اللہ تعالی سورۃنور میں ارشاد فرماتا ہے’’زانی اور زانیہ کو 100کوڑوں کی سزا دو‘‘جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے اس سزا کو غیر شادی شدہ کے لئے قرار دیا اور شادی شدہ زانی کے لئے سنگسار کرنے کی سزا مقرر کی ۔ 100کوڑوں کے ساتھ 4گواہوں کی گواہی بھی لازم قرار دی گئی اور اگرکسی کو بدنام کرنے کی غرض سے یہ تہمت لگائی گئی توتہمت لگانے والے کے لئے قذف یعنی 80کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل‘ پاکستان میں بننے والے قوانین کو اسلامی شعار کے مطابق ڈھالنے کا ذمہ دار ادارہ ہے مگر یہ اتنا ہی فعال ہے جتنا نو پارکنگ کا سائن بورڈ کہ ہر کوئی اس کے سامنے ہی گاڑی کھڑی کردیتا ہے۔مولانا محمد خان شیرانی چیئرمین ہیں مگر انہیں یہ تک پتا نہیں کہ ’’ریپ‘‘کے معنی کیا ہیں ۔ افسوس کا مقام یہ ہے ملک میں آئے روز زنا کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ‘ حکومت کوئی قدم اُٹھاتی ہے اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل کوئی سفارشات پیش کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آخری بار اسلامی نظریاتی کونسل نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں سفارشات دیں تھیں یا پھر جنرل پرویز مشرف نے حدود آرڈینس کی صورت نئے قوانین کو ملک میں رائج کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔مگر پاکستان میں ’’ریپ‘‘ کے اعدادوشمار انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق عورتوں اور بچیوں کے خلاف 7515مختلف واقعات سامنے آئے‘ ان میں سے 4766یعنی 63فیصد پنجاب‘ 1628سندھ‘ 674خیبر پختونخواہ‘ 167بلوچستان اور 281ملک کے دارالحکومت میں پیش آئے جبکہ جنسی جرائم میں پنجاب676واقعات کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ 2013ء میں اب تک 2575کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں زیادتی کے310 کیس شامل ہیں۔ اس ساری صورت حال کے باوجود نہ ہی پولیس داد رسی کرتی ہے اور نہ ہی عدلیہ انصاف فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے ۔ کچھ واقعات ایسے بھی ہیں جن میں زیادتی کی شکار عورت جب پولیس کے پاس انصاف لینے گئی تو پولیس اس کی مدد کے بجائے اس کا مذاق اڑاتی رہی اور اس کی داستان مزے لے لے کر سنتی رہی۔ پولیس کے گھناؤنے کردار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انصاف کی طلبگار خواتین جب قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں تو قانون کے رکھوالے تحفظ دینے کے بجائے متاثرہ خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے پر اتر آتے ہیں ۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو گواہوں کی عدم موجودگی انصاف کی راہ کا روڑا بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہے جب عورت سے زیادتی ہو رہی ہوتی ہے تو اس وقت اگر وہاں گواہ موجود ہوں توزیادتی ہی کیوں ہو؟ ۔
فرانس ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے جہاں رقم کے عوض جسم نہ بیچا جائے ‘اس بل کو ایوان زیریں نے دسمبر 2013میں اکثریت رائے سے پاس کیا‘بل میں یہ بھی کہا گیا اگر کوئی خاتون جسم فروشی کو خیر باد کہنا چاہتی ہے تو حکومت اسے رقم دینے کیلئے تیار ہے‘ جس کے لئے 20ملین یورو مختص کئے گئے ہیں‘یہ غیر مسلم ملک فرانس ہے اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔ جہاں یہ بدنام زمانہ شعبہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ بے روی اور پستی کا شکار ہے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جسم فروشی کے پیشے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ رپورٹ کے مطابق 44فیصد عورتیں غر بت‘ 32فیصد دھوکا اور فریب۔ 18فیصدجبر و تشدد‘ 4فیصد انہی قحبہ خانوں میں پیدا ہوئیں جبکہ 2فیصد اپنی مرضی سے اس مکروہ کھیل کا حصہ ہیں۔ اس وقت پاکستان میں 15لاکھ سے زائد سیکس ورکرز معاشرے کے لئے کسی ناسور سے کم نہیں تو دوسری طرف غربت‘ دھوکا‘ فریب‘ جبر و تشدد کی وجہ سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر 15لاکھ خواتین کے پاس گاہکوں کی کمی نہیں شائد اسی وجہ سے وہ اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ نکتہ یہ بھی اہم ترین ہے کہ اگر گاہک ہی نہ ہو تو وہ بیچیں گی کیا؟۔ ان میں سے 18سے 25سال 41.8فیصد خواتین‘ 18سال سے کم عمر کی 6.21فیصد لڑکیاں ہیں۔اگر ان پڑھ اور پڑھی لکھی کا اندازہ لگایا جائے تو 56.79فیصد ان پڑھ‘ 47فیصد سیکنڈری سکول سے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں ۔ 30فیصد غیر شادی شدہ لڑکیاں اور 70فیصد شادی شدہ خواتین ہیں۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ پاکستان کی مقامی خواتین کے علاوہ غیر ملکی خواتین بھی مکروہ شعبے سے منسلک ہیں‘ گزشتہ 10 برسوں میں بنگلہ دیش سے 5 لاکھ خواتین‘برما سے 20 ہزار‘افغانستان سے ایک لاکھ اور روسی ریاستوں اور دیگر ممالک سے ہزاروں خواتین پاکستان آئیں اور اس دھندے سے منسلک ہوگئیں۔ دوسری طرف اس بے راہ روی کے نتیجے میں ایڈز جیسی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور اب تک80ہزار کے قریب افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسی طرح خواتین سیکس ورکرز کے مقابل جسم فروش لڑکوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن میں نو عمر بچوں کی زیادہ تعداد قابل تشویش ہے۔افسوس کی بات ہے کہ قوم عاد وثمود جس وجہ سے عذاب کی مستحق ٹھہری تھیں وہی کام آج پاکستان میں ہو رہا ہے۔خوفناک امر یہ ہے کہ ایک عام لڑکی اس قبیح پیشے سے ماہانہ25سے30 ہزار روپے کما تی ہے جبکہ لڑکے50سے70ہزار روپے کما لیتے ہیں۔5سال قبل لاہور شہر میں 200 کے قریب قحبہ خانے تھے جو اب 445کے قریب ہیں جبکہ جسم فروشی میں دوگنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور شہرمیں 1 لاکھ سے زائد جسم فروش خواتین اور لڑکے ہیں جن میں 12\13 سال کی عمر سے لیکر 40\45 سال تک کی عمر کے افراد شامل ہیں اور ان کی تعداد میں 100 سے لیکر 200 افرادتک ماہانہ اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں ایڈز کا پہلا مریض 1987ء میں رپورٹ کیا گیا تھا جبکہ اب 70سے80ہزار افراد ایڈز میں مبتلا ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مگر افسوس کہ نہ ہی حکومت ان قحبہ خانوں کا بند کروانے میں دلچسپی لیتی ہے اور نہ ہی لوگوں میں یہ شعور ہے کہ ایک طرف جہاں وہ دینی حدود کو پامال کر کے گناہگار ہو رہے ہیں وہیں موت کے منہ میں جا رہے ہیں لیکن حکومت کو اس حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں‘قوم تباہ ہو رہی ہے ‘ معاشرہ گندی نالی میں گر رہا ہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کے مقابلے میں آپ فرانس کو دیکھ لیں‘ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی فرانس کی پارلیمنٹ میں نومبر 2013 ء میں ایک ایسا بل پیش کیا گیاجس میں جسم فروشی کو جرم قرار دینے کے ساتھ ساتھ گاہک کو 3000یورو(ساڑھے چار لاکھ پاکستانی روپے) اور چھ ماہ کی قید کی سزا بھی تجویز ہوئی ہے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ فرانس میں محض 20ہزارافراد اس شعبے سے وابستہ ہیں جن میں 80فیصد بیرون ملک سے آ کر آباد ہوئے ہیں۔ فرانس ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت رقم کے عوض جسم کو نہ بیچا جائے اور عوام کو اس سے دور رکھا جائے۔ اس بل کو ایوان زیریں نے دسمبر 2013میں اکثریت رائے سے پاس کر لیا۔ اس بل کے حق میں 268ووٹ جبکہ مخالفت میں 138ووٹ ڈالے گئے۔ بل میں یہ بھی کہا گیا اگر کوئی خاتون جسم فروشی کو خیر باد کہنا چاہتی ہے تو حکومت اسے رقم دینے کیلئے تیار ہے‘ حکومت نے ان خواتین کیلئے 20ملین یورو مختص کئے ہیں تاکہ یہ خواتین اس بدنام شعبے کو چھوڑ باعزت کاروبار کر سکیں۔یہ غیر مسلم ملک فرانس ہے اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ جہاں یہ بدنام زمانہ شعبہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ بے روی اور پستی کا شکار ہے۔



















































