کسی سے سوال کیا جائے کون سا شہر پانی پر آباد ہے تو فوری جواب ملتا ہے’’وینس‘‘ مگر آج ہم آپ کو ایسے بہت سے شہروں کی سیر کروائیں گے جو وینس کی طرح پانی پر آباد ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ شہر دنیا سے زمینی طور پر کٹے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود زندگی کی تمام آسائشیں یہاں بآسانی دستیاب ہیں۔ ان شہروں کی بناوٹ اس انداز سے کی گئی ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ گھروں کے نیچے تختے ہیں یا پھر زمین۔ آئیے ہم آپ کو پانی پر تیرتے ان شہروں میں لئے چلتے ہیں۔۔۔
سانتا کروز ڈیل ایسلوٹ:
تصویر کو غور سے دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پانی پر زمین نہیں صرف گھر ایستادہ ہیں‘ آپ بمشکل زمین کاکوئی حصہ دیکھ سکیں گے‘ یہ شہر مکمل طور پر گھروں میں گھرا ہے ۔ کولمبیا کے ساحل سے تھوڑا دور یہ شہر آباد ہے اور اس پر 1200سے زائد افراد آباد ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے گنجان ترین جزیرہ ہے
مزید پڑھئے: روسی صدر کا اہم خطاب،امریکی دھمکیاں ہوامیں اڑادیں
جبکہ اس کاکل رقبہ 0.12مربع کلومیٹر ہے یہاں کے رہائشیوں کا ذریعہ معاش ہوٹلنگ ہے۔
گنوی:
افریقہ کا وینس کے نام سے مشہور شہر ’’گنوی‘‘بنین میں واقع ہے۔ براعظم افریقہ کے ملک بنین میں سب سے بڑا یہ شہرایک جھیل پر آباد ہے اور اس جھیل کا نام جھیل نوکئیو ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ شہرسولہویں اور سترہویں صدی کے درمیان آباد ہوا‘ اس گاؤں کی آبادی بیس سے تیس ہزار کے درمیان ہے جبکہ تین ہزار سے زائد مکانات اور عمارات اس گاؤ ں کا حصہ ہیں۔ یہاں کے رہائشیوں کا پیشہ ماہی گیری ہے جبکہ کچھ لوگ سیاحت سے بھی وابستہ ہیں۔
کو پانئی:

360سے زائد خاندانوں پر مشتمل یہ شہر جہاں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں تھائی لینڈ کے صوبے پانگ نگاہ میں واقع ہے۔ ماہی گیری کے حوالے سے پہچان رکھنے والا یہ گاؤں نما شہراس وقت آباد ہوا جب انڈونیشیا سے مسلمان ہجرت کر کے یہاں آئے ۔ 18ویں صدی میں ملاوی مسلمانوں نے یہاں سکونت اختیار کی‘یہاں ایک مسجد کے علاوہ ایک سکول بھی ہے جہاں بچے اور بچیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ گاؤں کے رہائشیوں کا بنیادی پیشہ ماہی گیری ہے جبکہ سیاحت سے بھی کئی گھرانے استفادہ کرتے ہیں۔1986ء کے فیفا ورلڈ کپ کے موقع پر یہاں کے بچوں کا بنایا ہوا فلیوٹ بھی اختتامی تقریب میں پیش کیا گیا تھا‘ اس گاؤں میں ایک تیرتا ہوا فٹ بال گراؤنڈ بھی ہے۔پانئی ایف سی جنوبی تھائی لینڈ کا سب سے مشہور فٹ بال گراؤنڈ ہے۔
کے لار یوا:

برما کی ’’انلا‘‘جھیل پرواقع یہ شہر 70ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہے‘ رہائشی بانس کے بنے لکڑی کے گھروں میں رہتے ہیں جبکہ سبزیاں اور کھانے پینے کی اشیاء بھی انہی تیرتے باغوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ 70ہزار سے زائد افرادان تیرتے گھروں میں رہائش پذیر بھی ہیں اور کام کاج بھی کرتے ہیں۔
ہالانگ خلیج:
کو پانئی کی طرح ہالانگ خلیج بھی پانی پر تیرتا ہوا شہر ہے۔اس کی آبادی 1000سے زائد افراد پر مشتمل ہے اور ان کاذریعہ معاش بھی ماہی گیری ہی ہے۔ ویت نام کا یہ شہر لوگوں کیلئے کسی جنت سے کم نہیں اگرچہ یہاں کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہیں لیکن اس کے باوجود زندگی مطمئن اور پرلطف ہے۔
میکسیکال ٹائیٹن:
’’میکسیکال نائنٹین ‘‘ میکسیکو کا پانی پر تیرتا گاؤں ہے ‘ اس گاؤں کی وجہ شہرت ایزٹک Aztecsکی ابتدا تھی مگراب اس گاؤں کی وجہ شہرت سیاحت ہے۔ میکسیکال ٹائیٹن کی کل آبادی 800سے 1000افراد پر مبنی ہے اور اس گاؤں کا رقبہ 1300فٹ ہے۔
یوروس:

یہ شہرایک جھیل ٹیٹی کاکا پر آباد ہے‘ اس شہر میں جابجاسرکنڈے اگتے ہیں‘زمانہ قدیم میں یہ سرکنڈے مقامی لوگ اپنے دفاع کے لئے استعمال کرتے تھے اور اب یہ گھروں کی تعمیر کیلئے۔ یورس کا نام یہاں مقامی باشندے کے نام پر رکھا گیا اور یہ شہر پیرو میں واقع ہے۔
ویزن:

ویزن چین میں واقع ہے‘ اس کا شمارقدیم ترین قصبوں میں ہوتا ہے۔ 12ہزار افراد کی مستقل رہائش گاہ کے علاوہ یہاں 60ہزار سے زائد افراد آباد ہیں۔ تاریخ دانوں کاکہنا ہے یہاں کی آبادی گزشتہ 7ہزارسال سے آباد ہے لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کے رہن سہن میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ یہاں کی خواتین آج بھی لکڑے کے تھڑوں پر کپڑے دھوتی ہیں اور لکڑی کے قدیم گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ یہاں کے لوگوں ہزاروں سال سے اپنے آبائی پیشے ماہی گیری سے وابستہ ہیں۔
فادیوتھ:

سینیگال کے اس گاؤں میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر جس چیز پرٹھہرتی ہے وہ سیپیاں ہیں۔ دیواریں‘ قبریں اور گھر گویاہر چیز سیپیوں سے بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ سینیگال کی 95فیصد آبادی مسلمان ہے مگر فادیوتھ میں مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے قبرستان مشترک ہیں۔ لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے جبکہ کچھ افراد سیاحت اورزراعت سے بھی وابستہ ہیں۔
ٹونگ لی اور ژوژانگ :

چین کے یہ دونوں قصبے بھی پانی پر آباد ہیں۔سوزباوشو سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع ٹونگ لی گاؤں آبی دیہاتوں میں سے ایک معروف نام ہے یہاں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے اور قدیمی اور تاریخی آبی گزرگاہوں اور ریلوں کی وجہ سے یہ مشہور ہے۔ اس میں پتھر کے بنے 49پل ہیں اور اس کے علاوہ باغات اور مندر بھی ہیں۔ دوسرا گاؤں ژوژانگ سوزہاؤ شہر سے30کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس گاؤں میں بھی نہروں کا جال بچھایا گیا ہے۔ پرانے طرز کی لکڑی کے بنائے ہوئے پل آمد و رفت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس شہر کو مشرق کا وینس بھی کہا جاتا ہے۔




















































