گئے وقتوں میں انسان غاروں کا مکین تھا۔۔۔ وقت بدلا۔۔۔ انسان نے ترقی کی منزلیں طے کیں تو وہ غاروں سے عالیشان محل نما گھروں میں آ گیا، لیکن شاید آپ نہ جانتے ہوں کہ اکیسویں صدی میں بھی غاروں کی ایک بستی آباد ہے۔۔۔ یہ بستی آپ کو اپنی جانب بلاتی ہے۔۔۔ اس خوبصورت بستی کا نام ہے ۔۔۔کپادوکیہ۔۔۔

۔۔۔ترکی کے صوبے نوشہر میں واقع کپادوکیہ کے حیرت انگیز نقش و نگار دیکھ کر دل میں پہلا خیال یہی آتا ہے جیسے یہ بستی کسی ماہر مصور کے ہاتھ کا کرشمہ ہو، چاند کی سرزمین سے مشابہت رکھنے والے میدان اور وادیاں آپ کو کسی اور دنیا میں ہی لے جاتے ہیں۔ ترکی کے وسط میں واقع اس بستی میں آکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ زمین پر نہیں بلکہ کسی دوسرے سیارے پر موجود ہیں۔
کپادوکیہ کی تاریخ بھی بڑی دلچسپ ہے اور اپنے دامن میں ان گنت واقعات اور کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔۔۔ کہتے ہیں آج سے لاکھوں برس قبل اناطولیہ (1)کے پہاڑوں نے لاوا اگلا تو وہ ان پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہتا ہوا ارد گرد کے میدانوں میں دور دور تک پھیل گیا۔ لاوا سوکھنے نے کئی صدیوں کا وقت لیا اور قریباً تیس لاکھ برس قبل یہ لاوا مکمل طور پہ خشک ہو گیا لیکن خدا کی قدرت۔۔۔ زمین کے چہرے پہ عجیب و غریب نقش و نگارسے مزین علاقہ چھوڑ گیا۔۔۔ان منفرد اور عجیب و غریب خد وحال کو عوام نے دلچسپ نام سے نوازا۔۔۔ اور وہ تھا’’ پریوں کی چمنیاں‘‘۔
کپادوکیہ کی پر اسرار خاموش دنیا سے الگ تھلگ۔۔۔ غاروں سے بنی سرزمین سے کہیں دور’’کوہ حسُن‘‘ کے دونوں پہاڑ اب بھی ایستادہ ہیں ۔۔۔صدیوں قبل اپنے اندر کا سارا لاوہ زمین پہ انڈیل کر اب پرسکون کھڑے ہیں۔
مزید پڑھئے:وادی کاغان قدرتی حسن سے مالا مال
کپادوکیہ ۔۔۔ کپادوکیہ کا نام کس نے رکھا اس بارے میں کئی روایات ہیں البتہ اس کے موجودہ نام کپادوکیہ کے بارے میں عام رائے یہ ہی ہے کہ یہ فارسی کے کت پتوکہ سے نکلا ہے یعنی خوب صورت گھوڑوں کی سرزمین ۔۔۔
کپادوکیہ اپنی تاریخ، جغرافیائی خدوخال اور ثقافت کی بدولت منفرد مقام کا حامل ہے۔ اس عجیب و غریب خطے کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پالیولتھک(2) دور سے رہائش کاآغاز ہوا ۔۔۔ یہ سر زمین جہاں پرخحمانیشی (3)قوم بھی زندگی بسر کر چکی ہے اور عیسائی فرقے کے اہم ترین مراکز میں سے بھی ایک رہ چکی ہے۔ تاہم علاقے کی تحریری تاریخ کا آغازخحمانیشیوں کے دور میں ہوا۔ 322 قبل مسیح میں اسکندر عظیم نے خحمانیشیوں کو شکست فاش سے دور چار کیا۔۔۔ تاہم اس کو کپادوکیہ میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سترہویں صدی عیسوی میں کپادوکیہ کے آخری بادشاہ کی ہلاکت پریہ مقام شہنشاہت روم سے منسلک ہو گیا۔ تیسری صدی عیسوی میں کپادوکیہ میں عیسائی باشندے آئے اور یہ مقام ان کے لیے ایک تعلیمی مرکز کی حیثیت حاصل کر گیا۔ وسیع و عریض وادیوں اورآتشی نرم چٹانوں کو کاٹتے ہوئے بنائی گئی پناہ گاہیں رومی فوجیوں کے خلاف محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ عیسائیوں کے پاس شہر کے دہانوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا نظام بھی موجود تھا، پانی، خوراک ،روشن دان، نکاسی اور اخراج کا نظام۔۔۔ غرض یہ بستی تمام سہولیات اور انتظامات سے آراستہ تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں عیسائی یہاں سے چلے گئے، اب برسوں سے یہ بستی ویران تھی۔۔۔ چند برس قبل اس بستی کو سیاحوں کیلئے کھولا گیا۔

کپادوکیہ میں زمین کے اندر بنے سینکڑوں زیر زمین شہر آج بھی یہاں موجود ہیں۔۔۔ جیسے عرگپ، جوریمے وغیرہ ۔۔۔جہاں گھر، عبادت گاہیں، ہوٹل ۔۔۔سب غاروں کی صورت بنے ہیں۔ غاروں کی اس بستی کو دور سے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کئی آنکھیں کھولے دیو آپ کی جانب متوجہ ہوں۔
دیرین کیو۔۔۔ نوشہر کا سب سے بڑا زیر زمین شہر ہے۔ اس کا مطلب ہے گہرا کنواں، دیرین کا مطلب ہے گہرا اور کیو یعنی کنواں۔۔۔ اردو میں گہری دوستی اور دشمنی کیلئے استعمال ہونے والا لفظ دیرینہ کا ماخذ بھی یہی دیرین تھا۔۔۔ ایسے سینکڑوں شہر کپادوکیہ میں موجود ہیں، جو کم سے کم بھی دو منزلہ ہیں، جیسے تہہ خانے ہی تہہ خانے ہوں۔ دیرین کیو۔۔۔ جوریمے سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس شہر میں بیس ہزار افراد بیک وقت اپنے مویشی اور خوراک کے ذخیرے کے ساتھ سما سکتے ہیں۔ اس تاریخی شہر کو سیاحوں کیلئے انیس سو انہتر میں کھولا گیا تھا۔۔۔ آپ بھی یہاں کی سیر ضرور کیجئے لیکن موسم کوئی بھی ہو’’سویٹر‘‘ ساتھ لے کر آنا نہ بھولئے گا اور کلاسٹروفوبیا (غاروں یا تنگ جگہوں پر گھبرا جانے یا دم گھٹنے کا مرض)کے مرض میں مبتلا افراد یہاں آنے کا رسک نہ ہی لیں تو بہتر ہے۔
کپادوکیہ کا موسم بھی اس کی طرح عجیب ہے۔۔۔ گرمیوں میں اتنی گرمی کہ اللہ کی پناہ اور سردیوں میں آپ برفباری کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں۔ علاقے کی معیشت کا دارومدار اناج کی فصلوں، باغبانی اور ڈیری مصنوعات پر ہے، یہ خطہ فوٹو گرافی کے شوقین افراد کیلئے بھی ایک آئیڈیل مقام ہے۔۔۔ کیمرے کی آنکھ میں محفو٭۔۔۔ دل چھو لینے والے مناظر۔۔۔ فوٹو گرافرز کیلئے کسی خزانے سے کم نہیں۔ کپادوکیہ اور گیوریمے ملّی پارک ، عرگپ، جوریمے اور’’ دیرن کیو‘‘ کو 6 دسمبر 1985ء کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
کپادوکیہ کی ایک پہچان، ہاٹ ائر بیلون بھی ہیں، جو فجر کے وقت اڑا کرتے ہیں۔۔۔ فضا میں محو سفر۔۔۔ رنگ برنگے بیلون(غبارے) خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں اور آپ کو ایک دلفریب دنیا میں لے جاتے ہیں۔۔۔ جہاں سے واپس آنے کا دل نہیں چاہتا۔۔۔

ائر بیلون۔۔۔ ڈیڑھ دو گھنٹے میں اس خوبصورت وادی کی آسمانی سیر کرواتے ہیں۔ فیری چمنی کا نظارا بھی آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔۔۔ فیری چمنی ایک قدرتی ساخت تھی جو’’ لاوا‘‘ سوکھنے کے بعد اس سر زمین پر تشکیل پا گئی تھی۔۔۔ اگر کبھی آپ کو بھی ترکی جانے کا موقع ملے توکپادوکیہ کی سیر کو ضرور جائیے گا۔ یقیناًآپ مایوس نہیں ہوں گے۔
۔۔۔***۔۔۔
* اناطولیہ (1):مغربی ایشیا کا ایک جزیرہ نما ہے۔ اردو میں انگریزی اثرات کے باعث اناطولیہ کی اصطلاح رائج ہے لیکن ترک باشندے اسے اناضول یا اناضولو (ترک: Anadolu) کہتے ہیں۔ ترکی کے بیشتر حصہ اسی جزیرہ نما پر مشتمل ہے۔ اناطولیہ کو لاطینی نام ایشیائے کوچک (انگریزی: Asia Minor) سے بھی پکارا جاتا ہے۔یہ اصطلاح یونانی لفظ (اناطولے) یا (اناطولیہ) سے نکلی ہے جس کا مطلب طلوع آفتاب یا مشرق ہے۔تاریخ عالم میں اس خطے کو کافی اہمیت حاصل ہے اور یہ یونانی، رومی، کرد، بازنطینی، سلجوق اور ترک باشندوں کا وطن رہا ہے۔ آج یہاں کا سب سے بڑا نسلی گروہ ترک ہے گو یہ ترکوں کا اصلی وطن نہیں بلکہ سلجوق اور عثمانی عہد میں یہ ترکوں کا علاقہ بن گیا۔ اسے ایشیائی ترکی بھی بھی کہتے ہیں۔ ایشیائے کوچک میں زیادہ علاقہ اناطولیہ کی سطح مرتفع کا ہے۔ شمال اور جنوب میں یونٹک اور طورس کے کوہستان ہیں۔ جو مشرق میں آرمینیا کے پہاڑوں سے جا ملتے ہیں۔ شمال میں بحیرہ اسود کا سخت پتھریلا ساحل ہے۔ جنوبی ساحل میں بڑی بڑی خلیجیں ہیں۔ لیکن مغربی ساحل کافی کٹا پھٹا ہے اور اس کے بالمقابل کئی چھوٹے بڑے جزائر ہیں۔ اناطولیہ کاعلاقہ خشک ہے۔ جس میں کہیں کہیں پانی کی نمکین جھیلیں ہیں ، یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ساحلی علاقے خطہ روم کی آب و ہوا کی وجہ سے سرسبز و شاداب ہیں۔
*پالیولتھک(2) : انگریزی: Paleolithic ۔یا قدیم سنگی یا قدیم زمانہ پتھر، زمانہ قدیم جب تاریخ لکھنے کا رواج (prehistoric) نہ تھا کے اس دور کو کہتے ہیں جب انسان نے پتھر سے اوزار بنانے سیکھ لیے تھے۔ یہ دور زمین پر بنی نوع انسان کے ادوار میں سے لمبا ترین دور تصور کیا جاتا ہے، جو شاید پچیس لاکھ سال پہلے سے (جب انسان نے پتھر سے اوزار بنا کر انکو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا سیکھا) سے لے کر دس ہزار قبل مسیح (جب انسان نے زراعت کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرنا سیکھا) تک پھیلا ہوا ہے۔پالیولیتھک یا قدیم پتھر کا زمانہ کیلئے یہ اصطلاح جوہن لوبک نے 1865ء میں استعمال کی جو دو یونانی الفاظ پالیوس (paleos) یعنی قدیم یا بوڑھا اور لتھوس ( lithos) یعنی پتھر کے مجموعہ سے بنا ہے۔ پالیولیتھک عہد میزولتھک عہد کے آغاز سے ختم ہوتا ہے۔اگرچہ اس عہد کو پتھر کے اوزاروں کی تیاری اور استعمال سے تعبیر کیا جاتا ہے تاہم اس وقت انسان سے ہڈیوں، چمڑے اور لکڑی کے اوزاروں کا استعمال بھی سیکھ لیا تھا، لیکن انکی نامیاتی خصوصیات کے پیش نظر آج انکے آثار نہیں ملتے، لیکن پتھر کے اوزاروں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

*خحمانیشی (3) :حخمانیشی سلطنت (قدیم فارسی: حخمانیشیہ) 559 قبل مسیح سے 338 قبل مسیح تک قائم ایک فارسی سلطنت تھی جو عظیم ایرانی سلطنتوں کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔حخمانیشی مملکت میں موجودہ ایران کے علاوہ مشرق میں موجودہ افغانستان، پاکستان کے چند حصے، شمال اور مغرب میں مکمل اناطولیہ یعنی موجودہ ترکی، بالائی جزیرہ نما بلقان (تھریس) اور بحیرہ اسود کا بیشتر ساحلی علاقہ شامل تھا۔ مغرب میں اس میں موجودہ عراق، شمالی سعودی عرب، فلسطین (اردن، اسرائیل اور لبنان) اور قدیم مصر کے تمام اہم مراکز شامل تھے۔ مغرب میں اس کی سرحدیں لیبیا تک پھیلی ہوئیں تھیں۔ 7.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی حخمانیشی سلطنت تاریخ کی وسیع ترین سلطنت تھی اور آبادی کے لحاظ سے رومی سلطنت کے بعد دوسری سب سے بڑی سلطنت تھی۔ یہ سلطنت 330 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔سلطنت کا پہلا حکمران کورش اعظم یا سائرس اعظم تھا جبکہ دارا سوم اس کا آخری حکمران تھا۔ حخمانیشی سلطنت کا دارالحکومت پرسیپولس یعنی تخت جمشید تھا جبکہ آتش پرستی ریاستی مذہب تھا۔



















































