کئی برسوں بعد بار نی کے معالج نے اسے بوسٹن کے نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا۔ نفسیاتی معالج نے ہپناٹزم کے ذریعے بیٹی سے بھی بہت کچھ اگلوا لیا۔ ہپناٹزم کے ذریعے انہوں نے ان دو گم شدہ گھنٹوں سے متعلق مختلف تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے اڑن طشتری کو سڑک پر اترتے دیکھا‘ انہیں اغوا کر لیاگیا۔ اس عرصے میں وہ قریب قریب بے حرکت رہے۔ ایلینز کچھ کچھ انسانی شکل و صورت کے تھے ۔ان کی ناکیں لمبی تھیں۔ وہ چھوٹے قداور بھور ی رنگت والے تھے۔ انہوں نے ان دنوں پر مختلف طبی تجربے کئے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کو یہ تجربات ہوچکے ہیں کہ اس مخلو ق نے بیٹی کی بچہ دانی سے جنین اور بارنی کے جسم سے مادہ منویہ چرایا تھا۔ حالانکہ ان دونوں نے جو کہانی سنائی اس میں یہ دونوں باتیں شامل نہیں تھیں۔ جہاز کے کپتان نے بیٹی کو ایک نقشہ بھی دکھایا جس میں جہاز کے خلائی سفر کے راستے بنائے گئے تھے۔
مارٹن کوٹ میئر لکھتا ہے کہ بار نی کی کہانی 1953ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’مریخ کے حملہ آور‘‘ سے کافی حد تک متاثر معلوم ہوتی ہے۔ بارنی نے تنویم کی کیفیت میں ایلینزکی بے شمار آنکھوں کی بات کی تھی۔ اس کے یہ بیان دینے سے کوئی بارہ روز پہلے ٹی وی پر ایک ڈرامہ چلا تھا جس میں ایلینز کی یونہی بے شمار آنکھیں بتائی گئی تھیں۔
ان میاں بیوی کی کہانی پر بڑی لے دے ہوئی۔ 1975ء میں ایک ٹی وی ڈرامے میں یہ خیال متعارف کروایا گیا کہ چھوٹے قد کے بھوری رنگت والے ایلینزہمارے ارد گرد ہر طرف موجود ہیں اور انسانیت کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ عام طور پر جو سائنس دان اڑن طشتریوں کی معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ وہ انسانوں کے اغواء ہونے والی بات پر یقین نہیں کرتے ۔ اسی طرح جو لوگ انسانوں کے اغواء ہونے والی بات پر یقین رکھتے ہیں‘ان کے لیے یہ بات کم اہم ہے کہ وہ ان طشتریوں کوآسمان پر چمکتی روشنیاں یا صرف غیر زمینی مخلوق کے جہاز سمجھیں جو بے ضرر ہیں۔
ایریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز میکڈونلڈ نے اڑن طشتریوں سے متعلق واقعات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اڑن طشتریوں کے بارے میں اس کے نظریات کی بنیاد کسی ناقابل تردید ثبوت پرقائم نہیں ہے بلکہ یہ اس کے غور و فکر کا نتیجہ ہیں۔ 1960ء کی دہائی کے وسط میں میں نے خلا بازوں اور سائنس دانوں کے ایک گروپ کے ساتھ اس کی ملاقات کا بندوبست کیا تھا۔یہ وہ ماہرین تھے جن کی اڑن طشتریوں سے متعلق کوئی مثبت یا منفی رائے نہیں تھی۔ اس ملاقا ت میں میکڈونلڈ نے ان کے سامنے اپنی کتاب میں سے بہترین واقعات پیش کئے لیکن وہ کسی کو یہ بات ماننے پر آمادہ نہیں کرپایا کہ یہاں غیر زمینی مخلوق آئی تھی‘ حتیٰ کہ وہ اپنی باتوں میں ان لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھنے میں بھی ناکام ہوگیا۔
ڈاکٹر سائمن ہپناٹزم کا ماہر‘ اور جنگ اورامن دونوں طرح کے حالات میں اسے تحقیق کے لیے استعمال کرنے کا حامی تھا۔ اڑن طشتریوں کے حوالے سے لوگوں کے جوش وجذبے سے متاثر ہوئے بغیر اس نے جان فلر کے بیسٹ سیلرناول’ ’ایک رک جانے والا سفر‘‘ کی رائلٹی میں سے اپنا پورا حصہ لیا کیونکہ اس ناول کے لیے اس نے بارنی کی تجربات سے متعلق تمام تفصیلات فلر کو فراہم کیں اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ بارنی نے جو کچھ کہا وہ درست تھا ‘تو ناول کی فروخت تمام ریکارڈ تو ڑ دیتی اور خود سائمن بھی امیر ہو جاتا لیکن اس نے ایسا نہیں کہا۔ بلکہ اس نے یہ خیال سرے سے مسترد کردیا کہ بارنی جھوٹا ہو سکتاہے۔ نہ ہی اس نے دوسرے ماہرین نفسیات کے اس خیال کو ہی درست تسلیم کیا کہ دونوں میاں بیوی ایک طرح کے مشترکہ ذہنی التباس کا شکار ہیں۔ ایک شخص فریب کا شکار ہوتا ہے تو دوسرا بھی اس کی پیروی کرتا ہے۔ نہ اس نے انہیں جھوٹا قرار دیا‘ نہ انہیں سچا کہا۔ باقی کیا رہ جاتا ہے؟



















































