اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مشہور امریکی بزنس مین مارک کیوبن جب 12 سال کے تھے تو کوڑا ڈالنے والے لفافے بیچا کرتے تھے اور ان کے بدلے چند سکے کمایا کرتے تھے، مگر آج وہ ارب پتی ہیں۔ مارک کیوبن نے بے پناہ غربت سے بے حساب دولت تک کا سفر کیسے طے کیا؟ وہ کہتے ہیں کہ دولت کمانے کیلئے آپ کو کسی امیر خاندان کا چشم و چراغ ہونے یا اپنا ضمیر بیچنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ تخلیقی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے۔ مارک اپنے مقبول عام بلاگ پر لکھتے ہیں کہ مثال کے طور پر وہ سکولوں اور کالجوں کے طلباءکو اپنے اخراجات کیلئے رقم کمانے کے دو آسان گر بتاتے ہیں۔
پہلا گر یہ ہے کہ آپ رنگ برنگے اچھی قسم کے تسمے بیچیں۔ آپ یہ تسمے لے کر کسی بھی فٹ بال میچ والی جگہ جائیں اور پھر دیکھیں یہ کیسے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ بتاتے ہیں کہ دوسرا گُر ٹی وی ریموٹ کی پروگرامنگ ہے۔ یہ کام آپ کو سیکھنا پڑے گام، لیکن اسے سیکھنے کے بعد آپ کسی بھی ریموٹ کو ہر قسم کے ٹی وی کیلئے قابل استعمال بناسکتے ہیں۔ آپ کو بس یہ کرنا ہے کہ اپنا کارڈ چھپوائیں اور ریموٹ بیچنے والی دکانوں پر رکھوادیں۔ دکاندار اگر گاہک کو آپ کے پاس بھیجیں گے تو ان کے گاہک بھی خوش رہیں گے اور آپ بھی اچھی کمائی کرلیں گے۔
مارک کہتے ہیں کہ یہ محض دو مثالیں ہیں، ان کا اصل پیغام یہ ہے کہ آپ کچھ منفرد سوچیں اور اس پر محنت کریں تو دولت کمانا قطعاً ناممکن کام نہیں ہے۔



















































