جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سبھاش چندر بوس کے بارے میں خفیہ فائلیں عام کر دی گئیں

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے آزاد ہند فوج کے بانی سبھاش چندر بوس کی زندگی سے متعلق 64 خفیہ فائلیں عام کر دی ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان فائلوں سے ان کی موت کا معمہ حل ہو سکے گا یا نہیں۔ سبھاش چندر بوس انقلابی رہنما تھے اور ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران طویل عرصے تک کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے۔ وہ مرتبہ پارٹی کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ مگر وہ برطانوی سامراج کے خاتمے کے لیے مسلح جدوجہد کے حامی تھے جس کے لیے مہاتما گاندھی اور کانگریس کی اعلی قیادت تیار نہیں تھی۔ ان ہی اختلافات کی وجہ سے انہوں نے اپنا الگ راستہ چنا، برطانوی حکومت کی قید سے فرار ہوئے، اور اپنی جدوجہد کے لیے جرمنی اور جاپان کے دروازوں پر بھی دستک دی۔ بعد میں انہوں نے آزاد ہند فوج تشکیل دی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی موت 1945 میں تائیوان میں ایک فضائی حادثہ میں واقع ہوئی تھی، لیکن ان کے اہل خاندان اور بہت سے مورخین یہ ماننے کو تیار نہیں۔ یہ ہی سبب ہے کہ آج تک اس پر بحث جاری ہے کہ ان کی موت کب اور کن حالات میں ہوئی۔ اس بحث کو ختم کرنے کے لیے کئی انکوائری کمیشن قائم اسی پس منظر میں مغربی بنگال کی حکومت نے وہ تمام خفیہ فائلیں عام کرنے کا اعلان کیا تھا جو اس کی تحویل میں تھیں۔ یہ فائلیں تقریباً 12 ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔ لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ ان میں کوئی ایسی ٹھوس معلومات ہوسکتی ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ حادثے کے وقت وہ واقعی طیارے میں موجود تھے یا نہیں۔ ان کے رشتے دار عرصے سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وفاقی حکومت بھی سبھاش چندر بوس کے بارے میں اپنے پاس موجود خفیہ فائلوں کو عام کرے۔ بی جے پی جب حزب اختلاف میں تھی تو اس نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی تھی۔ لیکن اب اس کا کہنا ہے کہ فائلوں کو عام کرنے سے بعض ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ جولوگ یہ مانتے ہیں کہ تائیوان میں سبھاش چندر بوس کی موت نہیں ہوئی تھی، ان کا خیال ہے کہ یا تو وہ روس میں قید تھے یا پھر اتحادی افواج سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ آزادی کے بعد ہندوستان واپس آگئے تھے اور انہوں نے اپنی باقی زندگی ایک سادھو بن کر گزاری۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…