چانکیا کوتلیہ ہندوستان کا ایک نامور مصنف تھا‘ اس کی پیدائش مورخین کے مطابق چوتھی صدی قبل مسیح کے نصف اول میں ہوئی‘ بدھ مذہب کے راویوں کے مطابق یہ ٹیکسلا میں پیدا ہوا‘ وہیں تعلیم حاصل کی اور جوانی تک وہیں مقیم رہا۔اسکے گا ؤں کا نام چانکیا تھااور اس نسبت سے وہ چانکیا کہلایا لیکن ایک قدیم جینی مورخ ہیم چندر کے مطابق اسکے باپ کا نام چانکیا تھاجو جنوبی ہندوستان کا رہنے والا تھا جبکہ کیرالا کے مورخ دعویٰ کرتے ہیں یہ مدراسی نسل کے نمبورتی برہمن ذات کا فرد تھا‘ہندوستان میں اسے دانشوری کا شاہکار سمجھا جاتا ہے اور یہ اپنے دور سے لے کر آج تک دور اندیش‘ذہین و فطین ‘عاقل اور اصول حکمرانی کا سب سے اعلیٰ معلم قرار دیا جاتا ہے۔

جوال لال نہرو چانکیا کو ہندوستانی میکاولی مانتے ہیں بلکہ وہ اسے میکاولی سے ذہانت اور عمل میں بہتر گردانتے ہیں اسی لیے نئی دہلی میں ہندومت نہرو کے زمانے میں غیرملکی سفارت خانوں کے لیے جو علاقہ مخصوص کیا گیا اس کا نام چانکیاپوری رکھاگیا۔یکم ستمبر 1956ء کو جب امریکی سفارت خانے کی بنیادچانکیاپوری میں رکھی گئی تو امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے چانکیا کو ہندوستانی تاریخ کا عظیم ترین اور پہلا ڈپلومیٹ قرار دیا۔
چانکیا نے اس دور کی ہندو حکومت گدھ کے نندا راجہ کے دربار میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے ٹیکسلا سے پاٹلی پترا کا سفر اختیار کیا جہاں راجہ ننداراجہ نے اسکی عزت افزا ئی کے بجائے تو ہین کی ‘ چانکیا اس توہین پر مشتعل ہو گیا اور اس کے دل میں انتقام کی آگ بڑھک اٹھی۔ مسٹر وی کے سبرامنیم کے مطابق وہ راجہ نندا کے دربار سے غصے کے عالم میں بھاگ گیا جبکہ انہی دنوں راجہ نے اپنے ایک فوجی افسر چندر گپتا کو اسکی گستاخی پر برطرف کر دیا۔ چندرگپتا بھی سخت غصے کے عالم میں جنگل فرار ہو گیا جہاں اس نے دیکھا کہ ایک براہمن پانی میں شکر ملا کر کوسا نامی گھاس کی جڑوں میں ڈال رہاہے۔ اس نے حیران ہو کر پوچھا’’ تم یہ کیا کر رہے ہو‘‘ وہ براہمن چانکیا تھا ‘ اس نے جواب دیا’’ اس گھاس نے میرے پاؤں زخمی کئے‘ میں اس کی جڑوں کو مٹھاس سے بھر رہا ہوں تا کہ اس میں چیونٹیاں گھس جائیں اوراس کو کھا کر ختم کردیں‘‘۔ اسی دوران چیونٹیوں کا ایک لشکر اس گھاس پر حملہ آور ہوا اور گھاس ختم ہونا شروع ہو گئی ۔یوں چندر گپتا نے اسے استاد مان کر نندا حکومت کے خلاف اس کو اپنا دوست اور مشیر بنا لیا اور بالآخر دونوں نے نندا کو شکست دی اور چندرگپتا ہندوستان کا شہنشاہ بن گیا جبکہ چانکیا اپنی ذہانت کی بنیاد پر چندر گپتا کا آخر تک وزیراعظم رہا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ چندر گپتا کی عظیم الشان سلطنت پورے ہندوستان پر قائم تھی جس کا سب سے بڑا علمی مرکز ٹیکسلا تھااور یہ دونوں شخصیات ایک ساتھ یہاں رہیں اور گپتا نے اپنی جوانی کے اہم سال ٹیکسلا میں گزارے۔

دو ہزار سال قبل مسیح سے لیکر پندرہ سو قبل مسیح تک آرین قبائل وسط ایشیاسے ہجرت کر کے دنیا کے دوسرے علاقوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور موجودہ پاکستان میں آباد ہوئے۔ ٹیکسلاکا علاقہ ان کا ابتدائی تہذیبی مرکز بنا۔ یہ آسمانی تہذیب کے پروردہ تھے اور جانوروں کی قربانی اپنے دیوتاؤں کے حضور دنیا کی سب سے بڑی عبادت سمجھتے تھے۔ قربانی دیتے وقت ایک مخصوص نوعیت کی عبارت پڑھی جاتی تھی جس کا پہلا مجموعہ ’’رگ وید‘‘ کہلایا جس میں چھ ہزار دعائیہ نغمات تھے اور اس کی تکمیل آریائی مرکز ٹیکسلا میں ہوئی۔ اس کے بعد آنے والے ویدوں کا ماخذ یہی رگ ویدہے‘ اس شہر کو ایک اور اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ یہ آریائی تہذیب کے علم وفن کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ برہمنوں کا بھی سب سے بڑا مرکز رہا ۔ قدیم تاریخ کے مطابق سنسکرت زبان اسی علاقے میں وجود میں آئی اور اس زبان کے قواعدوضوابط صرف ونحو بنانے کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے جو مسلمہ طور پر اسی علاقے کا رہنے والا تھا۔ یوں سنسکرت زبان کی تخلیق کا سہرا بھی ٹیکسلا شہر کے سر ہے ۔
516 قبل مسیح میں ایران کے دوسرے بڑے شہنشاہ داراگستاپ کا بھی وادی سندھ میں مرکزی مقام ٹیکسلا کا ہی علاقہ تھا۔ 563 قبل مسیح میں مہاتماگوتم بدھ متعارف ہوا جس نے جوانی میں نروان حاصل کیا اور بدھ مذہب کی بنیاد ڈالی۔ بدھ مذہب میں مجسمہ سازی ایک اہم جزوہے جس نے اس مذہب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجسمہ سازی کا یہ فن ٹیکسلا سے پروان چڑھا اور جس نے گندھارا آرٹ اور گندھارا تہذیب کی بنیاد ڈالی۔ اسلام آباد اور گردونواح کا علاقہ اس لحاظ سے بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ یہ قدیم اور جدید اقوام عالم کی تاریخ‘تہذیب اور آثار کا عالمی خزانہ ہے۔



















































