شیشے سے بنائی گئی ہیں جن میں انسولیشن سسٹم بھی نصب ہے۔
عمارت میں59تیزر فتار لفٹس نصب کی گئی ہیں‘ ان میں سے پانچ لفٹس ڈبل ڈیک اور تین ٹرپل ڈیک ہیں۔ ٹرپل ڈیک لفٹس دنیا میں پہلی بار اسی عمارت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ ہر لفٹ ایک سیکنڈ میں دس میٹر بلند ہوتی ہے۔ یہ رفتار انتہائی تیز شمار ہوتی ہے۔ اس رفتار سے اس بات کا بھی اندازہ لگانا آسان ہے کہ1000میٹر بلند عمارت کی بالائی یا آخری فلور پر پہنچنے میں کتنے منٹ صرف ہوں گے۔ عمارت میں دفتری استعمال کے لئے مجموعی طورپر 54000مربع میٹر کا علاقہ مختص ہے۔ یہ علاقہ عمارت کی نچلی اور اوپری منزلوں پر مشتمل ہے جبکہ درمیان میں رہائشی اپارٹمنٹس بنائے گئے ہیں۔
جدہ مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے گیٹ وے کی حیثیت رکھتاہے۔ رمضان اور حج کے مہینوں میں ہر سال یہاں کم و بیش 20لاکھ غیر ملکی آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی سارا سال لاکھوں عمرہ زائرین کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ لوگ مکہ اور مدینہ میں مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد جدہ میں قیام کرنا چاہتے ہیں‘ ان کے لئے اس ٹاور میں عارضی رہائش ایک حسین تجربہ ہوگی۔
علاوہ ازیں مقامی باشندے چھٹیاں منانے کی غرض سے بھی ’’کنگڈم ٹاور‘‘ کے اپارٹمنٹس میں قیام کر سکیں گے۔ سعودی عرب کے نیم سرد موسم میں یہاں رہنے کا اپناہی مزہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ بالائی منزلوں کے رہائشی جب بھی کمرے سے باہر جھانکتے ہیں انہیں بادل اپنے قدم چومتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ خیال بھی اپنے آپ میں ایک انوکھا تصور رکھتاہے۔



















































