’’ کسی بھی معاشرے میں سپاہی ہیرو ہوتے ہیں اور وہ انہیں محض ’’قاتل‘‘ کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے‘جنگجو اورقاتل میں یہی فرق ہوتا ہے کہ وہ احساس ذمے داری نبھاتے ہوئے کام کرتا ہے جبکہ قاتل صرف اذیت پسند جذبے کی تسکین کے لئے دوسروں کی جان لیتا ہے‘ سپاہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشرتی اقدار کا احترام کرے جن کی وجہ سے وہ ملکی دفاع کی اہم ذمہ دار ی نبھانے کے لئے تیار ہوا ‘ ‘

پائلٹ نے کاک پٹ سے فضاء میں نظر اٹھا کر دیکھا ا سکے جسم میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی ۔ اس نے سرجھٹک کر اس امید سے اسی سمت میں دوبارہ دیکھا کہ یہ منظر شاید اس کا وہم ہی ہو‘ اس کا ساتھی پائلٹ بھی اسی سمت دیکھ رہا تھا اور تھرائی ہوئی آواز میں اس نے یہ کہہ کر اندیشوں کے حقیقت ہونے کی تصدیق کرڈالی ’’ میرے خدا! یہ بھیانک خواب ہے ‘‘ پہلے پائلٹ نے اس کی تائید ان الفاظ میں کی’’ یہ ہمیں تباہ کر ڈالے گا‘‘۔
یہ دونوں پائل ٹایک جرمن میشمٹ لڑاکا طیارے کی طرف دیکھ رہے تھے جو ان کے طیارے سے چند فٹ کی بلندی پر موت بن کر منڈلا رہا تھا۔ یہ 1943ء کی کرسمس سے صرف پانچ دن پہلے کا واقعہ ہے جب جرمن لڑاکا طیارے امریکی بمبار طیارے بی17پر پوری طرح نشانہ تاک چکے تھے۔
بی17طیارے کا پائلٹ چارلی براؤن اس وقت اکیس سال کا ایک نوجوان تھا جو اپنے پہلے جنگی محاذ پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ مشن پر آنے والے بمبار طیارے مدمقابل طیارے تباہ ہو چکے تھے اور وہ اکیلا ہی دشمن ملک جرمنی کی فضاؤں میں تھا۔ اس جہاز کا آدھا عملہ شدید زخمی تھا‘ جہاز کی دم کی جانب لگی مشین گن پر ڈیوٹی انجام دینے والا سپاہی مر چکا تھا اور اس کا خون مشین گن پر جما ہوا تھا‘ اس ہنگامہ خیزی میں جب براؤن اور اس کے ساتھی پائلٹ اسپینسر کو اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی ایک اور حیرت انگیز صورتحال نے جنم لیا۔ جرمن طیارے کے پائلٹ نے سر سے اشارہ کیا اور ان کے طیارے پر نشانہ لگانے کے بجائے انہیں جانے کا اشارہ کیا بعدازاں یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ میں پیش آنے والے جوانمردی کے حیرت انگیز ترین واقعات میں شمار کیاگیا۔ دہائیوں بعد براؤن نے جرمن طیارے کے پائلٹ کو تلاش کیا اور جب یہ دونوں ملے تو اس واقعے کو یاد کر کے آب دیدہ ہوگئے۔
مزیدپڑھیئے:نیب سے بچنے کیلئے متحرک،اہم رابطے
جنگی داستانوں میں لوگ بہادری فتح اور دلیری کے حیرت انگیز واقعات اور دشمن کی پسپائی اور ہزیمت سے بھرپور قصے سننا چاہتے ہیں لیکن اپنے مدمقابل کے لئے انسانی جذبات اور ہمدردانہ سلوک جنگوں کی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ ماضی میں کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جب مد مقابل سپاہیوں نے اپنی جان پر کھیل کر اپنے جانی دشمن کی زندگی بچائی اور ایسا بھی ہوا کہ خون کے پیاسے جنگ کی گرد چھٹنے کے بعد جگری دوست بن گئے۔ کیا ایسی بہادری اور انسانی ہمدردی کی توقع دہشت گردی اور ڈرون حملوں کے اس دو ر میں کی جا سکتی ہے؟
ایسے ہی سوال براؤن نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں اٹھائے ہیں۔ براؤن اسی امریکی طیارے کے پائلٹ ہیں جسے جرمن حریف طیارے نے زندگی کا پروانہ دیا تھا۔ اس واقعے کی بازگشت گزشتہ پچاس برسوں تک اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں ان دو پائلٹوں کی کہانی غیر معمولی ضرور ہے مگر جنگوں کی تاریخ میں یہ کوئی پہلا یا منفرد واقعہ نہیں۔ جنگ عظیم اول اور دوم میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے جب مدمقابل افواج کے سپاہیوں نے اپنی دشمن فوج کے کسی سپاہی کو بچانے کیلئے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمن اور برطانوی سپاہیوں کی ملاقاتوں بلکہ ایک ساتھ چھٹیاں گزارنے کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ ایک معروف امریکی جنرل نے ویت نام جا کر اس شخص سے ملاقات کی جس نے اس کی پوری بٹالین کا صفایا کر دیا تھا‘ وہ دونوں ملے اور جگری دوستوں کی طرح وقت گزارا۔
جنگی امور کے ماہرین اور خود فوجی اسے جنگ جوؤں کا دستور قرار دیتے ہیں۔ اپنی کتاب”The Code of the Warrior”میں امریکی افواج کو جنگی ضابطوں کے حوالے سے تربیت دینے والی مشین ای فرینچ نے لکھا’’ایک جنگ جو اور سیرئیل کلر میں یہی فرق ہوتا ہے کہ وہ اپنے احساس ذمے داری کے فرض نبھاتے ہوئے اپنا کام کرتا ہے جبکہ سیرئیل کلر صرف اذیت پسندی کے جذبے کی تسکین کے لئے دوسروں کی جان لیتا ہے۔ سپاہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشرتی اقدار کا احترام کرے‘ وہ اقدار جو اس کی پرورش کرتے ہوئے اسے سکھائی گئیں اور جن کی وجہ سے وہ اپنے ملک کے دفاع کی اہم ذمہ دار ی نبھانے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ ہر معاشرہ اپنے سپاہیوں کو اپنا دفاع کرنے والوں کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے اور انہیں اپنی تہذیبی اور ثقافتی خوبیوں کا نمائندہ تصور کرتا ہے‘ کسی بھی معاشرے میں سپاہی ہیرو ہوتے ہیں اور وہ انہیں محض ’’قاتل‘‘ کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے‘‘۔
واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ اسٹگلر ائیر بیس پر اپنے طیارے کے پاس کھڑے تھے کہ انہیں ایک بمبار جہاز کے انجن کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے فضا میں دیکھا تو وہ ایک بی17امریکی طیارہ تھا جو بہت نچلی پرواز کررہا تھا۔ یہ طیارہ بمباری کے ساتھ ساتھ فوج کی نقل و حرکت اور فضائی و زمینی لڑائی کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسی لئے ایک خطرناک ہتھیار تصور کیا جاتا تھا۔ پہلے تو اسٹگلر کو محسوس ہوا کہ طیارہ لینڈ کررہا ہے لیکن پھر طیارہ کچھ دور جا کر درختوں کے جھنڈ کے پیچھے غائب ہوگیا ۔اسٹگلرنے سگریٹ پرے پھینکی‘ اپنے کریومین کو اشارہ کیا اور امریکی طیارے کے تعاقب کے لئے اڑان بھری۔ اسٹگلر نے جلد ہی امریکی طیارے کو جالیا ۔انہوں نے طیارے کے عقب سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہیبت ناک شور کے ساتھ اڑنے والے بی17کا نشانہ باندھا اور اپنا ہاتھ ٹریگر پر رکھ دیا‘ وہ فائر کرنے ہی والے تھے کہ رک گئے۔ وہ حیران تھے کہ وہ طیارے کے اتنے قریب ہیں لیکن اس کے باوجود ان پر طیارے سے کوئی فائر نہیں کیاگیا۔ انہوں نے طیارے کے ٹیل گنر کی جانب دیکھا جو اپنی خون آلووردی میں وہی پڑا ہوا تھا۔ اسٹگلرنے گردن اوپر اٹھا کر طیارے کاجائزہ لینا شروع کیا‘ انہیں باآسانی نظر آ رہا تھا کہ طیار ے میں زخمی افراد موجود ہیں اور ان کے دیگر ساتھی مرہم پٹی کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس کے بعد وہ اپنا جہاز بی17 کے پروں کی جانب لے آئے اور پائلٹ کی طرف دیکھا ‘خوف اور وحشت امریکی طیارے کے پائلٹ کی آنکھوں سے عیاں تھی۔ اسٹگلر نے ٹریگر سے اپنی انگلی ہٹا دی اور فیصلہ کیاکہ وہ حملہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ تو صریحاً قتل ہوگا۔ اسٹگلر کے دل میں اس دن کسی جذبہ انتقام نے جنم نہیں لیا‘ وہ کچھ ضابطوں کی پابندی کرنے والے انسان تھے‘ ان کا خاندانی تعلق سولہویں صدی کے یورپی سورماؤں سے تھا ‘وہ ایک عیسائی مبلغ کے طورپر تعلیم بھی حاصل کر چکے تھے۔ اس خطرے کے باوجود کہ نازی جرمنی میں ایک امریکی طیارے کو چھوڑ دینے کی سزا موت بھی ہو سکتی تھی اسٹگلرنے یہ مشکل فیصلہ کیا ۔اس وقت ان کے کانوں میں اپنے کمانڈنگ آفیسر کی آواز بھی گونج رہی تھی جنگ کے اصول تمہارے لئے ہیں تمہارے دشمنوں کے لئے نہیں‘ تم اصولوں پر قائم رہ کر لڑتے ہوتا کہ تم میں انسانیت قائم رہے۔ تباہ حال بمبار طیارے کو جانے کا اشارہ کرنے کے بعد اسٹگلر اسے جرمن طیارہ شکن توپوں سے بچانے کے لئے طیارے کے ساتھ فارمیشن بنا کر چلنے لگے کیونکہ خفیہ مشن انجام دینے کے لئے خود جرمنی نے بی17طیارے بنا رکھے تھے۔ اس سے انہیں یہ تاثر ملا کہ یہ کسی خفیہ مشن پر جانے والا طیارہ ہے۔ نارتھ سی تک اسٹگلر امریکی طیارے کوچھوڑنے کے لئے آئے اور جاتے جاتے آخری بار دشمن ملک کے طیارے کی جانب دیکھا ۔اسے سلوٹ کیا اور اپنا رخ دوبارہ اپنے ہوائی اڈے کی جانب کرلیا’’خدا کے حوالے‘‘ کہہ کر اسٹگلرنے طیارے کی رفتار بڑھادی۔
اسٹگلر کہتے ہیں جب انہوں نے پہلی بار امریکی طیارے کے پائلٹ کی جانب دیکھا تو اپنے زخمی ساتھیوں اور طیارہ متاثر ہونے کی وجہ سے اس کے چہرے پر پریشانی اور خوف کے آثار نمایاں تھے جسے دیکھ کر انہیں رحم آ گیا۔ میدان جنگ میں یہ احساس ہمدردی اکثر چھوٹے چھوٹے واقعات کے باعث جاگ اٹھتا ہے ۔کسی زخمی کو کراہتے ہوئے دیکھ کر ‘کسی ہم زبان کی فریاد سن کر یا کسی دشمن سپاہی کی جیب سے نکلنے والے بٹوے میں اس کے اہل خانہ کی تصاویر دیکھ کر دل نرم پڑ جاتا ہے۔
دشمنوں کے لئے احترام انسانیت کااظہار اس تربیت پر منحصر ہے جو اعلیٰ افسران اپنی فوج کو دیتے ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں جرمنی کے عظیم ترین کمانڈر تصور کئے جانے والے فیلڈ مارشل ارون رومیل نے اس کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ انہیں ’’صحرائی لومڑی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ ایک بار برطانوی کمانڈوز نے شمالی افریقہ کے صحرا میں رومیل کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں وہ ناکام رہے۔ رومیل نے خود کو قتل کرنے کیلئے آنے والے کمانڈوز میں سے مارے جانے والوں کو اسی قبرستان میں دفن کروایا جہاں اس مشن کو ناکام بنانے والے جرمن سپاہیوں کی تدفین ہوئی تھی۔
’’کلنگ رومیل‘‘ کے نام سے اس مہم پر کتاب لکھنے والے پریس فیلڈ کہتے ہیں کہ مشرقی محاذ اس قدر گرم تھا کہ مقابل فوجیں ایک دوسرے سے نفرت کرتی تھیں‘ ایسے حالات میں جنگ کے ایک بنیادی اصول پر کاربند رہنا تعجب خیز ہے۔ اسی طرح افریقی صحراؤں میں ہونے والی لڑرائیوں میں قیدی بننے والوں کو بھی جرمن فوج کی جانب سے اچھے برتاؤ کا سامنا رہا۔ جرمن اور برطانوی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتے تھے۔ اسی سلوک کی وجہ سے جنگ ختم ہونے کے بعد کتنے ہی جرمن اور برطانوی فوجی ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے۔ پریس فیلڈ کہتے ہیں کہ ایک اچھا سپاہی لڑائی کے دوران اور بعد میں یہ بات ذہن میں رکھتا ہے کہ اس کے مدمقابل بھی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنے فرائض انجام دے رہا ہے اس لئے وہ اس کی قدر کرتا ہے۔
اب دوبار ہ اپنی کہانی کی طرف لوٹتے ہیں۔ دسمبر کے اس دن جب جرمن طیارے نے امریکی طیارے کو نشانہ بنائے بغیر جانے دیا امریکی طیارے کے پائلٹ براؤن دشمنوں کے مابین تعلق کی فلسفیانہ توجیہات پر غور و فکر نہیں کررہے تھے بلکہ انہیں تو بچ جانے کی خوشی تھی۔ وہ برطانیہ میں اپنے اڈے پر اترے تو طیارے میں بہت کم ایندھن باقی تھا ‘طیارہ لینڈ کرنے کے بعد براؤن نے سکھ کا سانس لیا اور تھوڑی دیر کے لئے اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور اپنی جیب میں رکھی ہوئی بائبل پر ہاتھ رکھ کر ایک لمبا سانس لیا۔
مزید پڑھئے:انڈے سے زردی کے بجائے ایک اور انڈا نکل آیا
جنگ ختم ہونے تک براؤن نے کئی اور مشن بھی سرانجام دئیے ‘زندگی کے دن گزرتے گئے‘ براؤن کی شادی ہو گئی‘ ان کے گھر میں دو بیٹیوں کی پیدائش ہوئی‘ انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کے خصوصی مشنز پر جنگ ویتنام میں ذمہ داریاں ادا کیں اور پھر ریٹائرڈ ہو کر فلوریڈا میں رہنے لگے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اس واقعہ کے بارے میں ڈراؤ نے خواب آنے لگے۔ ان خوابوں میں دشمن کے رحم کا منظر نہیں تھا بلکہ خواب میں طیارہ کریش ہونے کے منظر پر ان کی آنکھ کھل جاتی تھی۔ اس کے بعد براؤن نے اس جرمن پائلٹ کی تلاش شروع کر دی ‘وہ کون تھا؟ اور اس نے کیوں میری جان بچائی؟ ان سوالوں کا جواب ان کی زندگی کا مشن بن گیا۔ انہوں نے امریکی اور برطانوی فوج کے آرکائیووز کی چھان بین شروع کی ۔ آخر کار انہوں نے ایک جرمن اخبار میں اشتہار دیا جس میں اپنی پوری کہانی بیان کی اور اس پائلٹ سے ملنے کی درخواست بھی شائع کی۔ 18جنوری1990ء کو براؤن کو ایک خط موصول ہوا یہ اسٹگلر کا خط تھا۔ اسٹگلر جنگ کے بعد جرمنی چھوڑ کر وینکوئر برطانیہ منتقل ہو چکے تھے اور ایک کامیاب بزنس مین بن چکے تھے۔ خط میں اسٹگلر نے براؤن کو یہ اطلاع بھی دی کہ وہ اگلی گرمیوں میں فلوریڈا آ رہے ہیں’’ یقیناًیہ ایک اچھا موقع ہوگا جب ہم مل کر اس اچھوتے واقعے پر بات کریں گے۔‘‘
براؤن یہ خط دیکھ کر جذباتی ہو گئے اور اب انتظار کا ایک ایک لمحہ پہاڑ معلوم ہونے لگا ‘انہوں نے وینکوئر میں اسٹگلر کا نمبر تلاش کیا‘ نمبر ڈائل کیا دوسری جانب اسٹگلر تھے۔ براؤن نے آواز سنتے ہی کہا ’’خدایا! اسٹگلر یہ تم ہو‘‘ یہ کہتے ہوئے براؤن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ بعد میں براؤن نے اسٹگلر کو خط لکھا جس میں اس طیارے پر سوار فوجیوں ان کے خاندان والوں کی جانب سے شکریہ ادا کیاگیا۔ فضاؤں میں ایک دوسرے کے سامنے آنے والے یہ دونوں پائلٹ فلوریڈا کے ہوٹل میں دوبارہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ براؤن کے ایک دوست نے اس موقع کی ریکارڈنگ کا اہتمام کیا۔ بعدازاں اس کہانی کو ایڈم میکوس نامی مصنف نے ایک کتاب”The Higher Call” تصنیف کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو یہ کتاب ارسال کی۔ اسٹگلر نے براؤن کو جو کاپی بھیجی اس پر یہ الفاظ درج تھے۔
’’1940 میں میں نے اپنا اکلوتا بھائی جنگ میں کھو دیا تھا‘ 20دسمبر کو کرسمس سے صرف چار دن پہلے مجھے ایک تباہ حال امریکی طیارے بی17 کو تباہی سے بچانے کا موقع ملا مجھے تعجب تھا کہ یہ طیارہ اتنی تباہی کے باوجود کیسے اڑ رہا تھا‘‘اس کا پائلٹ چارلی براؤن مجھے میرے بھائی کی طرح عزیز ہے جسے میں نے جنگ میں کھو دیا تھا‘‘۔
کتاب کے مصنف میکوس کہتے ہیں کہ’’اسٹگلر نے جب جنگ عظیم دوم میں بہت کچھ کھویا تھا جنگ کے بعد ان کے کئی ہم وطن ملک چھو ڑکر چلے گئے۔ جرمن فضائیہ میں اس وقت28ہزار لڑاکا پائلٹ تھے جن میں سے صرف12 سوہی زندہ بچ سکے۔ اس تباہی اور بربادی کے بعد اسٹگلر کے پاس چارلی براؤن کے ساتھ ہمدردانہ سلوک ایک ایسا واقعہ تھا جس پر وہ فخر کر سکتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ انہوں نے فضائیہ سے فراغت کے بعد بھی ایک پرسکون زندگی گزاری‘‘۔
یہ کہانی بہت کچھ بتاتی ہے۔ طاقت کے نشے میں چور عالمی طاقتیں انسانی آبادیوں کو روند کر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کبھی کامیاب تو کبھی ناکام ہو جاتی ہیں لیکن اس مقصد کے لئے لڑنے والے سپاہی جو کسی بھی قوم کے مخلص ترین لوگ ہوتے ہیں بہرحال ہوتے تو انسان ہی ہیں‘ وہ اپنی حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کر سکتے ‘ صرف احکامات پر عمل کرتے ہیں لیکن بہتا خون لاشیں اور راکھ ہوتی آبادیاں ان کے دل و دماغ کو جھنجوڑ دیتی ہیں۔ اپنے وفادار سپاہیوں کے ساتھ یہ ظلم ہرمنہ زور طاقت نے کیا ہے۔ دوسروں پر ہونے والا ظلم تو نظر آتا ہے لیکن اپنو ں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا تخمینہ کم ہی لگایا جاتا ہے۔ جنگ اور امن دونوں ہی حقیقتیں ہیں ۔ان سے چشم پوشی ممکن نہیں دونوں مستقل نہیں ہو سکتیں لیکن ہتھیار اٹھانے کا حکم دینے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سپاہی بھی انسان ہوتا ہے!!



















































