امیر خلیجی عرب ریاستیں شامی مہاجرین کو اپنے ہاں قبول نہ کرنے کی وجہ سے پوری دنیا میں ہدفِ تنقید بن رہی ہیں تاہم ان ریاستوں کا بحران زدہ علاقوں سے جانے والے مہاجرین کو پناہ دینے کا ابھی بھی کوئی پروگرام نہیں ہے۔نیوز ایجنسی نے اپنے ایک تازہ جائزے میں لکھا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کی چھ ریاستوں سعودی عرب، عمان، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر میں سے کسی ایک نے بھی مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے اُس کنونشن پر دستخط نہیں کیے، جس کے تحت دوسری عالمی جنگ کے بعد سیاسی پناہ کا بین الاقوامی قانون وضع کیا گیا تھا۔تین سالہ شامی بچے ایلان کُردی کی ساحلِ سمندر پر پڑی لاش کی تصویر نے دنیا بھر میں ہمدردی کی ایک لہر پیدا کر دی تھی۔ ایلان کُردی کے والد عبداللہ کُردی نے عرب ملکوں کی مہاجرین کو اپنے ہاں قبول نہ کرنے کی پالیسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا:’’مَیں یورپی ملکوں سے نہیں بلکہ عرب حکومتوں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ میرے بچوں کے ساتھ کیا ہوا اور اسے سامنے رکھتے ہوئے وہ ہمارے لوگوں کی مدد کریں۔‘‘عبداللہ کُردی کے مطابق وہ گزشتہ ہفتے سرحد عبور کر کے واپس شام میں داخل ہوا تھا تاکہ چھوٹے ایلان کے ساتھ ساتھ اُس کے بڑے پانچ سالہ بھائی اور اُن کی والدہ کو بھی شامی سرزمین پر سپردِ خاک کر سکے۔خلیجی عرب ریاستوں کا موقف یہ ہے کہ ایک طرح سے وہ شام میں 2011ء میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اب تک لاکھوں شامیوں کو اپنے ہاں ’پناہ‘ دی ہے، نصف ملین کو سعودی عرب میں اور ایک لاکھ کو متحدہ عرب امارات میں لیکن مہاجرین کے طور پر نہیں بلکہ مہمان مزدوروں کے طور پر، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں اُن کیا قیام عارضی نوعیت کا ہو گا۔ ساتھ ہی شرط یہ ہے کہ وہاں اُنہیں پہلے سے یا تو کوئی ملازمت ملنے کا امکان ہو یا پھر وہ وہاں پہلے سے موجود اپنے خاندان کے کسی فرد کے ہاں قیام کریں۔خلیجی عرب ریاستوں کا یہ بھی اصرار ہے کہ وہ کروڑوں ڈالر کی رقوم امداد کے طور پر دیتے ہیں۔ تاہم ترکِ وطن اور ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے پیٹر سدرلینڈ کے مطابق اس طرح پیسہ
دے کر خود کو بچا لینا ہرگز اطمینان بخش نہیں ہے۔ اُنہوں نے گزشتہ ہفتے جنیوا میں ایک نیوزکانفرنس میں مزید کہا تھا:’’مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کرنا پیسہ دینے سے ایک الگ عمل ہے۔‘‘
خلیجی عرب ریاستوں کو خدشہ ہے کہ مہاجرین اور خصوصاً عرب مہاجرین کو پناہ دینے سے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ خصوصاً عرب مہاجرین کے حوالے سے انہیں خدشہ ہے کہ یہ خلیجی ملکوں میں مستقل طور پر آباد ہو جائیں گے اور پھر وسیع تر بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے لگیں گے جبکہ مہمان مزدور کے طور پر اُنہیں ایسےحقوق دیے جانے کی کوئیی توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔
شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے گریز،خلیجی و عرب ممالک کو اصل میں خدشہ کیا ہے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے



















































