جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ داؤدابراہیم

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

انڈر ورلڈ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ داؤد ابراہیم ایک پراسرار کردار ہے جوبیک وقت مجرم ، دہشت گرد اور غریب پرور بھی ہے ،وہ کہاں ہے ؟کسی کو کچھ معلوم نہیں اور جسے کچھ معلوم ہے وہ کچھ بول نہیں سکتا
سانولی رنگت، درمیانے درجے کا قد اور خاموش طبع شخص سے ملنے والا کوئی بھی شخص یہ گمان نہیں کر سکتا کہ اس شخص نے امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے افسران کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

images

جنوبی ایشیاء میں کسی شخص نے جرائم کو باقاعدہ ایک صنعت کی شکل دے کر اس کے ذریعہ بے انتہا ء دولت اور شہرت حاصل کی ہے تو وہ داؤد ابراہیم کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔جرائم کی دنیا کی روایت کے مطابق یہ شخص مکمل طور پر پراسرار ہے ۔ کوئی شخص اس تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا۔ اس بارے میں تمام لب خاموش ہیں۔انٹرپول کی 2008 ء کی تیار کردہ فہرست کے مطابق ان کا نام 10 سب سے زیادہ مطلوب شخصیات میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ فوربز کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے طاقتور ترین اشخاص میں داؤد ابراہیم کا نمبر 57 ہے۔انڈیا کے سب سے بڑے جاسوسی ادارے سی بی آئی کے مطابق داؤد اپنی شناخت چھپانے کے لیئے 13 مختلف ناموں کا استعمال کرتا ہے۔ داؤد ابراہیم کا قد پانچ فٹ چار انچ ہے اور اس کی بائیں ابرو پر کالا تل ہے ۔داؤد ابراہیم کی فیملی کے بارے میں میڈیا کے پاس کوئی خاص معلومات نہیں اس کی ایک بیٹی مہ رُخ ابرہیم کی شادی مشہور کرکٹر جاوید میانداد کے بیٹے جنید میانداد کے ساتھ ہوئی۔ جاوید میانداد کے مطابق اُس کے بیٹے جنید کی داؤد ابراہیم کی بیٹی مہ رخ سے ملاقات لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہوئی ۔ داؤد ابراہیم کا ایک بیٹا قرآن مجید کا حافظ بھی ہے جبکہ اس کے ایک بیٹے کی شادی ایک برطانیہ میں رہائش پذیر ایک بزنس مین کی بیٹی کے ساتھ 2011 کے شروع میں ہوئی تھی ۔اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق داؤد ابراہیم خود بھی مذہب کی طرف مائل نظر آتا ہے ، اطلاعات کے مطابق وہ کسی روحانی شخصیت کا مرید بھی ہے اور ایک بار اس کے کسی حریف سے اس کی پیرصاحب نے اس کی صلح بھی کروائی تھی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ صلح کی یہ میٹنگ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے قریب ہوئی تھی۔
داؤد ابراہیم ایک پولیس کانسٹیبل ابراہیم کاسکر کے گھر،مہاراشٹرا کے شہر رتناگری کے ایک گاؤں ممکا میں 27 دسمبر 1955 ء کوپیدا ہوا ۔ پیدائش کے سرٹیفیکیٹ پر اس کا نام شیخ داؤد ابراہیم کاسکر تحریر ہے جبکہ اس کو داؤد ابراہیم اور شیخ داؤد حسن کے ناموں سے بھی بلایا جاتا ہے ۔ داؤد ابراہیم کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت تھوڑی معلومات مل سکی ہیں۔ پولیس کے مطابق اسے سکول سے نکال دیا گیا تھا ۔ داؤد ابراہیم کی کہانی کاپتا ممبئی سے چلتا ہے جب وہ انڈر ورلڈ گینگ امیر زادہ پٹھان کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ اس نے اپنے مستقبل کے لئے جرائم کی دنیا کا راستہ اختیار کیا اور ممبئی شہر کے جنوبی حصہ میں واقع ٹمکر سٹریٹ اور محمد علی روڈ کے ایک معمولی بھتہ خور سے جرائم پیشہ دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ہفتہ وار بھتے کی وصولی کے ساتھ اس نے منشیات کا کاروبار شروع کیا اور اپنے مخالفین کو رفتہ رفتہ راستے سے ہٹا کر وہ ممبئی کا ڈان بن گیا ۔اطلاعات کے مطابق ابتداء میں اس کا تعلق انڈر ورلڈ کے گینگ امیر زادہ پٹھان اور بعد میں حاجی مستان اور کریم لالہ سے بھی رہا۔

news-1415448557-8927
80 ء کی دہائی میں جرائم کی دنیا میں حاجی مستان کا طوطی بولتا تھا اور اس نے داؤد ابراہیم کے سر پر ہاتھ رکھا۔جس کے بعد داؤد ابراہیم نے خودمختار ہونے کیلئے کوششیں شروع کردیں جو امیر زادہ پٹھان گینگ کو انتہائی ناگوار گزریں۔ یہ گینگ دو بھائیوں امیرزادہ اور عالم زیب پٹھان کے سر پر چل رہا تھا ۔یہ دونوں بھائی کریم لالہ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔اس نے جرائم کی دنیا میں ابھرتے ہوئے داؤد کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوششیں شروع کردیں اور1981 ء ہونے والے ایک حملے میں داؤد ابراہیم کا بڑا بھائی صابر ان دونوں بھائیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
داؤد ابراہیم مقامی طور پر اس وقت مشہور ہوا جب اس پر ممبئی کے دو دادؤں عالم زیب اور امیرزادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔80 ء کی دہائی میں ممبئی پولیس نے داؤد ابراہیم کو گرفتار کرلیا تاہم بعد میں ضمانت پر رہا ہو کر وہ دبئی فرار ہوگیا ۔دبئی میں اس نے سونے کی سمگلنگ میں ہاتھ ڈالا، بالی ووڈ کی فلمی صنعت میں سرمایا لگایا، اور جائیداد بنانا شروع کیا۔اس وقت تک عام لوگ اس کے نام سے اس قدر واقف نہیں تھے ۔1980 اور 1990 میں داؤد ابراہیم انڈر ورلڈ کا’ ’سرغنہ‘‘ بن گیا اور اپنے کھربوں ڈالر کے اثاثے بنالیے ۔اس کے متعلق بننے والی رپورٹس میں اسے جوئے ، منشیات اور طوائف کے کاروبار سے منسلک کیا جاتا ہے ۔
انڈین حکام کا کہنا ہے کہ وہ قانون سے بچنے کے لیے 1986 میں دبئی چلا گیا تاہم اس کی’ ’انڈر ورلڈ‘‘ کارروائیاں جاری رہیں۔اس کا انڈین فلم انڈسٹری بالی ووڈ پر بھی خاصا اثر ہے ۔ داؤدابراہیم پر کئی فلموں کی فلمسازی اور ان میں کام کرنے کے لیے چند مخصوص اداکاروں کو پیسے دینے کا بھی الزام ہے ۔ داؤد ابراہیم کے ایک قریبی دوست کا کہنا ہے ’’کوئی بھی ان کی پیشکش رد کرنے کی جرات نہیں کرسکتا‘‘۔بالی ووڈ سے اس کے تعلقات کا راز اس وقت افشاء ہوا جب وہ شارجہ میں کرکٹ میچ کی کوریج کے دوران ٹی وی پر کئی فلمی ستاروں کے ساتھ بیٹھا نظر آیا ۔سنا ہے وہ آج بھی بھارتی فلم سٹارز کے ساتھ رابطہ میں ہے ۔ داؤد ابراہیم سے ملنے والے بھارتی فلم سٹارز میں سلمان خان، گووندا، سنجے دت اور دیگر کئی نام شامل ہیں۔
سال 1993 ء میں ممبئی میں ہونے والے بارہ دھماکوں کے بعد اس کو اُس وقت شہرت ملی جب ممبئی پولیس نے الزام لگایا کہ ان دھماکوں کے پیچھے ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم کا ہاتھ ہے ۔ اس وقت داؤد ابراہم دبئی میں تھا ۔کہا جاتا ہے کہ ممبئی میں اس کے دست راست چھوٹا راجن سے داؤد کے تعلقات انہی دھماکوں کے بعد ختم ہوگئے تھے ۔ چھوٹے راجن پر بعد میں تھائی لینڈ میں قاتلانہ حملہ ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ داؤد ابراہیم کا نمبر دو ’’چھوٹا شکیل‘‘ ہے جس کے گروہ میں ابو سالم شامل تھا ۔ تاہم بعد میں ابو سالم ان سے الگ ہوگیا تھا ۔چند سال قبل پرتگال کی پولیس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ابوسالم کو گرفتار کر لیا ہے ۔ بھارتی پولیس کے مطابق ابو سالم بمبئی میں1993 ء میں ہونے والے بم دھماکوں کا بڑا ملزم ہے۔ ان دھماکوں میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔داؤدابراہیم کے دیگر قابل اعتماد ساتھیوں میں اس کا بھائی انیس ابراہیم بھی شامل ہیں۔ اس کے ایک اور بھائی اقبال کاسکر کو دبئی پولیس نے بھارت ڈیپورٹ کر دیا تھا ، اب وہ ممبئی جیل میں ہے۔
داؤد ابراہیم اس وقت بھارت کے قانونی اداروں کے لیے مطلوب ترین شخص ہے۔ داؤد اور اس کے بھائی انیس ابراہیم پر 1993ء کے ممبئی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے جس میں 257 لوگ مارے گئے تھے جبکہ دیگر 700 زخمی ہوئے تھے ۔خیال ہے کہ یہ بم دھماکے 1992ء میں ان فسادات کے انتقام میں کیے گئے تھے جن میں گجرات میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے تھے ۔ ان فسادات کا الزام ہندو انتہا ء پسند تنظیم شیو سینا پر عاید کیا جاتا ہے ۔داؤد ابراہیم کا مقدمہ ممبئی کی خصوصی عدالت میں نہیں چلایا گیا کیونکہ عدالت نے پہلے ہی اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور پولیس ریکارڈز میں داؤد ’’مفرور ملزم‘‘ قرار دیا جا چکا ہے۔انڈین حکام کا کہنا ہے کہ داؤد ابراہیم اب پاکستان میں رہتا ہے اور س کے مبینہ روابط القاعدہ اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہلی نے پاکستان سے اسے بھارت کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ بھی کیا ہوا ہے۔

امریکابھی داؤد ابراہیم کو’ ’عالمی دہشتگردوں‘‘ میں شمار کرتا ہے ۔امریکی حکام داؤد پر اسامہ بن لادن سے تعلقات کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ امریکی حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ داؤد ابراہیم نے 1990 کی دہائی میں ’ ’طالبان کی حفاظت میں‘ ‘افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا۔ امریکا کے مطابق داؤد ابراہیم وسیع پیمانے پر منشیات کی سمگلنگ کے دھندہ میں بھی ملوث ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں منشیات کے مرکز افغانستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک میں داؤد ابراہیم کے خلاف منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا کوئی ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہے ۔یہ بات بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ امریکا کو داؤد ابراہیم مشہور امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کی تحقیقات کے لیے بھی مطلوب ہے ۔ دراصل امریکی تحقیقات کے مطابق داؤد کا قریبی ساتھی سعود میمن سعودی عرب میں کالعدم الرشید ٹرسٹ کی مالی معاونت کرتا تھا۔ یہ شخص کراچی میں کپڑے کا امیر ترین تاجر تھا۔ امریکی خفیہ اداروں کے مطابق یہ داؤد میمن ہی تھا جو فروری 2002 ء میں ڈینیل پرل کو دھوکے سے ایک فلیٹ میں لایا تھا اور وہیں ڈینیل پرل کی گردن کاٹ دی گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد سے اب تک داؤد میمن پراسرار طور پر غائب ہے جبکہ 2008 میں ممبئی میں ہونے والی دہشت گردانہ حملے میں بھی داؤد ابراہیم کو ملوث کیا جاتا ہے ۔ بھارتی اخبار ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کو داؤد ابراہیم نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی حملہ میں گرفتار ہونے والے واحد دہشت گرد اجمل قصاب نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ دہشت گردی کے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ان کو داؤد ابراہیم کی تنظیم نے ہی مہیا کیا تھا۔

گزشتہ سال اخبارات میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق داؤد ابراہیم سخت بیمار ہے اور گزشتہ دو برسوں کے درمیان اسے دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں اور محسوس یہ کیا جا رہا ہے کہ اب اس کی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔  داؤد ابراہیم ڈاکٹروں کی مسلسل نگہداشت میں ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کے دفن کے لیے ممبئی یاضلع رتنا گری میں واقع اس کے آبائی علاقے خد میں جگہ تلاش کریں۔ ی انڈر ورلڈ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ داؤد ابراہیم ایک پراسرار کردار ہے جوبیک وقت مجرم ، دہشت گرد اور غریب پرور بھی ہے ۔ اس کی نجی زندگی کے بارے میں عورتوں اور شراب سے اس کے لگاؤ کا ذکر بھی آتا ہے مگر اس سے ملاقات کے دوران آپ کو اس بات کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔داؤد ابراہیم کے بارے میں بھارتی مسلمانوں بالخصوص گجرات کے مسلمانوں میں نیک نامی کے جذبات پائے جاتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ آج بھی ممبئی اور دہلی میں داؤ دبھائی کا خفیہ راج قائم ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت، پاکستان ، دبئی ، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں با اثر ترین حکومتی شخصیات داؤد کے ذاتی دوستوں میں شامل ہیں ۔ وہ کہاں ہے ؟کسی کو کچھ معلوم نہیں اور جسے کچھ معلوم ہے وہ کچھ بول نہیں سکتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…