکتا ہے غیر زمینی مخلوق یعنی ایلینز کی زیادتی کی کہانیوں کا منبع اڑن طشتریوں کے علاوہ بھی کوئی ہو۔ آئیے کچھ ایسے ہی امکانات پر بات کرتے ہیں۔
1894ء میں لندن سے ایک کتاب ’’بیدار التباسات پر عالمی رائے عامہ‘‘ کے نام سے چھپی۔ تب سے اب تک کتنے ہی سروے ہو چکے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دس سے پچیس فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں زندگی میں کم از کم ایک بار ضرو ر نظری التباس یا واہمے کا تجربہ ہوا تھا۔ جیسے آواز سننا یا کہیں کوئی ایسی شے دیکھنا جو وہاں موجود نہ ہو ٗ وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کبھار لوگ موسیقی سنتے ٗ کوئی کشف حاصل کرتے یا کوئی نشہ آور خوشبو سونگھتے ہیں۔ بعض معاملات میں یہ گہرے واہمے مذہبی تجربات یا روحانی مشاہدات کا روپ دھار لیتے ہیں لیکن ہوسکتا ہے واہمے یا التباسات روحانی و مذہبی تجربات کو سائنسی انداز میں سمجھنے کا ایک وسیلہ ہوں جسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
ایسا درجنوں تجربات آپ کے ساتھ بھی ہو چکے ہوں گے جن میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ آپ کو اپنی ماں یا باپ کی آواز سنا ئی دی جیسے وہ آپ کو پکار رہے ہوں۔ جب وہ زندہ تھے تو اسی آواز میں انہوں نے کتنی ہی بار آپ کو پکاراہوگا‘ کوئی بات کہنے‘ کوئی کام بتانے یا یاد کروانے ٗ کھانے پر بلانے ٗ یا آپ سے کوئی بات سننے کے لیے۔ اگر آپ کے والدین فوت ہوچکے ہیں تو آپ زندگی میں ان کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہوں گے۔ اس لیے یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ اکثر ان کی آوازوں سے متعلق آپ کی یادداشت بیدار ہوجاتی ہے۔
ایسے التباسات نارمل ذہنی صحت کے افراد کو بالکل نارمل حالت میں پیش آسکتے ہیں۔ یہ واہمے خود بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں جیسے رات کے وقت خیموں کے نزدیک جلتے الاؤ میں ٗ ذہنی دباؤ کے دوران ٗ شدید سر درد یا تیز بخار میں ٗ طویل فاقہ کشی یا بے خوابی کی کیفیت میں ٗ قید تنہائی میں‘ یا واہمے پیدا کرنے والی دواؤں اور چرس وغیرہ کے ذریعے۔ کچھ ایسے مالیکیول ہیں جو واہموں کو دور کرتے ہیں جیسے فینوتھیا زائنز وغیرہ۔ نارمل انسان کاجسم خاص طرح کا جوہر پیدا کرتا ہے جس میں مارفین کی طرح کے چھوٹے دماغی پروٹینز شامل ہوتے ہیں اور جنہیں اینڈوفینز کہا جاتا ہے‘ یہ واہموں کا سبب بنتے ہیں۔
ان واہموں کی اعصابی اور ذہنی حوالے سے چاہے کیسی ہی تشریح کی جائے‘ یہ بالکل حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ مختلف اقوام عالم میں انہیں بہت اہمیت دی گئی ہے ۔انہیں روحانیت سے منسوب کیا جاتاہے۔ مغربی میدانوں کے امریکی یا سائیبیریا میں رہنے والے قبائل میں یہ رواج عام ہے کہ وہ کسی بھی نوجوان کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیشین گوئی ان واہموں کو بنیاد بنا کر کرتے ہیں جن کا وہ خاص روحانی ریاضت میں کامیاب ہونے کے بعد تجربہ کرتا ہے۔ ان واہموں کے مفاہیم پر غور و خوض کیاجاتا ہے اور قبیلے کے بزرگ اور مذہبی رہنما ان کی تعبیریں پیش کرتے ہیں۔ مذاہب عالم میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن میں بزرگان ٗ پیغمبران یا نجات دہندگان صحراؤں ٗ پہاڑوں کی اور نکل جاتے تھے اور فاقہ کشی اور تنہائی کا عذاب سہہ کر خود میں اتنی روحانی قوت پیدا کرلیتے تھے کہ دیوتاؤں اور شیطانوں سے ہم کلام ہوسکیں۔ مختلف نفسیاتی کیفیات پر مبنی مذہبی تجربات 1960ء کی دہائی میں مغربی نوجوان نسل کا خبط بن گئے۔ اس طرح کے تجربات کے لیے مقدس ٗ الہامی ٗ جیسے الفاظ استعمال کئے جاتے تھے۔
واہمے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اگر آپ کو کسی واہمے کا تجربہ ہواہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ پاگل ہیں۔ قدیم اقوام کا ادب واہموں اور خوابوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ عناصر ایک تہذیب سے دوسری تہذیب میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
درج ذیل پیراگراف ’’انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا‘ ٗ کے پندرھویں ایڈیشن سے لیا گیا ہے:
’’ایک شخص کو تصور کیجئے جو اپنے آتش دان کے سامنے کھڑکی کے بند شیشے کے پٹ کے آگے کھڑا ہے۔ غرو ب آفتاب کا وقت ہے۔ وہ اپنے باغ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ باہر کے نظاروں میں اس قدر محو ہے کہ کمرے کی اندرونی خوبصورتی کو بالکل ہی فراموش کربیٹھا ہے۔ باہر رات گہری ہو رہی ہے۔ تاہم اس کے عقب میں موجود کمرے کا سامان مبہم انداز میں اسے اپنے سامنے کھڑکی کے شیشے میں دکھائی دیتا ہے۔ اب صورت یوں ہے کہ اگر تو وہ پرے دیکھتا رہے تو ہوسکتا ہے اسے باغ دکھائی دے۔ اگر وہ شیشے کو ہی دیکھے تو اسے کمرے کی اشیا نظر آئیں گی۔ آتش دان میں لکڑیاں جل رہی ہیں اور کمرے کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ وہ شخص اب شیشے میں اپنے پیچھے موجود کمرے کا سامان واضح انداز میں دیکھ سکتا ہے لیکن جوں جوں آگ دھیمی ہوتی ہے‘ شیشے میں یہ منظر بھی دھندلا جاتا ہے۔ پھر جب اندر باہر ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے‘ تواسے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ وقفے وقفے بعد جب راکھ میں سے چنگاری بھڑکتی ہے تو لمحاتی طور پر شیشے میں منظر کچھ کچھ دکھائی دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…