بذریعہ سمندر یورپ پہنچنے کے خواہمشند بہت سے لوگ بحیرہ روم میں ہی ڈوب کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور ایسے حادثات کی خبریں شہ سرخیاں بنتی رہتی ہیں۔ ہلاک ہونے والے ایسے افراد میں ایک بڑی تعداد افریقی باشندوں کی ہے۔افریقی ملک تنزانیہ سے تعلق رکھنے والی اور , شعبہ انگریزی سے منسلک Asumpta Lattus اپنے تبصرے میں لکھتی ہیں کہ جب بھی وہ کہیں خبروں میں بحیرہ روم یا لامپے ڈوسا جیسے الفاظ سنتی ہیں تو وہ کانپنے لگ جاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ شمالی افریقی ممالک سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کی کسی کشتی کو اگر کوئی حادثہ پیش آیا ہے تو اس میں یقینی طور پر ان کے افریقی ساتھی بھی مارے گئے ہوں گے۔ یہ کیفیت انہیں اداس کر دیتی ہے۔آسمپٹا لاٹس لکھتی ہیں کہ شاید لوگ سوچتے ہوں گے کہ اس طرح حادثات کے بارے میں سن کر وہ بطور ایک افریقی، یورپی ممالک پر غصہ کرتی ہوں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ افریقی ممالک کی حکومتوں پر زیادہ نالاں ہیں کیونکہ وہ اس طرح کے المناک واقعات کو روکنے کے لیے کچھ زیادہ اقدامات نہیں کر رہیں۔لاٹس کہتی ہیں کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ باالخصوص یورپ میں شاید بہت کم لوگ ایسے ہوں گے، جو یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس بحرانی کیفیت کے حل کے لیے افریقی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ تبصرہ نگار کے خیال میں افریقی باشندوں کو یورپ کی طرف رخ کرنے کے بجائے انہیں دستیاب مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔افریقہ کےمسائل اور وہاں کی سستی مزدوری کی وجہ سے یورپی ممالک بہت فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ ماہی گیروں نے افریقی سمندری پانیوں سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ ناریل، پھل، سبزیاں اور پھول یہ سب کچھ براعظم افریقہ میں اگائے جاتے ہیں اور انہیں یورپ اور دیگر ممالک برآمد کر دیا جاتا ہے۔ لاٹس کے مطابق ان برآمدات کے ساتھ کوئی بھی ملک اپنے یہاں افریقی لوگوں کو خوش آمدید نہیں کہتا ہے۔مزید کہنا ہے کہ 2013ء میں یورپ نے مہاجرت کے بحران پر غور کرنا شروع کیا تھا لیکن افریقی ممالک میں اس حوالے سے ابھی تک صرف ایک ہی میٹنگ کی گئی ہے۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس میٹنگ میں دی جانے والی تجاویز میں کسی ایک پر بھی کبھی غور کیا گیا ہے یا نہیں۔ لاٹس کا اصرار ہے کہ افریقی حکومتوں کو مہاجرت کے اس بحران کو ایک حقیقی مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔اس ساری صورتحال کے تناظر میں لاٹس کہتی ہیں کہ ان سمیت کئی دوسرے افریقیوں کے لیے یہ شرمساری کا موقع ہے کیونکہ ان کے براعظم کی حکومتیں مہاجرت کے اس اہم مسئلے کو مناسب توجہ نہیں دے رہی ہیں۔ ان کے خیال میں افریقی یونین کے اجلاسوں اور دیگر علاقائی کانفرنسوں میں اس معاملے پر جامع بحث کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ افریقی عوام کی سوچ کو بدلنا ہے۔لاٹس بتاتی ہیں کہ وہ یورپ میں ایسے بہت سے افریقی لوگوں سے ملی ہیں، جو روزانہ تین ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں۔ یہ لوگ غیر قانونی طور پر اشیائ فروخت کرتے ہیں اور مشکل حالات میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ لاٹس نے اپنے براعظم سے تعلق رکھنے والوں سے مزید کہتی ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کی کوشش کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کا استحصال بھی ہوتا ہے اور کچھ خواتین جسم فروشی بھی کرتی ہیں۔لاٹس کے مطابق یورپ میں اب بھی بہت سے افریقی لوگوں کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے۔ وہ اپنے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب وہ اٹلی کی ایک یونیوسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو مرد آ کر میرے کان میں کہتے تھے، ’ایک رات کے لیے میری قیمت کیا ہے‘۔ وہ اپنے افریقی ساتھیوں سے صرف یہ کہنا چاہتی ہے کہ یہ سوچ ختم کرنا نہایت اہم ہے کہ یورپ پہنچنے سے ان کے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔
بحیرہ روم میں مہاجرین کا المیہ: ذمہ داری کس پر؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































