ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بے اولاد جوڑوں کا محسن پروفیسر سررابرٹ ایڈورڈز

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

پروفیسرسر رابرٹ ایڈورڈز،27 ستمبر 1925 کو برطانیہ کی معروف کاؤنٹی یارکشائر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مانچسٹر سینٹرل ہائی اسکول سے مکمل کرنے کے بعد حصول معاش کی تلاش میں فوج کا حصہ بن گئے۔دوسری جنگ عظیم میں برطانوی افواج کے شانہ بشانہ لڑے۔ جنگ میں انسانیت کے اڑتے پرخچے دیکھ کردل خون کے آنسو رویا،یوں فوک کی ملازمت کو خیرباد کہہ کر دوبارہ سے تعلیم کے میدان میں قدم رکھ دیا۔زراعت سے دلچسپی کے عوض زرعی سائنس میں ایک لمبا عرصہ سر کھپایا، تاہم بعد میں ایک قدم اورآگے بڑھتے ہوئے جانوروں کی جینیات میں راغب ہوئے اور 1955 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، کچھ عرصہ بے روزگاری میں کاٹااور1963 میں یونیورسٹی آف کیمبرج سے وابستہ ہوئے اورزندگی کی آخری سانسیں بھی اسی ادارے کی وابستگی میں لیں۔

robet

’’پروفیسر ایڈورڈز کی عزت اپنے دادا کے طور پر کرتی ہوں‘‘
دنیا کی پہلی ٹیسٹ ٹیوب بچی، لوئیس براؤن زندگی کی پینتیس بہاریں دیکھ چکی ہیں ۔ وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہیں۔ پروفیسر رابرٹ ایڈورڈز کے انتقال پر لوئیس براؤن نے رنج و الم میں ڈوبے ہوئے کہا ’’وہ میرے روحانی دادا تھے،میں پروفیسر ایڈورڈز کی عزت اپنے دادا کے طور پر کرتی ہوں ‘‘۔

 پروفیسر رابرٹ ایڈورڈز نے جانوروں کی جینیات پر شبانہ روز کام کیا ، ان کے سر میں کچھ کر دکھانے کا سودا سمایاتھا ،وہ بے اولا جوڑوں کی گود ہری کرنا چاہتے تھے،پروفیسر ایڈورڈز نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ابتدائی تجربات خرگوشوں پر کئے۔ اپنے مقصد میں شاندار کامیابی کے بعد ساٹھ کی دہائی میں انسانوں پر اس کا تجربے کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ۔ 1968 میں انہیں انسانی انڈے کی افزائش کے حوالے سے کامیابی حاصل ہوئی ۔ رابرٹ ایڈورڈ زنے ہیومن کلچر میڈیا تیار کیا اور ان کے ساتھی ڈاکٹر پیٹرک نے ایوکائٹس ریکور کرنے کیلئے لیپاروسکوپی کا طریقہ آزمایا۔ انکی کاوش کی بھنک میڈیا کو پڑی تو کہرام برپا ہو گیا، انہیں شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،یہاں تک کہ برطانوی حکومت نے بھی فنڈز دینے سے صاف انکار کر دیا۔

’’پاکستان میں پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی1989میں پیدا ہوا‘‘
دنیا میں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد پچاس لاکھ سے زائد ہے، پاکستان میں پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی1989میں لاہور میں پیدا ہوا۔پاکستان میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا کارنامہ معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف نے سر انجام دیا۔ پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز کے طریقہ علاج کی بدولت پاکستان ایشیائی ممالک میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کرنے والا پہلا ملک بھی ہے۔ پاکستان میں ایک ہزار سے زائد ٹیسٹ ٹیوب بے بی جنم لے چکے ہیں۔
تنقید اورمخالفت کے باوجود رابرٹ ایڈورڈز نے حوصلہ نہیں ہارا، تحقیق کا سلسلہ جاری رہا اور انہیں اپنے خواب کی تعبیر پانے کیلئے 25 جولائی 1978 تک انتظار کرنا پڑا ، جب دنیا کی پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی لوئیس براؤن نے برطانیہ کے اولڈہم جنرل اسپتال میں آنکھ کھولی ۔ پیدائش کے وقت لوئیس کا وزن پانچ پاؤنڈ بارہ اونس تھا۔ لوئیس براؤن کی پیدائس کے واقعہ نے میڈیکل کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔آج دنیا بھر میں لاکھوں ٹیسٹ ٹیوب بے بیز کامیاب ازداوجی زندگی گزار رہے ہیں۔اگرچہ ٹیسٹ ٹیوب کا طریقہ علاج کئی ممالک میں ممنوع ہے لیکن رابرٹ ایڈورڈز اولاد کی نعمت سے محروم جوڑوں کیلئے محسن ہیں اور رہیں گے۔

ان کی بیش بہا خدمات کے اعتراف پر حکومت برطانیہ نے انہیں سر کے خطاب سے نوازا جبکہ 2010 میں انہیں نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔ممتاز سائنسدان اور کیمبریج یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن جونسن نے پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈ کو نوبل انعام دیے جانے پر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا تھا ’’ مجھے بہت حیرت ہے کہ رابرٹ ایڈورڈ کو نوبل انعام دینے کا فیصلہ کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی‘‘۔
پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز طویل علالت کے بعد10 اپریل2013 کو دنیا سے کوچ کر گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…