چینی صدر نے لگایا سموسوں کا ڈھابا:
چین میں سموسے کی دکان لگانے والے ایک شخص کو صرف اس لیے پذیرائی مل رہی ہے کہ وہ چین کے صدر شی جن پینگ کا ہم شکل ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی صدر کے اس ہم شکل کا نام شائیو شنیوا ہے‘ وہ چین کے صوبہ زی جیانگ کے علاقے چانگشا میں سموسوں اور سبزیوں کا ٹھیلا لگاتا ہے۔ صدر شی جن پینگ سے مشابہت کی وجہ سے اسے علاقے کے رہنے والے لوگوں میں خاص طور پر توجہ حاصل ہوگئی ہے۔ 5سال قبل چانگ شا سے نقل مکانی کر کے آنے والے جنیوا کے ٹھیلے پر اب گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا ہے لیکن اس کی وجہ ان کے سموسے نہیں بلکہ وہ خود ہیں کیوں کہ لوگ ان کے ساتھ تصویریں بنوانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔
واہ کیا عاشقی ہے:
چین کے ایک ناکام عاشق نے اپنی سابقہ محبوبہ سے بدلہ لینے کے لیے چالیس ہزار ڈالر خرچ کرتے ہوئے چار سینما گھروں کو ایک دن کے لیے مکمل بْک کر لیا۔ اس ناکام عاشق کی محبوبہ سات سال قبل اسے غربت کا طعنہ دیتے ہوئے چھوڑ گئی تھی۔چینی دارالحکومت بیجنگ کے اِن چار آئی میکس سینما گھروں میں آج ستائیس جون کو پہلی مرتبہ ہالی ووڈ کی مشہور فلم ’ٹرانسفارمرز‘ کا پہلا شو دکھایا جانا تھا۔ اس شخص کا ٹوئٹر کی طرح کی چینی ویب سائٹ ’سینا وائبو‘ پر پیغام درج کرتے ہوئے کہنا تھا ’ہو شاؤ یوان ( سابقہ محبوبہ کا نام)! ہم دونوں جب کالج میں چوتھے سال میں پڑھ رہے تھے تو میں اس قدر غریب تھا کہ فلم دیکھنے کے لیے دو ٹکٹ بھی نہیں خرید سکتا تھا اور تم نے مجھے چھوڑ کر بیجنگ جاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ میرے حالات ہمیشہ ہی ایسے رہیں گے‘‘۔
دو لڑکیوں نے کیا دنیا کو حیران:
اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک دہشت گردی کے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے بہترین تیاری کی جائے اور ایسے آلات ایجاد کئے جائیں جو اس خطرے کو کم سے کم کردیں۔ کردستان سے تعلق رکھنے والی دو 18 سالہ طالبات ایمان عبدالرزاق اور داستان عثمان حسن بھی اسی شش و پنج میں تھیں کہ اپنے ملک کو کیسے زیادہ محفوظ بنایا جائے۔ یہی سوچتے سوچتے انہوں نے بم پکڑنے کا نہایت بہترین نظام تیار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایمان اور داستان 7 سال پہلے اپنے سکول میں تھیں کہ قریب واقعہ محکمہ داخلہ کی عمارت پر بم حملے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ نے ان کے ذہنوں پر ایسا اثر چھوڑا کہ انہوں نے دہشت گردوں کو شکست دینا اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ ایک لمبا عرصہ صرف کرنے کے بعد وہ اس میدان میں بڑے بڑے سائنسدانوں کو پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ ان کے مطابق گاڑیاں سکین کرنے کا موجودہ نظام بے حد سست ہے۔ یہ ٹریفک میں خلل کا باعث بنتا ہے اور غلطی کے امکانات بھی بہت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیاں روکنے کے بجائے روڈ کے دونوں اطراف بم پکڑنے والے آلے چھپا کر نصب کردینے چاہئیں اور ایک سڑک پر سگنل کے ساتھ لگادینا چاہیے۔ تمام گاڑیوں کو یہ آلے سکین کریں گے اور ساتھ ہی نائٹ ویژن سی سی ٹی وی کیمرا نصب کیا جائے گا۔ اس کیمرے میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ الٹروائلٹ ریز پکڑلے۔ لہٰذا اگر بم سکینر نے شعائیں خارج کیں تو سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے پولیس کو فوراً خبر ہوجائے گی۔ ایک سکینر کی قیمت قریباًاڑھائی لاکھ ڈالر ہے جس کے باعث ایمان اور عثمان خود ہی تجربہ نہ کرسکیں لیکن سکینر بنانے والی LDSنامی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نظام کام کرے گا۔ اس نظام کے تحت ایک دن میں 64 ہزار گاڑیاں سکین کی جاسکتی ہیں۔ اس تعداد کو سکین کرنے کے لئے موجودہ نظام کے تحت ایک سال سے زائد کا عرصہ چاہیے۔ مختلف کمپنیوں نے دونوں لڑکیوں سے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے رابطہ کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے حکومت کو مفت مہیا کریں گی۔ دونوں طالبان نے مقامی سائنسی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یاد رہے کہ ناکارہ بم ڈی ٹیکٹر ابھی تک عراق اور پاکستان میں استعمال کئے جارہے ہیں۔ وطن عزیز میں بم پکڑنے کا جو نظام رائج ہے اسے متعارف کرانے والے فراڈئیے کو برطانوی عدالت سے سزا بھی ہوچکی ہے۔
اف۔۔۔ اتنی مہنگی مسکراہٹ:
خلیجی ریاست قطر کی ایک خاتون نے ایک لاکھ 53 ہزار امریکی ڈالرز مالیت میں دنیا کی مہنگی ترین مسکراہٹ کی مالک بن کر اپنا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرا لیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطری خاتون نے حال ہی میں ایک امریکی دندان ساز کی مدد سے ایسی بتیسی تیار کرائی جس میں سونے کے علاوہ نہایت قیمتی ہیرے جواہرات جڑے ہیں۔ مصنوعی دانتوں میں مجموعی طور پر 160 چھوٹے اور بڑے ہیرے استعمال کئے گئے ہیں۔ ان میں 88 ہیروں کا وزن ایک اعشاریہ تین قیراط‘ 68 کا وزن ایک اعشاریہ سات قیراط جبکہ چار ہیروں کا وزن 2 اعشاریہ 8 قیراط ہے۔ مصنوعی دانتوں کے لئے 10 گرام سونے کی دھات استعمال کی گئی ہے۔ قطری خاتون کو ہیرے جواہرات سے آراستہ بتیسی تیار کروانے کا شوق میڈونا کی ایک تصویر دیکھنے کے بعد آیا۔ میڈونا نے بھی اسی ڈاکٹر سے کچھ ہی عرصہ قبل اپنے دانتوں ایک سنہری بتیسی تیار کروائی تھی تاہم وہ اتنی زیادہ مہنگی نہیں تھی۔ اس میں صرف سونے کی دھات کا استعمال کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق امریکی اداکارہ میڈونا نے دانتوں کا ایک ٹیمپلیٹ تیار کروایا تھا جس میں سونا استعمال کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیرے جواہرات سے بنائے گئے دانتوں کے کوئی طبی فوائد نہیں ہیں۔ یہ محض فیشن کے طور پر اصلی دانتوں کے اوپر سجائے جا سکتے ہیں۔
دنیا کا انوکھا فوجی اعزازکسے ملا:
افغانستان میں جنگ کے دوران اپنے ’ہینڈلر‘ کے ساتھ ہلاک ہونے والی برطانوی فوج کی ایک کتیا کو جانوروں کے اعلیٰ ترین عسکری ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔چار سالہ ساشا نامی لیبراڈور کتیا کو دھماکہ خیز مواد کا کھوج لگانے کی تربیت دی گئی تھی۔ ساشا نے متعدد فوجیوں اور عام شہریوں کی جان بچانے میں اہم کرداراداکیا تھا۔ ساشا کو پی ڈی ایس اے ڈکن میڈل دیا جائے گا جو جانوروں کے اعزازات میں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس کے برابر ہے۔ ساشا کو سیکنڈ بٹالین کے ساتھ تعینات رائل آرمی ویٹرنری کور کے ہینڈلرز کے ساتھ میدانِ جنگ میں بھیجا گیا اور وہ 2008 ء میں لانس کورپورل کینتھ رو کے ہمراہ طالبان کے ایک حملے میں ہلاک ہوگئی تھی۔ سا شا کی ذمہ داریوں میں مختلف علاقوں میں فوجیوں کے ساتھ جا کر بارودی سرنگوں کا سراغ لگانا تھا تاکہ فوجیوں کے لیے محفوظ راستوں کا تعین کیا جا سکے۔ پی ڈی ایس اے کا کہنا ہے کہ ’ساشا کی طالبان حملوں کے باوجود آگے بڑھنے کی لگن فوجیوں کے جذبے کے لیے بہت مثبت تھی جو اپنی زندگیاں بچانے کے لیے اس کی اسلحہ سونگھنے کی صلاحیت پر اعتماد کرتے تھے‘ 2008ء میں اسے لانس کورپورل کینتھ رو کے ساتھ تعینات کیا گیا اور اس ٹیم کو قندہار کے علاقے میں بہترین مانا جاتا تھا۔ ساشا کے ساتھ کام کرنے والے فوجی ایسے متعدد واقعات یاد کرتے ہیں جب اس نے مشن کے دوران ان کی مدد کی ہو۔ ایک واقعے میں ساشا نے دو مارٹر گولے‘ دھماکا خیز مواد اور بارودی سرنگوں سمیت ہتھیاروں کی بڑی مقدار کا سراغ لگایا تھا۔ اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ صرف اس ایک تلاشی کے عمل نے بہت سے فوجیوں اور شہریوں کی جان بچائی۔ 2008ء میں اسے لانس کورپورل کینتھ رو کے ساتھ تعینات کیا گیا اور اس ٹیم کو قندھار کے علاقے میں بہترین مانا جاتا تھا۔
مس ورلڈ کیسے بنا جاتا ہے آپ جان کر کانپ جائیں گے؟
دنیا کے متعدد ممالک کی خواتین مس ورلڈ بننے کے خواب دیکھتی ہیں لیکن جنوبی امریکا کے ملک وینزویلا میں یہ شوق جنون کی حدوں سے بھی گزرچکا ہے اور والدین اپنی چار سالہ بیٹیوں کو ہی مستقبل میں مس ورلڈ بنانے کیلئے ان کی سخت تربیت اور آزمائشیں شروع کردیتے ہیں۔
اس ملک میں غربت عام ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بیٹیوں کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنا کر ان کی زندگی سنوارنے کا طریقہ اپنالیا ہے۔ لڑکیوں کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ابتک 6 مس ورلڈ‘ 7 مس یونیورس‘ 6 مس انٹرنیشنل اور 2 مس ارتھ خطابات اس ملک نے جیتے ہیں۔ یہاں لوگ چار سال کی بچیوں کو بیوٹی سکولوں میں داخل کروادیتے ہیں جہاں انہیں مخصوص خوراک دی جاتی ہے اور ورزشیں کروائی جاتی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں ان کے کولہوں کو نمایاں کرنے کیلئے آپریشن کرکے ان میں مائع سیلیکون ڈالی جاتی ہے اور 15 یا 16 سال کی عمر میں ایک آپریشن کے ذریعے آنتوں کا کچھ حصہ کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے تاکہ خوراک پوری طرح جسم میں جذب ہوئے بغیر باہر نکل جائے اور وزن میں اضافہ نہ ہو۔ اسی طرح ایک اور ظالمانہ آپریشن کے ذریعے لڑکیوں کی زبان پر اسفنج نما مادہ سلائی کردیا جاتا ہے تاکہ یہ ٹھوس اشیاء نہ کھاسکیں۔ اس قدر بے رحمانہ مراحل سے گزارنے کے بعد ہزاروں لاکھوں لڑکیاں مقابلہ کرتی ہیں لیکن ان میں سے ایک کو ہی ملکہ کا اعزاز ملتا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین صحت کی بار بار وارننگ کے باوجود ان لوگوں کا جنون جاری ہے۔
چائے کا ایک کپ 13ہزار میں:
کیا آپ 13 ہزار ڈالرمیں گرم چائے کا ایک کپ پینا پسند فرمائیں گے؟ یہ دعویٰ بیکن نام کی کمپنی کا ہے جن کا کہنا ہے کہ تیرہ ہزار ڈالر کی مالیت کی چائے بنانے والی ان کی مشین ’بہترین چائے‘ بنا کر دے سکتی ہے۔ مشین بنانے والی کمپنی بیکن کا کہنا ہے کہ گرم پانی میں چائے کی پتی ڈالنے کے مقابلے چائے کو دم پر پکانے کا عمل خاصا پیچیدہ ہے۔ اس مشین کے نمونے امریکہ کی کافی شاپس میں تجربے کے طور پر لگائے گئے ہیں اور یہ مشین اس سال کے اواخر تک کمرشل استعمال کے لیے دستیاب ہوگی لیکن ماہرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ صرف چائے بنانے کے لیے کوئی اتنی بڑی رقم خرچ کیوں کرے گا۔ اس مشین میں چائے دم کرنے کا ایک انوکھا نظام ہے جسے ’ریورس ایٹموسفیئرک انفیوژن‘ کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے تحت پیدا ہونے والی خلا کے سبب چائے کی پتی پانی کے اوپر تیرنے لگتی ہے اور کمپنی کے مطابق اس سے پتی کا جو شاندار ذائقہ نکل کر آتا ہے وہ صرف گرم پانی میں چائے کو ابالنے سے نہیں آسکتا۔ اس کے بعد اس عمل کو 60 سے 90 سیکنڈز میں دہرایا جاتا ہے اور یہ مشین ایک گھنٹے میں 60 سے زیادہ کپ چائے بنا سکتی ہے۔ کیمبرِج کنسلٹنٹ نام کی کمپنی نے کیپسیول سے چائے بنانے والی پہلی مشین بنانے میں مدد کی تھی۔ یہ کمپنی اپنی مشین بازار میں لانے کی تیاری کر رہی ہے جس کی قیمت ایک روایتی کافی بنانے والی مشین کی قیمت کے برابر ہوگی۔



















































